کراچی ایک ایسا شہر ہے جہاں حادثات اب معمول بنتے جا رہے ہیں، مگر بعض واقعات ایسے ہوتے ہیں جو محض حادثہ کہہ کر نظرانداز نہیں کیے جا سکتے۔ ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ اور راشد منہاس روڈ پر قائم آرجے مال میں پیش آنے والی ہولناک آتشزدگی کے واقعات نے کئی سنجیدہ سوالات کو جنم دیا ہے۔ دلچسپ اور تشویشناک امر یہ ہے کہ گل پلازہ اور آرجے مال دونوں ہی شہر کے معروف بلڈر رفیق جاپان والا کے منصوبے تھے۔ رفیق جاپان والا نہ صرف ان عمارتوں کے خالق تھے بلکہ گل پلازہ مینجمنٹ کے سرپرستِ اعلیٰ بھی رہے۔ چند سال قبل ان کے انتقال کے بعد اچانک ان کے منصوبوں میں یکے بعد دیگرے آتشزدگی کے واقعات پیش آنا محض اتفاق ہے یا اس کے پیچھے کوئی گہری وجہ پوشیدہ ہے؟ یہ ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ حال ہی میں گل پلازہ میں لگنے والی تیسرے درجے کی آگ کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 تک جا پہنچی، جبکہ دھویں کے باعث متعدد افراد بے ہوش ہو گئے جنہیں اسپتال منتقل کرنا پڑا۔ آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ عمارت کے دو حصے منہدم ہو گئے، پلرز کمزور پڑ گئے اور اب پوری عمارت کے گرنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک عمارت تک محدود نہیں بلکہ اردگرد کے علاقوں کے لیے بھی شدید خطرہ بن چکی ہے۔ انتہائی افسوسناک پہلو یہ ہے کہ گل پلازہ سے متصل ڈپٹی کمشنر ساؤتھ کا دفتر واقع ہے۔ اس کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی جانب سے فوری اور مؤثر کارروائی کیوں نہ کی گئی؟ کیا انسانی جانوں کی قیمت اتنی کم ہو چکی ہے کہ خطرات واضح ہونے کے باوجود بروقت اقدامات ضروری نہیں سمجھے جاتے؟ اسی طرح نومبر 2023 میں راشد منہاس روڈ پر واقع رفیق جاپان والے کے آرجے شاپنگ مال میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی کو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس واقعے میں عمارت میں پھنسے افراد شدید متاثر ہوئے اور متعدد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ اس وقت بھی فائر سیفٹی انتظامات، ایمرجنسی اخراج کے راستوں اور متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سنگین سوالات اٹھے تھے، مگر افسوس کہ ان سوالات کے جواب آج تک عملی اقدامات کی صورت میں سامنے نہیں آ سکے۔ یہ دونوں واقعات اس تلخ حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ کراچی میں تجارتی عمارتوں کی تعمیر، ان کی دیکھ بھال، اور فائر سیفٹی قوانین پر عملدرآمد محض کاغذی کارروائی بن چکا ہے۔ جب تک ہر حادثے کے بعد ذمہ داران کا تعین، شفاف تحقیقات اور سخت قانونی کارروائی عمل میں نہیں لائی جائے گی، ایسے سانحات بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ گل پلازہ اور آرجے مال جیسے واقعات کو محض خبری سرخیوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں ایک وارننگ سمجھا جائے۔ انسانی جانوں کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے، اور اگر آج بھی غفلت کا سلسلہ نہ رکا تو کل یہ سوالیہ نشان پورے شہر کے ماتھے پر ایک بدنما داغ بن جائے گا۔
بلڈر انتقال کے بعد گل پلازہ اور آرجے مال میں یکے بعد دیگرے آتشزدگیاں ۔۔ محض حادثات یا کچھ اور ؟شاہ ولی اللہ جنیدی کی ر پورٹ
ایڈیٹر16 Views

