کراچی : 33 گھنٹوں پر محیط کوششوں کے بعد صوبائی دارالحکومت کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا ہے جس کے بعد اب عمارت کی کولنگ کا عمل اور لاپتہ افراد کی تلاش کا کام جاری ہے۔
دوسری جانب حکام نے اب تک اس واقعے میں 14 افراد کی ہلاکت جبکہ 65 سے زائد افراد کے لاپتا ہونے کی تصدیق کی ہے، جن کی تلاش کا کام جاری ہے۔ ہلاک ہونے والوں میں کراچی میٹرو پولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا ایک فائر فائٹر بھی شامل ہے۔
اتوار کی شب میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضی وہاب نے بتایا کہ کولنگ کے عمل کے دوران بھی پلازے کے کچھ حصوں میں آگ کے شعلے دوبارہ بھڑک اٹھے تھے تاہم اب ریسکیو اہلکار پلازے کے اندر جانے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
اُن کے بقول تاحال 65 افراد کے لواحقین نے حکام سے رابطہ کر کے بتایا ہے کہ اُن کے پیاروں کا کچھ پتا نہیں چل رہا ہے۔
واضح رہے کہ سنیچر کی شب کراچی کے علاقے صدر میں واقع گُل پلازہ میں اچانک آگ بھڑک اُٹھی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے پلازے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ اس پلازے میں جیولری، گھریلو اشیا، کمبل، قالین، بیگز، کراکری اور دیگر مصنوعات کی سینکڑوں دکانیں تھیں۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے مطابق پاکستان میں شادیوں کے سیزن اور ویک اینڈ کی وجہ سے سنیچر کی شب پلازے میں بہت رش تھا، جس کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔
گل پلازہ ایک تین منزلہ عمارت ہے جس میں بیسمنٹ میں موجود تھی جبکہ یہاں تقریباً ایک ہزار سے زائد چھوٹی بڑی دکانیں تھیں۔
مراد علی شاہ کے مطابق ابتدا میں ’فائر فائٹرز کو اندر جانے کی جگہ نہیں مل رہی تھی، جس کی وجہ سے نقصانات میں اضافہ ہوا۔‘
فیس بک کمینٹ

