آج سے اڑھائی ہزار سال پہلے کا ذکر ہے دو ریاستیں ہوا کرتی تھیں، ایتھنز اور سپارٹا۔ ایتھنز والے جمہوریت کے بانی تھے، فنونِ لطیفہ کے دلدادہ تھے اور فلسفہ اُن کا اوڑھنا بچھونا تھا لیکن بہرحال وہ ایک بدمعاش ریاست تھی۔ دوسری طرف سپارٹا والے تھے جو قدامت پسند تھے، اُن کے ہاں اشرافیہ کی حکومت تھی اور ملک میں فوجی تربیت بچپن سے لازمی تھی۔ اِن دونوں ریاستوں کے درمیان جنگ کا سا ماحول رہتا تھا، ایتھنز کی ریاست طاقتور ہو رہی تھی اور سپارٹا والوں کا خیال تھا کہ یہ طاقت اُن کے خلاف استعمال ہوگی۔ ایتھنز اور سپارٹا کے بیچ میں ایک چھوٹا سا جزیرہ تھا جس کا نام میلوس تھا، میلوس والے شریف لوگ تھے اور وہ کسی جھگڑے میں نہیں الجھنا چاہتے تھے، خاص طور سے اِن دو بدمعاشوں کی جنگ میں تو وہ بالکل غیرجانبدار رہنا چاہتے تھے لیکن بعض اوقات آپ چاہ کر بھی نیوٹرل نہیں ہو سکتے۔ اِس قضیے میں ایتھنز کا موقف تھا کہ نیوٹرل تو جانور ہوتا ہے، ایتھنز کی نظر میں میلاس کی غیر جانبداری ایک خطرہ تھی کیونکہ اگر ایک چھوٹا سا جزیرہ اُن کے سامنے سر نہ جھکاتا تو نہ صرف سپارٹا کے مقابلے میں اُن کی سُبکی ہوتی بلکہ اُن کی سلطنت کے دیگر علاقے بھی بغاوت کی جرات کر سکتے تھے۔ اسی لیے ایتھنز کے ایلچی جب میلوس پہنچے تو انہوں نے کوئی لگی لپٹی بات نہیں کی اور وہی کہا جو جارج بُش نے 9/11 کے بعد ہم جیسے غریبوں کو کہا تھا کہ آیا آپ اِس جنگ میں ہمارے ساتھ ہیں یا پھر ہمارے خلاف ہیں۔ ایلچی نے یہی بات ایک اور انداز میں کہی: ”ہم یہاں انصاف یا حق و باطل پر بحث کرنے نہیں آئے۔ ہم سادہ سا اصول بیان کرنے آئے ہیں کہ ہم طاقتور ہیں اور تم کمزور۔ باقی تم خود سمجھدار ہو۔“ ایتھنز کے جرنیلوں کے یہ جملے تاریخ کا حصہ ہیں: ”تم بھی جانتے ہو اور ہم بھی کہ انسانی معاملات میں انصاف کا سوال صرف برابر کی طاقت رکھنے والوں کے درمیان اٹھتا ہے ورنہ حقیقت یہی ہے کہ طاقتور وہ سب کچھ کرتا ہے جو وہ کر سکتا ہے اور کمزور کو وہ سب کچھ سہنا پڑتا ہے جو اسے سہنا ہے۔“ اِن دو جملوں نے سفارت کاری کی دھجیاں اُڑا دیں اور اخلاقی اقدار کو سربازار برہنہ کر دیا۔
میلوس کے لوگ چونکہ ’لڑکی والے تھے‘ اِس لیے جواب میں اُن بیچاروں نے منمناتے ہوئے اخلاقی اور منطقی دلیل پیش کی اور کہا کہ حضور کا اقبال بلند ہو، اگر آپ انصاف کے اصولوں کو ختم کر دیں گے تو ایک دن جب آپ خود کمزور ہوں گے تو آپ کو بھی انصاف نہیں ملے گا۔ انہوں نے یہ عذر پیش کیا کہ وہ غیر جانبدار ہیں اور ایتھنز کے دشمن نہیں لہٰذا اُن پر حملہ کرنا بلاوجہ کی دشمنی مول لینا ہے۔ میلوس والوں نے اپنی امید کا سہارا تین باتوں پر رکھا، دیوتاؤں کی مدد، سپارٹا سے کمک ملنا اور آزادی کی قدر۔ انہوں نے کہا کہ غلام بن کر جینے سے بہتر ہے کہ ہم اپنی آزادی کی حفاظت میں لڑ کر مر جائیں۔ ایتھنز کے نمائندوں نے میلوس کے باسیوں کی باتوں کا ٹھٹھا اڑایا اور جواباً کہا کہ دیوتا بھی اسی کی مدد کرتے ہیں جو طاقتور ہو۔ سپارٹا کے بارے میں ایتھنز والوں نے کہا کہ سپارٹا والے اپنے ذاتی مفاد کے لیے تو بہت بہادر ہیں لیکن تمہارے لیے وہ اپنی جان کبھی خطرے میں نہیں ڈالیں گے اِلّا یہ کہ اُن کا براہِ راست فائدہ ہو۔ امید کے بارے میں ایتھنز کے نمائندوں نے کہا کہ ”امید ایک مہنگی عیاشی ہے، یہ اُن لوگوں کو تباہ کر دیتی ہے جن کے پاس کھونے کے لیے بہت کچھ ہو لیکن بچانے کے لیے وسائل نہ ہوں“۔ ایتھنز نے میلوس کو آخری وارننگ دی کہ وہ جذباتیت چھوڑ کر عقل سے کام لیں لیکن میلوس کے رہنماؤں نے اپنی غیرت اور آزادی پر سمجھوتہ کرنے سے انکار کر دیا۔ انہوں نے جواب دیا: ”ہم سات سو سال سے آزاد چلے آ رہے ہیں اور ہم اتنی جلدی اپنی آزادی کا سودا نہیں کریں گے۔“ تاریخ بتاتی ہے کہ اس مکالمے کے ختم ہوتے ہی جنگ شروع ہوگئی۔ ایتھنز نے میلوس کا محاصرہ کر لیا، میلوس والوں نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا لیکن سپارٹا کی طرف سے کوئی مدد نہ آئی۔ بالآخر میلوس کو ہتھیار ڈالنے پڑے، پھر ایتھنز نے وہی کیا جو اُس زمانے میں ایسے موقعوں پر کیا جاتا تھا۔ انہوں نے میلوس کے تمام بالغ مردوں کو قتل کر دیا، عورتوں اور بچوں کو غلام بنا کر بیچ دیا، اور وہاں اپنی نوآبادی قائم کر لی۔
ایتھنز اور میلوس کے درمیان ہونے والے ’مذاکرات‘ کو تاریخ میں میلیان ڈائیلاگ‘ کہا جاتا ہے۔ جو باتیں اِن مذاکرات میں کی گئیں وہ اڑھائی ہزار سال گزرنے کے باوجود آج بھی سیاست میں اسی ڈھٹائی کے ساتھ رائج ہیں۔ بولے تو، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس۔
دور کیوں جائیں، جمعہ جمعہ آٹھ دن نہیں ہوئے ابھی صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اُس کی بیوی سمیت صدارتی محل سے یوں اٹھایا ہے جیسے ’ائیر فورس ون‘ کے پہلے منظر میں امریکی فوجی قازکستان کے صدر کو اٹھاتے ہیں۔ لیکن طاقت کا یہ اصول تو ازل سے طے ہے اور ابد تک رہے گا، جو بات طے نہیں ہے وہ یہ ہے کہ برہنہ طاقت سے لڑا جائے یا بغیر لڑے سر جھکا دیا جائے، خاص طور سے اُس صورت میں جب کمزور گروہ حق پر ہو۔ میلوس والوں کا اِس کے علاوہ اور کوئی قصور نہیں تھا کہ وہ فوجی اعتبار سے کمزور تھے، اُن کے پاس ایٹم بم نہیں تھا، نشانہ تاک کر مارنے والے میزائل نہیں تھے اور جدید لڑاکا طیارے نہیں تھے۔ ایسی صورتحال میں کیا اُن سے حکمت عملی کی غلطی ہوئی کہ انہوں نے ایتھنز والے کی بیعت کرنے سے انکار کیا؟ آخر انہیں کیا حاصل ہوا؟ سب کی گردنیں اتاری گئیں، عورتیں دشمن کے تصرف میں چلی گئیں اور بچے ساری زندگی کے لیے غلام بن گئے۔ لیکن اِس بات کی کیا ضمانت تھی کہ اگر وہ بغیر لڑے گھٹنے ٹیک دیتے تو اُن کے ساتھ انسانوں والا سلوک ہوتا؟ جو دشمن برہنہ طاقت پر یقین رکھتا ہو وہ کمزور کی عورتوں اور بچوں کو کس اخلاقی اصول کے تحت بخشے گا؟ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حملہ آوروں کے مقابلے میں مقامی آبادی نے کوئی مزاحمت نہیں کی مگر اِس کے باوجود اُن کا لحاظ نہیں کیا گیا اور انہیں گاجر مولی کی طرح کاٹ دیا گیا۔ یہ ’مہذب‘ دنیا کی آنکھوں کے سامنے اسرائیل پوری بے غیرتی کے ساتھ فلسطینی بچوں کا قتل عام کر رہا ہے، بھلا اِن دودھ پیتے بچوں نے اسرائیلی فوج کے سامنے کیا مزاحمت کی ہے؟ سو، سوال یہ نہیں ہے کہ کیا میلوس والوں کو ایتھنز کے سامنے بغیر لڑے ہتھیار پھینکنے چاہیے تھے یا نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا اُن کے پاس یہ آپشن بھی موجود تھا یا نہیں؟ میرے خیال میں کمزور کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا سوائے اِس کے کہ وہ اپنی موت کا طریقہ کار اور وقت خود طے کر لے۔
فلم Braveheart کا مشہور مکالمہ پھر یاد آ گیا، سکاٹ لینڈ کی آزادی کی جنگ لڑنے والا ولیم والس کہتا ہے: ”بے شک، اگر تم لڑو گے تو مر جاؤ گے۔ اور اگر تم بھاگے تو زندہ رہو گے، لیکن محض کچھ وقت کے لیے۔ آج سے کئی سال بعد جب تم بسترِ مرگ پر ہوگے تو کیا تم اپنی زندگی کے اُن تمام دنوں کے عوض صرف آج کا یہ دن بدلے میں لینا چاہو گے، صرف ایک موقع کے لیے، تاکہ یہاں واپس آکر تم اپنے دشمنوں کو بتا سکو کہ وہ ہماری جان تو لے سکتے ہیں لیکن وہ ہماری آزادی کبھی نہیں چھین سکتے!“ بہت زیادہ پڑھے لکھے دانشوروں کے لیے یہ کتابی اور جذباتی باتیں ہیں، فلمی مکالمے ہیں۔ ممکن ہے ایسا ہی ہو۔ لیکن یہ دانشور اُس فلسطینی بچے کو کیا جواب دیں گے جس سے کسی نے پوچھا کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنے گا؟ اُس نے جواب دیا: ”فلسطین میں بچے بڑے نہیں ہوتے!“
فیس بک کمینٹ

