کوئٹہ :بلوچستان کے شہر کوئٹہ کے ایک سرکاری ہسپتال میں کانگو کے متاثرہ مریض کا علاج کرنے والے آٹھ ڈاکٹر اور طبی عملے کے ارکان خود اس خطرناک مرض کا شکار ہو گئے اور ان میں سے ایک ڈاکٹر کی موت ہو گئی ۔
شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سول ہسپتال کے شعبہ میڈیسن میں رواں ہفتے دوران علاج مرنے والے تین مریض بھی اسی بیماری میں مبتلا تھے۔
سیکریٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں اور ماہرین کی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔
سول ہسپتال کوئٹہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اسحاق پانیزئی نے اردو نیوز کو بتایا کہ یہ معاملہ چند روز قبل اس وقت سامنے آیا جب سول ہسپتال کے میڈیسن وارڈ اور آئی سی یو میں داخل تین مریضوں کی یکے بعد دیگرے موت ہوئی اور ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹر اور طبی عملہ بھی اچانک بیمار ہونے لگا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ افراد کو جسم میں شدید بخار، درد، پلیٹ لیٹس میں تیزی سے کمی اور کچھ کو سانس لینے میں دقت جیسی علامات تھیں۔ ابتدائی طور پر معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ کون سا مرض ہے تاہم فوری طور پر متاثرین کو الگ تھلگ کیا گیا۔
ڈاکٹر اسحاق نے بتایا کہ اس کے ساتھ ہی محکمہ صحت نے نامعلوم پیتھوجین کی وبا پھیلنے کا الرٹ جاری کیا۔ مریضوں، تیمار داروں، ڈاکٹروں اور طبی عملے کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
سیکریٹری صحت بلوچستان عبداللہ خان کے مطابق انیٹگریٹڈ ہیلتھ مانیٹرنگ اینڈ ایمرجنسی رسپانس یونٹ اور پروینشل ڈیزیز سرویلنس اینڈ رسپانس یونٹ (پی ڈی ایس آر یو) نے فوری طور پر کام کرنا شروع کر دیا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شعبوں میں مزید مریضوں کے داخلے روک کر 18 متاثرین کے پی سی آر ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے آٹھ کے ٹیسٹ پازیٹیو آئے اور معلوم ہوا کہ یہ نامعلوم مرض کریمین کانگو ہیمرجک فیور (سی سی ایچ ایف) ہے جسے عرف عام میں کانگو کہتے ہیں جو جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

