ایم ایم ادیبکالملکھاری

کورونا روگِ حیات یا!۔۔ایم ایم ادیب

کورونا وائرس جائے گا بھی یا حیاتِ انسانی کا روگ بن کر اس کے ساتھ ساتھ چلے گا ،مرنے والوں کے اعدادو شمارتوبتابتا کر سراسیمگی پھیلائی جا رہی ہے ،مگر اب تک کسی نے نہیں بتایا کہ کرہءارض پر کتنے انسان باقی رہ جائیں گے اور وہ کن شرائط پر زندہ رہیں گے ،کوئی ویکسین ان کی زندگیوں کی پاسدارو پاسبان بنے گی یا کورونا کے ساتھ باہمی مصالحت کے عوض وہ زندہ رہنے کے مستحق ٹھہریں گے ۔چین جس پر کورونا وائرس امپوز کرنے کا الزام ہے وہ ٹیکنالوجی کے زور پر زندہ رہ لے گا ،اس کا ڈیجیٹل کرنسی کے اجرا کا خواب بھی تعبیر پا لے گا ،مگر ہم جیسی اقوام ،جنہیں ویسے ہی زندگی کرنے کا ڈھنگ نہیں آتا وہ کیا کریں گی ۔احتیاطی تدابیر کے جھنجھٹ ہی میں الجھے ،مرتے جیتے وقت کاٹیں گے ،یا زندگی کے مختلف الانواع بوجھ اٹھائے دن پورے کر لیں گے۔
ابھی تو ہم واہموں ،مخمصوں اور وسوسوں کی سان پر چڑھے ہیں ،بار بار ہاتھ دھودھو کر ہماری ہاتھوں کی لکیریں معدوم ہونے لگی ہیں ،جن سے ہم اپنی موت و حیات اور تقدیر پڑھ کر جھوٹ موٹ میں خوش ہولیتے تھے ،ہمارا خالق اور مالک بھی ہماری بے بسی اور بے کسی پر چپ ہے ،مگر ہمیں ایک نہ ایک دن تسلیم کر لینا پڑے گا کہ ہماری نجات کا نسخہ کیمیا اسی کے پاس ہے اور وہی ہمارے دکھوں کے مداوے پر قادر ہے ،ابھی تو ہم استہزا کرتے ہوئے بھی نہیں شرماتے کہ”کرہ ارض مرمت کے لئے بند ہے “۔اس نوع کے جملے گھڑکر ہم باہر سے مطمئن ہوجاتے ہیں ،مگر ہمارے ”اندر“ سہمے ہوئے ہیں ،ڈرے ہوئے ہیں ۔ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ خود ساختہ خوشیاں دائمی ہوتی ہیں یالمحاتی،جنہیں ہماری سطحی سوچ ہم پر الہام کرتی ہے ۔ہمارا بس نہیں چلتا کہ خالق کو مجسم حالت میں مخلوق کے بیچ لا کھڑا کریں اور اس پر اوٹ پٹانگ سوالات کی بوچھاڑ کردیں ۔کتنے ہی بزعم ِ خود ہنر مند قلمکار ہیں دانشور ہیں جو ہذیانی کیفیت میں مبتلا ہیں اور انہیں یہ احساس تک نہیں ۔
دراصل یہ کورونا وائرس ہی کا غیر مرئی اثر ہے وگرنہ یہ پہلی بار نہیں ہوا ،جب سے یہ کائنات وجود میں آئی ہے ایسے سینکڑوں وائرسز انسان کی جان پر گزرے ہیں،مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ پوری کی پوری نوع انسانی اس کا لقمہ بن گئی ہو اور خالق نے پھر سے کرہ ارض کو آباد کیا ہو جبکہ وہ ایسا کرنے کی کامل قدرت رکھتا ہے ۔ہر دور کے صاحبان ِ علم و حکمت نے اپنے دور کی مصائب و آلام کا مقابلہ کیا ۔تاہم خالق نے مخلوق کی آہ و بکا سے کبھی صرف نظر نہیں کیا ،اس کے ہر دکھ کا مداوا کیا اوریہ اس وقت ہوتا ہے جب انسان کی حکمت و دانش اپنے سارے ہتھیار استعمال کر کے تھک چکی ہوتی ہے۔
خالق کو اپنی مخلوق کے ساتھ اس کی ماں سے ستر گنا زیادہ پیا ر ہے،مگر وہ اسے آزمائشوں کے گرداب میں ڈال کر توبہ کی طرف راغب کرتا ہے تاکہ اسے گناہوں کے بوجھ سے آزاد کرے ،وہ ایسی آزمائشوں میں پرندوں کوکیوں نہیں ڈالتا کہ صبح ہم بیدار ہوں تو سڑکوں پرانکی لاشوں کے ڈھیر لگے ہوں ،جنگلی حیات اس افتاد کی زد میں میں آجاتی تو سارے جنگل درندوں اورچرندوں کے قبرستان بن جاتے ۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا اور ناہونا ہے کہ یہ مخلوقات ہر پل خوگر حمد رہتی ہیں ،شکوہ وشکایت ان کا شیوہ نہیں ،شکر ان کا لباس ہے اور صبر ان کی عادت ،ان کی منقاریں خالق کے گن گانے میں مصروف اور ہمارے ہونٹوں پر ہر لحظہ حسد ، بغض و عناد اور غیبت کے ترانے ۔ہم ایک دوسرے کی جانوں کے درپے اور وہ ایک ددجے کے پاسبان ،پھر بھی خالق اپنی اِس مخلوق پر مہربان ،جو انسان کہلاتی ہے ،جس کو زبان بخشی گئی تھی تسبیح اور حمد وثنا کے لئے اور یہ اس سے طعن و تشنیع کا کام لیتا ہے ۔اس دکھ کے کتنے رُخ ہیں ،کتنی پرتیں ہیں اور کتنی گرہیں ہیں ؟ جن کو کھولنے بیٹھیں تو عمریں لگ جائیں ۔ہم پر لازم ہے اپنے اپنے گریبانوں میں جھانکیں ،اپنا اپنا محاسبہ کریں ۔
ہم اپنی اموات کے خود ذمہ دار ہیں ،ہمارے ڈاکٹر جو ہمیں کورونا سے بچانے کے کی دھن میں اپنی جانیں داؤ پر لگائے ہوئے ہیں اُن پر رحم کریں ،یہ ہماری جانوں کے نگہبان ہیں ،مگر ہمارا ناروا سلوک اِن کی جانوں کا وبال بن چکا ہے ۔ہم گلیوں اور بازاروں میں بکھری موت سمیٹ کے ان کے دامن میں کیوں جا بھرتے ہیں ؟یہ ہونگے تو ہم ہونگے ۔کرونا ایک وبا ہے ،اسے وبا ہی رہنے دیں ،وبائیں تو آتی جاتی رہتی ہیں ۔اِنہیں موت کا فرشتہ نہ بنائیں ،حیات کا روگ نہ بنائیں۔آخر کتنا عرصہ ہم منہ چھپائے جیئیں گے ؟کب تک ہمارا شاعر یہ کہتا رہے گاکہ
تیرا میرا ہاتھ ملے بڑی دیر ہوئی
اس اک آس کا پھول کھلے بڑی دیر ہوئی
( محمود ناصر ملک)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker