ایک طرف تو پوری دنیا کرونا وائرس کے ہاتھوں بند ہو چکی ہے کاروبار زندگی معطل ہے حکومت عوام کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی مالی اعانت میں مصروف ہیں جو انتہائی ناگزیر ہیں مگر دوسری طرف اسی عالمی وباءکو سیاست اور معیشت کی نئی راہیں تلاش کرنے کیلئے بھی استعمال کیا جا رہا ہے اب آنے والوں وقتوں میں کون جیت پائے گا اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا کیونکہ اس کا شور اتنا ہے کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی ہے ٹھیک اسی طرح پاکستان میں بھی ایک طرف تو دن بدن وائرس کے متاثرین میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ دوسری طرف نئے اور کچھ پرانے مالیاتی سکینڈل منظر عام پر آ رہے ہیں چینی اور آٹے کا گمبھیر مسئلہ اس سلسلہ کی کڑی ہے کہ ایک واضع زرعی ملک اور سال بھر کی ضرورت سے زیادہ گندم ہونے کے باوجود آٹا نہ صرف غائب ہو جاتا ہے اور دوسری قیمت پر مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہوتا ہے اسی طرح چینی کے ذخائر ہونے کے باوجود 53سے 78روپے فی کلو جا پہنچی ہے اور اس دوران 11لاکھ ٹن ایکسپورٹ کر دی جاتی ہے اور اس پر ری بیٹ بھی لے لی جاتی ہے اس کے پیچھے کون کون سے کاروباری ٹائیگون ہیں ایف آئی اے نے تمام تحقیقاتی رپورٹ میں لکھ دیا ہے لیکن کیا ہوا کہ گندم کے ہیر پھیر میں صوبائی وزیر خوراک سمیع اللہ چوہدری کو بتایا گیا ہے چینی کی رام کہانی میں ابھی تک مزید پیش رفت نہیں ہو سکی توقع کی جا سکتی ہے کہ وفاقی حکومت اس پر سنجیدہ قدم اٹھائے گی کیونکہ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔
یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ جنوبی پنجاب جو کپاس کی کاشت کیلئے بہترین علاقہ ہے اوریہاں کچھ علاقوں میں مصر کی کپاس کے برابر یا اس سے بھی اچھی پیداوار ہوتی تھی اور ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کرتی تھی کیوں اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ماضی کی کن حکومتوں نے ان علاقوں میں نہ صرف نئی شوگر ملز لگانے کی اجازت کا پرمٹ جاری کیا بلکہ کچھ کیسوں میں جنوبی پنجاب کے باہر قائم ملوں کے سب یونٹ لگانے کی اجازت بھی دی حالانکہ ماہرین زراعت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ گنا کپاس یا کسی اور فصل کے مقابلے میں چار گنا زیادہ پانی لیتا ہے اور گزشتہ کئی دھائیوں سے یہ علاقہ پانی کی شدید کمی کا شکار ہے جس سے زیر زمین پانی مزید نیچے چلا گیا ۔
تحریک انصاف کی حکومت کو اس حوالے سے غور کرنا ہوگا کیونکہ اس مرتبہ ایک طرف کپاس مطلوبہ رقبے پر کاشت نہیں ہوسکی جبکہ دوسری طرف موسمی تبدیلیوں اور بارشوں کے ساتھ ژالہ باری نے رہی سہی کسر نکال دی ہے اب اس مسئلے کو سیاسی طو رپر لیا جاتا ہے یا معاشی ضرورت جان کر سنجیدہ مثبت اقدام ہوتا ہے یہ حکومت کا امتحان ہوگا ۔ کیونکہ متاثرین (عوام ) محض رپورٹ منظر عام پر آنے سے مطمئن نہیں ہوں گے کہ جب تک قانونی کارروائی نہیں ہوتی ادھوری کارروائی سے کئی سوالات جنم لے رہے ہیں ۔
دوسری طرف پنجاب حکومت نے لاک ڈاﺅن بڑھانے اور اس کے ایس او پیز پر عمل کیلئے انتظامیہ کو مکمل اختیار دے رکھا ہے لیکن وزیراعلیٰ عثمان بزدار مکمل پروٹوکول کے ساتھ گندم کی کٹائی کا افتتاح کرنے راجن پور پہنچ جاتے ہیں ۔ بارتھی ، تونسہ اور ملتان آتے ہیں بیسیوں گاڑیوں کا قافلہ اور روٹ لگتے ہیں چھ فٹ والی پابندی ہوا میں اڑا دی جاتی ہے اور پھر خود ہی ہوا میں اڑا کر شہروں کا حال دیکھ رہے ہیں کہ لاک ڈاﺅن ہے کہ نہیں ، یہ کیسی گورنس ہے کہ اپنے ہی احکامات کی دھجیاں اڑائی جارہی ہے یہی وجہ ہوگی کہ اس وقت ملتان رینج میں پولیس کسی چوری ڈکیتی کا پرچہ نہیں دے رہی ہے تنگ آکر متاثرین نے تھانوں کا رخ ہی چھوڑ رکھا ہے ۔ اگر لٹتے لاکھوں ہیں تو پرچہ پانچ سو روپے کا دے دیا جاتا ہے جو امن وامان کی صورت حال کو خراب کرنے میں بنیادی وجہ ہے ایک طرف سٹریٹ کرائمز میں اضافہ بتا کر ڈرایا جارہا ہے جبکہ دوسری طرف خود ہی لوٹ مار میں مصروف ہیں ۔ عوام کہاں جائیں کیونکہ پنجاب حکومت اس معاملے میں انتہائی کمزور نظر آرہی ہے۔
فیس بک کمینٹ

