ڈیرہ غازی خان :میونسپل کارپوریشن ڈیرہ غازی خان نے صحافیوں کے باہمی اختلافات کے بعد ڈیرہ غازی خان پریس کلب کوسربمہر کردیااورکہاہے کہ یہ پریس کلب غیر قانونی طورپرکارپوریشن کی جگہ پرقبضہ کرکے تعمیر کیاگیاہے ۔ڈیرہ غازی خان کے صحافیوں نے اس صورتحال پرشدید احتجاج کیا ہے تاہم ابھی تک اس حوالے سے صحافیوں کی جانب سے کوئی قانونی کارروائی عمل میں نہیں آئی ۔مقامی صحافیوں کے مطابق پریس کلب سے تمام سینئر صحافیوں کو نکال کر ایسے لوگوں کو رکنیت دیدی گئی تھی جن کاصحافت کادورسے بھی تعلق نہیں تھااوران میں سے بعض کے خلاف مختلف جرائم میں مقدمات بھی درج ہیں ۔صحافیوں کاکہناہے کہ یہ تنازعہ گزشتہ ماہ اس وقت شدت اختیار کرگیاجب پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی جانب سے ملک گیر احتجاج کی کال دی گئی ۔اس موقع پرپی ٹی آئی ڈیرہ غازی خان کے صدر اقبال ثاقب ایڈوکیٹ پریس کانفرنس کے لئے پریس کلب میں آئے توپولیس پریس کلب کی حدود میں داخل ہوگئی ۔صدر پریس کلب شیر افگن بزدار اورصدار انجمن صحافیان مصطفی لاشاری نے پریس کلب میں پولیس کے داخل ہونے پراحتجاج کیاجس کے بعد انہیں بھی حراست میں لے لیاگیا۔کارپوریشن کاموقف ہے کہ جس جگہ پریس کلب تعمیر کیاگیا یہ جگہ کارپوریشن کی ملکیت تھی اوراس پرصحافیوں نے غیر قانونی قبضہ کیا جبکہ صحافیوں کاموقف ہے کہ ہم نے قبضہ نہیں کیا اوریہ پریس کلب ہماری ملکیت ہے ۔سینئر صحافی شاہد اعوان نے گردوپیش سے بات چیت کرتے ہوئے بتایاکہ اصل میں یہ صحافیوں کے باہمی اختلافات کانتیجہ ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ صورتحال افسوسناک ہے صحافیوں کو دھڑے بندی ختم کرکے پریس کلب واگزار کرانے کے لئے قانونی راستہ اختیار کرناچاہیے ۔
فیس بک کمینٹ

