ملتان :سرائیکی وسیب کے 2نامور محققین ڈاکٹر مہر عبدالحق اور منشی عبدالرحمن کی برسی خاموشی سے گزر گئی۔۔ مہر عبدالحق کو دنیا سے بچھڑے 27برس جبکہ منشی عبدالرحمن کو 33برس ہو چکے ہیں۔
مہر عبدالحق یکم جنوری 1915کو لیہ میں پیداہوئے۔ میٹرک کے بعد بہاولپور سے ایف ایس سی اور ایمرسن کالج ملتان سے بی ایس سی کا امتحان پاس کیا۔ڈپٹی کمشنرآفس میں 1938 میں کلرک بھرتی ہوئے اور پھر شعبہ تدریس سے منسلک ہوگئے۔مہر عبدالحق نے1950میں ایم اے اردو کیا اور 1957میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ 1958میں رائٹرز گلڈ سے منسلک ہوئے۔سرائیکی زبان کے حوالے سے مہر عبدالحق کی 14سے زیادہ کتابیں منظرعام پر آئیں جن میں قرآن پاک کا سرائیکی ترجمہ،قصیدہ بردہ شریف کا سرائیکی ترجمہ ،عمرخیام کی رباعیات اور کلام فرید کے تراجم بھی شامل ہیں۔وہ23فروری1995کو ملتان میں انتقال کرگئے تھے۔ سرائیکی وسیب کے نامور محقق منشی عبدالرحمن 1912میں ملتان میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر 40 برس تک ایک وکیل کے ہاں بطور منشی کام کیا۔وہ کیمونسٹ پارٹی ،کانگریس اور مسلم لیگ سے منسلک رہے۔ منشی عبدالرحمن ملتان میں رائٹرزگلڈ کے پہلے سیکرٹری تھے۔ انہوں نے اردو زبان کے فروغ کے لیے بہت سی تنظیموں اوراداروں کی بنیادرکھی۔
ان کی تصنیفات کی تعداد20سے زیادہ ہے جن میں” تاریخ ملتان ذیشان‘ اور ”آئینہ ملتان“‘ ان کی پہچان ہیں۔ وہ 23فروری1989کو ملتان میں انتقال کرگئے۔
فیس بک کمینٹ

