ملکی حالات سے اندازہ ہو رہا ہے کہ ملکی سیاست دان خواہ ان کا تعلق حکومت سے ہو یا اپوزیشن سے ، جمہوری لڑائی میں دلچسپی نہیں رکھتے ۔ بلکہ گزشتہ چند روز کے دوران میں پیش آنے والے حالات اور بیانات کی روشنی میں تو یہ اندازہ ہونے لگا ہے کہ عوام کا نام لینے والی ان قوتوں کو اب ملکی مفادات سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ بلکہ ہر گروہ اور لیڈر صرف اپنے مفادات کی لڑائی لڑنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ اور اس جنگ میں ہر ہتھکنڈے کو جائز سمجھا جارہا ہے۔
12 جولائی کو سپریم کورٹ کے فل کورٹ بنچ نے اکثریتی فیصلے میں عام انتخابات کے بعد مخصوص نشستیں تقسیم کرنے کا آئینی اصول تسلیم کیا تھا ۔ اس کے مطابق یہ سیٹیں عام نشستیں جیتنے والی پارٹیوں کو ان کی نمائیندگی کے حساب سے تفویض کی جاتی ہیں۔ یعنی تمام مخصوص نشستیں قومی یا کسی بھی صوبائی اسمبلی میں نمائیندگی حاصل کرنے والی پارٹیوں کو ان کی پارلیمانی قوت کے حساب سے ملتی ہیں۔ اس اصول کے تحت 8 فروری کے انتخابات کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ سب پارٹیوں کو ان کے حصے کی نشستیں الاٹ کردی گئی ہیں اور وہ نمائیندے حلف اٹھاکر قومی یا کسی بھی صوبائی اسمبلی کے رکن کے طور پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔
البتہ پاکستان تحریک انصاف کو چونکہ انتخابی نشان الاٹ نہیں ہؤا تھا، اس لیے ا س کے حصے والی سیٹوں کا مسئلہ مسلسل کھٹائی میں پڑا ہؤا تھا۔ تاآنکہ سپریم کورٹ کے اکثریتی ججوں نے یہ سیٹیں پی ٹی آئی کو دینے اور اس قضیہ کو ختم کرنے کا حکم دیا۔ چونکہ نشستوں کی تقسیم کے حوالے سے بہت سی غلط فہمیاں پیدا ہوچکی تھیں اور تحریک انصاف نے مسلسل ہیجانی اور عاقبت نااندیشانہ فیصلے کیے جن کی وجہ سے یہ معاملہ الجھتا چلا گیا۔ پہلے تو الیکشن کمیشن نے کبھی یہ پوزیشن واضح نہیں کی جو قانونی طور سے درست تھی اور جس کی وضاحت اب سپریم کورٹ کے 12 جولائی کے فیصلے میں سامنے آئی ہے۔ یعنی تحریک انصاف سے انٹرا پارٹی انتخابات نہ کروانے کی وجہ سے انتخابی نشان ضرور واپس لیا گیا تھا لیکن وہ بدستور ایک سیاسی پارٹی کے طور پر موجود تھی۔
جس گتھی کو سپریم کورٹ کے فیصلہ میں سلجھایا گیا ہے، اسے گنجلک بنانے میں اگر الیکشن کمیشن کا کردار ہے تو تحریک انصاف بھی خود کو بے قصور قرار نہیں دے سکتی۔ یعنی جب انتخابات میں امیدواروں کے حلف نامے جمع کرنے اور پارٹی کے ساتھ وابستگی کا اعلان ہونا تھا تو کیا وجہ ہے کہ صرف تین درجن ارکان نے ہی قومی اسمبلی کے انتخاب میں خود کو پی ٹی آئی کا امیدوار ظاہر کیا اور باقی نے آزاد حیثیت میں انتخاب لڑا۔ جن 39 ارکان نے خود کو پی ٹی آئی کا رکن ظاہر کیا، انہوں نے بھی علیحدہ علیحدہ انتخابی نشان پر انتخاب میں حصہ لیا۔ نہ تو انتخابی مہم کے دوران میں یا انتخاب جیتنے کے بعد تحریک انصاف نے اس بات پر اصرار کیا کہ وہ بدستور ایک سیاسی پارٹی ہے۔ اس کے ارکان نے اگر ایک انتخابی نشان نہ ملنے کی وجہ سے علیحدہ علیحدہ انتخابی نشان اور آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا ہے، پھر بھی وہ ایک پارٹی کے بینر تلے جمع ہیں۔ انہیں قومی و صوبائی اسمبلیوں میں ایک پارلیمانی گروپ بھی مانا جائے اور ان کے حصے کی مخصوص نشستیں بھی انہیں دی جائیں۔
عمران خان اور تحریک انصاف کے بزرجمہر سپریم کورٹ کا فیصلہ سامنے آنے کے بعد مسلسل الیکشن کمیشن کومورد الزام ٹھہرا کر دعویٰ کررہے ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کے علاوہ کمیشن کے تمام ارکان کے خلاف ’غداری‘ کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے کیوں کہ انہوں نے تحریک انصاف کو مخصوص نشستیں نہیں دی تھیں۔ اب سپریم کورٹ نے یہ فیصلہ کیا تو وہ مجبوری میں یہ اقدام کرنے کا اعلان کررہا ہے۔ لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن تو تب ہی مخصوص نشستوں کا کوٹہ تحریک انصاف میں تقسیم کرتا جب وہ اس کی دعویدار ہوتی۔ تحریک انصاف نے اپنے تئیں مخصوص سیٹوں کو کوٹہ لینے کے لئے اپنے آزاد ارکان کو تین دن کی آئینی مدت میں سنی اتحاد کونسل میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد تحریک انصاف کی بجائے سنی اتحاد کونسل مخصوص نشستیں مانگتی رہی اور تحریک انصاف کی پوری قیادت اس مطالبے کے حق میں بیان بازی کرنے لگی۔
دیکھا جاسکتا ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت اگر ہیجان پیدا کرنے کی بجائے ٹھنڈے دل و دماغ سے صورت حال پر غور کرتے ہوئے بروقت مناسب سیاسی فیصلے کرتی تو نوبت یہاں تک نہ پہنچتی۔ سنی اتحاد کونسل کی حیثیت کا اندازہ اس حقیقت سے کیا جاسکتا ہے کہ اس کے چئیرمین صاحبزادہ حامد رضا نے بھی انتخابات میں اپنی پارٹی کی طرف سے حصہ لینے کی بجائے آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑا اور جیتا تھا۔ اس پارٹی کو چونکہ کوئی نشست جیتنے کی امید نہیں تھی، اس لیے اس نے مقررہ قانونی مدت کے اندر مخصوص نشستوں کے لیے اپنے امیدواروں کے نام بھی الیکشن کمیشن کو نہیں بھجوائے تھے۔ اسی پر بس نہیں بلکہ سنی اتحاد کونسل کے منشور کے مطابق اقلیتی عقیدے کے لوگ یا خواتین اس پارٹی کی رکن ہی نہیں بن سکتیں۔ گویا سنی اتحاد کونسل اچانک تحریک انصاف کے ’آزاد ‘ ارکان مل جانے کے بعد ان خواتین ا ور اقلیتوں کی نشستوں میں حصہ مانگ رہی تھی جو اس پارٹی کے رکن بننے کے اہل ہی نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے سیاسی قضیہ ختم کروانے کی نیت سے دیے گئے فیصلہ میں بھی سنی اتحاد کونسل کو یہ نشستیں نہیں دے سکی۔ بلکہ الیکشن کمیشن اور خود تحریک انصاف کی پیدا کی گئی اس سنگین غلطی کی تصحیح کی گئی کہ پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت کے طور پر موجود رہی ہے اس لیے اسے اس کا حق ملنا چاہئے۔
یادش بخیر انتخابی مہم کے دوران میں تحریک انصاف کے سلمان اکرم راجہ نے اس حوالے سے مطالبہ کیا تھا اور ایک پٹیشن لاہور ہائی کورٹ کے بعد سپریم کورٹ میں بھی دائر کی تھی کہ تحریک انصاف کو انتخابی نشان نہیں ملا لیکن یہ پارٹی موجود ہے اور وہ اس کے امیدوار تھے۔ لیکن لگتا ہے کہ ان کی پٹیشن عدالتی کارروائی کی سستی ہی کا شکار نہیں ہوئی بلکہ پارٹی قیادت نے بھی ان کے اس قانونی نکتہ کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ۔ اور تحریک انصاف کا پارلیمانی گروپ بنا کر اپنی مخصوص سیٹوں کامطالبہ کرنے کی بجائے سنی اتحاد کونسل میں شامل ہوکر الیکشن کمیشن اور حکومت کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ۔ اب تحریک انصاف کے جو لیڈر سپریم کورٹ کے فیصلہ میں ’انصاف‘ تلاش کرنے کے دعوے کررہے ہیں، انہیں درحقیقت اپنی کوتاہ اندیشی کاماتم کرنا چاہئے۔ یہ تو سپریم کورٹ نے وسیع تر قومی مفاد میں سیاسی تصادم کو ٹالنے کے لیے تحریک انصاف کو درخواست دہندہ نہ ہونے کے باوجود مخصوص نشستیں لینے کا ایک نیا موقع عطا کیا ہے۔
بدقسمتی سے تحریک انصاف ہی نہیں بلکہ حکومتی پارٹیاں اور خاص طور سے مسلم لیگ (ن) بھی سپریم کورٹ کے فیصلہ کو اس کی جمہوری سپرٹ کے مطابق سمجھنے اور قبول کرنے سے انکار کررہی ہے۔ تحریک انصاف کو اس اچانک اور غیر متوقع فیصلے سے خوش ہو کر ملکی سیاسی عمل میں شامل ہونے کا عندیہ دینا چاہئے تھا۔ پی ٹی آئی کے لیڈر، اس اہم موڑ پر اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے اور سیاسی اتفاق رائے میں ہاتھ بٹانے کی بجائے الیکشن کمیشن کے ارکان کو غدار قرار دینے اور حکومت کو گرانے کے لیے ’ایک اوردھکا دینے‘ کی تیاری میں مصروف ہوگئے۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو یوں لگا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی اکثریت حکومت کے خلاف ’گٹھ جوڑ‘ کررہی ہے ۔ بدحواسی میں پہلے تحریک انصاف پر پابندی لگانے اور عمران خان پر غداری کا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد اب براہ راست اعلیٰ عدلیہ کو نشانے پر لینے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
گزشتہ روز مختلف ٹیلی ویژن پروگراموں میں وزیر دفاع خواجہ آصف کے فرمودات دراصل اسی کوشش کا حصہ ہیں۔ ان انٹرویوز میں انہوں نے سپریم کورٹ کے بارے میں شدید غلط فہمی پیدا کرنے، اور ایسے نام نہاد فیصلے سامنے آنے کا ’اندیشہ‘ ظاہر کیا ہے ، اور کہا ہے کہ انتخابات کو کالعدم قرار دینے کے علاوہ سپریم کورٹ کوئی بڑا آئینی بحران پیدا کرے گی۔ ملک میں آئین کی حفاظت کے ذمہ دار ادارے کے خلاف ایک اہم وزیر اور سینئر سیاست دان کی یہ قیاس آرائیاں سن کر یہی لگتا ہے کہ یا تو ملکی سیاست دان احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں یا انہیں جمہوریت ہی نہیں بلکہ ملکی مفاد سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ ان کی سیاست کا دائرہ اپنے مفادات کے گرد گھومتا ہے۔ جب بھی انہیں زک پہنچنے کا احتمال ہوتا ہے تو وہ سب کچھ داؤ پر لگانے پر آمادہ ہوجاتے ہیں۔
حیرت ہے ایسے بیان دیتے ہوئے ایک وفاقی وزیر کو نہ تو عوام کی پریشانی کا خیال ہے اور نہ ہی وہ یہ اندازہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ملک میں بے یقینی کی بجائے اعتماد و بھروسے کی فضا پیدا کرنا ضروری ہے۔ اور اس کی بنیادی ذمہ داری اپوزیشن کی بجائے حکومت وقت پر عائد ہوتی ہے۔خواجہ آصف کے انٹرویوز کے حوالے سے بی بی سی اردو نے جو رپورٹنگ کی ہے، اس کے مطابق انہوں نے کہا کہ ’ ایسی سرگوشیاں سننے کو مل رہی ہیں کہ الیکشن نتائج منسوخ کرنے کی بات ہو رہی ہے۔سرگوشیاں ایسی بھی ہیں کہ کہا جا رہا ہے کہ اکتوبر آنے دو، الیکشن آڈٹ سے متعلق درخواست لگے گی تو اس سے بھی نمٹ لیں گے‘۔
یہ بیان براہ راست عدلیہ پر الزام تراشی ہے۔ حکومت کا ایک ذمہ دار رکن یہ تاثر عام کررہا ہے کہ ملک کی سب سے بڑی عدالت قانون و آئین کے مطابق درخواستیں سامنے آنے پر حقائق و شواہد کے مطابق فیصلے نہیں کرتی بلکہ اعلیٰ عدلیہ کے جج شاید ’سازشوں میں مصروف ‘ رہتے ہیں اور جب انہیں سیاسی فائدہ دکھائی دیتا ہے تو وہ ’وار‘ کرتے ہیں۔ اس قسم کے بیان کو نہ توہین عدالت کہا جاسکتا ہے اور نہ سیاسی جائزہ ، بلکہ یہ صریحاً ملکی عدلیہ کو ہراساں کرنے اور دباؤ میں لانے کی بھونڈی کوشش ہے۔ اسی لیے یہ انٹرویو دینے کے لیے خواجہ آصف جیسے گھاک سیاست دان کا انتخاب کیا گیا۔ خواجہ آصف نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک اور ٹی وی انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ’مجھے لگتا ہے کہ کوئی نہ کوئی آئینی میلٹ ڈاؤن ہونے والا ہے، جلد یا بدیر لیکن یہ ہو گا۔میں مارشل لا کی بات نہیں کر رہا لیکن ایک آئینی بریک ڈاؤن ہوگا‘۔ معاشی درجہ بندی کے عالمی ادارے ’فچ‘ کی اس رپورٹ کے بارے میں کہ حکومت 18 ماہ میں ختم ہوسکتی ہے ، وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ’ اس میں وزن ہے۔ ٹیکنوکریٹ حکومت میں شامل ہونے کے لیے لوگ تیار بیٹھے ہیں‘۔
ملک کا وزیر دفاع اگر خود اپنی حکومت کے بارے میں ایک منفی جائزہ رپورٹ کو درست قرار دے رہا ہے تو اس سے ایک ہی نتیجہ اخذ کرنا چاہئے کہ وہ خود ایسے جائزوں کے درپردہ ملوث ہے۔ ورنہ کوئی بھی حکومت ایسی قیاس آرائیاں ختم کرنے کی کوشش کرے گی۔ لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کا وزیر دفاع بے یقینی پیدا کرنے میں بڑھ چڑھ کر کردار ادا کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس موقع پر سیاسی ہیجان پیدا کرنے والے تمام عناصر صرف گروہی یا انفرادی سیاسی مفاد کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں۔ ملک کو اس سے نقصان ہی ہوگا۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

