اہم خبریں

ڈینیئل پرل کے قاتلوں کی رہائی پر امریکہ کا اظہار تشویش : وزیر خارجہ بلنکن کا شاہ محمود کو فون

واشنگٹن :امریکہ کے نئے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا کہنا ہے کہ انھوں نے صحافی ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں سزا یافتہ دہشتگرد احمد عمر شیخ سمیت دیگر کی رہائی کے عدالتی فیصلے پر اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی سے بات کی ہے اور انھیں امریکہ کے خدشات سے باور کرایا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر انھوں نے اس گفتگو کے بارے میں بتایا کہ اس کیس میں تمام ذمہ داران کا احتساب یقینی بنایا جانا چاہیے۔’وزیر خارجہ (قریشی) اور میں نے علاقائی استحکام کی حمایت کے لیے امریکہ-پاکستان تعاون جاری رکھنے کی اہمیت پر بات کی۔’
پاکستان کے سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق جمعے کو اس ٹیلیفونک رابطے میں دو طرفہ تعلقات، افغانستان میں امن اور ڈینیئل پرل کیس پر بات چیت ہوئی۔خیال رہے کہ ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صحافی ڈینیئل پرل 2002 میں کراچی میں اغوا کے بعد قتل کر دیے گئے تھے اور اُسی برس انسداد دہشت گردی کی عدالت نے مرکزی ملزم احمد عمر سعید شیخ کو سزائے موت سنائی تھی۔ لیکن اس کے 18 برس بعد دو اپریل 2020 کو سندھ ہائی کورٹ نے ان کی سزائے موت ختم کرتے ہوئے اسے فیصلے کو اغوا کے جرم میں سات برس قید کی سزا سے بدل دیا تھا جبکہ دیگر تین ملزمان کو بری کر دیا گیا تھا۔
بلنکن اور قریشی کے درمیان کیا بات چیت ہوئی؟
امریکی دفتر خارجہ کے مطابق انٹونی بلنکن نے اپنے پاکستانی ہم منصب شاہ محمود قریشی کو بتایا کہ پاکستانی سپریم کورٹ کے فیصلے اور ان قیدیوں کی ممکنہ رہائی پر امریکہ کو تشویش ہے۔ ’اس کے علاوہ سیکریٹری (بلنکن) اور (پاکستانی) وزیر خارجہ نے افغان امن عمل میں پاکستان-امریکہ تعاون، علاقائی استحکام اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے امکانات پر بھی بات کی۔‘دوسری طرف اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ قریشی نے ‘بلنکن کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی‘ اور کہا کہ ’پاکستان امریکہ کے ساتھ کئی مسائل پر اپنی شراکت قائم رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔‘
اے پی پی کے مطابق وزیر خارجہ قریشی نے بات چیت کے دوران زور دیا کہ ‘وزیر اعظم عمران خان کا ایک نیا ویژن ہے جس میں معاشی شراکت داری، علاقے میں امن اور روابط قائم کرنے کو ترجیح دی جائے گی۔’ اے پی پی کے مطابق ‘ڈینیئل پرل کیس پر وزیر خارجہ قریشی نے امریکی سیکریٹری کو بتایا کہ انصاف کی قانونی طریقے سے فراہمی ضروری ہے اور سب کے لیے اسی میں بہتری ہوگی۔۔۔ وزیر خارجہ نے اس حوالے سے کیے گئے اقدامات بھی واضح کیے۔‘
‘وزیر خارجہ قریشی نے سیکریٹری بلنکن کو بتایا کہ افغانستان میں سیاسی بات چیت کے ذریعے امن کے قیام پر دونوں ملکوں کا بنیادی اتفاق ہے۔’ ‘افغان امن عمل میں پاکستان نے کردار ادا کیا اور امریکہ کا ساتھی بنا رہنے کے لیے پُرعزم رہا۔’
اے پی پی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ سیکریٹری بلنکن نےکئی برسوں سے جاری امریکہ-پاکستان تعاون پر بات کی اور کہا کہ دونوں ملکوں کو کئی مسئلوں پر مزید تعاون درکار ہوگا۔ ‘انھوں نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے لوگوں کی قربانی کو تسلیم کیا۔’خیال رہے کہ ڈینیئل پرل کے قتل کے مقدمے میں ملزمان کی رہائی کے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف سندھ حکومت نے نظرثانی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعے کے روز سندھ حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں سپریم کورٹ کے 28 جنوری کے فیصلے کے خلاف کے نظرثانی کی اپیل دائر کی تو رجسٹرار آفس نے نامکمل ہونے کی وجہ سے یہ اپیل واپس کردی۔تاہم ایڈووکیٹ آن ریکارڈ کی درخواست پر نظرثانی کی اپیل ایک ہفتے بعد دائر کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ اس دوران مقامی میڈیا پر یہ خبریں چلتی رہیں کہ سندھ حکومت نے نظرثانی کی اپیل دائر کردی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker