جدید دنیا میں اقوام عالم کو دو حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ترقی یافتہ اور پسماندہ۔ ترقی یافتہ ممالک میں عوام کے بڑے حصے کو آسائشیں میسر ہیں جبکہ پسماندہ ممالک میں لوگ بنیادی سہولیات جیسے روٹی کپڑا اور مکان کے لئے بھی ترس رہے ہیں ۔ان ترقی یافتہ ممالک کی ایک بڑی دلچسپ خاصیت ہے کہ یہ اگر کھنڈر بھی ہو جائیں تو کچھ ہی عرصے میں دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو جاتے ہیں اور پہلے سےبھی زیادہ جدید شکل میں۔ بیسویں صدی میں جرمنی اور جاپان اس کی مثالیں ہیں جو کہ کھنڈر ہو گئے تھے دوسری جنگ عظیم کے بعدلیکن صرف دو ہی عشروں میں دوبارہ ترقی یافتہ ممالک کی صف میںشامل ہوگئے ۔اسی طرح سے پسماندہ ممالک کی بھی یہ خاصیت ہے کہ یہ اگر کبھی ترقی کر بھی لیں تو تھوڑے وقت کے بعد پھر پسماندگی میں چلے جاتے ہیں۔معیشت دانوں نے جب اس پر تحقیق کی تو پتا چلا کہ پسماندہ ممالک میں کچھ مشترکہ خصوصیات ہوتی ہیں جن کی موجودگی میں یہ ممالک پسماندہ ہی رہتے ہیں تاآنکہ کوئی معجزہ ہو جائے۔
پسماندہ ممالک کی ترقی نہ کرنے کی وجوہات میں ایک اہم ترین وجہ تعصبات ہیں ۔
فرقہ واریت کی کئی اقسام ہیں جن میں مذہبی فرقہ واریت کے علاوہ لسانی اور علاقائی عصبیت زیادہ عام ہیں۔ معیشت کی تاریخ یہ کہتی ہے کہ فرقہ واریت کے شکنجے میں آئے ہوئے ممالک کبھی بھی زیادہ عرصہ ترقی یافتہ نہیں رہتے۔
جب جنگ میں قابو نہ پا سکےتو پاکستان کے دشمنوں نے فرقہ واریت کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جس کا نتیجہ سقوط ڈھاکہ کی صورت میں نکلا ۔ افسوس لیکن اس بات پر ہے کہ اس وقت کی پاکستان کی اشرافیہ نے بھی مشرقی بازو سے جان چھڑانے کو ہی غنیمت جانا ۔ مشرقی پاکستان کٹ کر کسی اور ملک کا حصہ نہیں بنا بلکہ بنگلہ دیش کے نام سے علیحدہ اسلامی ملک بنا لیکن ہم مغربی پاکستان کے لوگ آج 51 سال بعد بھی اس حادثے پر سنبھل نہیں پائے، ہم آج بھی غمگین ہیں۔
سقوط ڈھاکہ کے بعد دشمن نےفرقہ واریت کے کھیل میں اور تیزی لائے لیکن اس ملک کے رکھوالوں کے طفیل پاکستان مزید ناقابل تلافی نقصان سے بچتا رہا۔ لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ بلوچستان پر کس کی گندی نظر ہے گوادر کی ترقی کس کو نہیں بھا رہی اور کون گلگت بلتستان و کشمیر ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔
آج ہمیں مذہبی فرقہ واریت نے گھیر رکھا ہے محرم اسلامی دنیا کا مقدس ترین مہینہ ہے اس کے احترام کا باقاعدہ حکم ہے۔ افسوس! افسوس محرم کے مقدس مہینے میں ہمیں یہ تقسیم واضح نظر آتی ہے۔ پاکستان جیسے نظریاتی ملک میں سوشل میڈیا پر نظر آنے والے شیعہ سنی تقسیم کے ٹرینڈز نہایت افسوس ناک ہیں۔
قابل غور بات لیکن یہ ہےکہ یہ اختلافات واضح کرنے والوں کی تعداد بہت تھوڑی ہے اور بہت زیادہ تعداد ان نیوٹرل مسلمانوں کی ہے جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں ۔ یہ کڑھتے تو ہیں لیکن ان اختلافات کو ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے ۔ یہ نیوٹرل مسلمان اس مذہبی فرقہ واریت کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں۔ کیسے؟ "محبت کے پیغام سے”۔
تاریخ انسانی کی عظیم ترین قربانی کے طفیل واقعہ کربلا کا یہ نتیجہ ہے کہ یزید کا آج کوئی نام لیوا تک نہیں، آج الحمداللہ سب حسینی ہیں۔ رہتی دنیا تک جب جب کوئی مظلوم ہو گا، اس کو یہ اطمینان ہوگا، اس کو یہ فخر ہوگا، کہ وہ حسینی ہے، میرے مولاحسینؑ کی یہ شان ہے – حسینیت کیا ہے؟ حسینیت محبت ہے اور ہم لوگوں کو اسی محبت کی ضرورت ہے۔
حسینؑ کی تقریم ایمان کا حصہ ہے، ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا، حسینؑ مجھ سے ہیں اور میں حسینؑ سےہوں اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسینؑ سے محبت کرتا ہے)۔
عشق رسول کا راستہ عشق حسینؑ میں پنہاں ہے، درود و سلام میں پنہاں ہے-
مولا حسینؑ نے تاریخ انسانی کی عظیم ترین قربانی میرے نبی کی امت کو جوڑنے کے لئے دی تھی، نہ کہ توڑنے کے لئے- آج جوڑنے کی بات کریں، محبت کی بات کریں، حسینیت کی بات کریں-آج ضرورت اس بات کی ہے شعیہ اور سنی چند اختلافی معاملات کی بجائے ایک دوسرے کی بہت ساری اچھائیاں بیان کریں ۔ سنی کہیں شیعہ بہت اچھے مسلمان ہیں اور شیعہ کہیں کہ سنی بہت اچھے مسلمان ہیں اور اللہ کا حکم یاد کریں،اور اﷲ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو، اور آپس میں پھوٹ نہ ڈالو۔
میرے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت میں سب مسلمان تھے، کوئی شیعہ نہیں تھا، کوئی سنی نہیں تھا، کوئی وہابی نہیں تھا، کوئی دیوبندی نہیں تھا، کوئی بریلوی نہیں تھا، سب صرف اور صرف مسلمان تھے- ہمیں آج اس ایمان اس اتحاد کی ضرورت ہے۔ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ،
اصحاب سے نسبت ہو یاحسینؑ سے نسبت
بنیاد فقط سرور کونینﷺ سے نسبت
فیس بک کمینٹ

