ڈاکٹر عفان قیصرکالملکھاری

حصار کے قیدی : گونج / ڈاکٹر عفان قیصر

انسان غم کی گرفت سے کبھی نہیں نکلتا، خوشی محض تھکان اتارنے کا ایک وقفہ ہے۔ اسی خوشی کی تلاش میں انسان اپنی روح کے خول سے باہر آتا ہے اور جسمانی خواہشات کا تابع ہوکر،اپنے گرد ایک دائرہ بناتا ہے اور پھر اسی دائرہ میں اپنی پوری زندگی گزار کر،اسی میں دفن بھی ہو جاتا ہے۔یہ دائرہ ،اس کے آباﺅ اجداد، ان کی مالی حیثیت،انسان کی ذاتی زندگی،اس کے گرد گھومنے والے حالات ، اس کا خاندانی پس منظر، حتی کے معاشرتی واقعات کا ملا جلا ایک حصار ہوتا ہے۔ راقم الحروف کو وہ سرد تاریک رات آج بھی یاد ہے، ہاسٹل کے کمرے میں دم گھٹنے لگا ،تو جوگر پہنے اور لمبی واک پر اکیلا نکل گیا، کانوں میں گونجتا ہینڈز فری کا سرور ، دو گھنٹے سڑک پر چلنے کے بعد احساس ہوا کہ ہاسٹل سے بہت دور نکل آیا ہوں، واپسی کے لیے سواری کے پیسے ہاسٹل سے اٹھائے نہیں تھے،اور پیدل واپس کے لیے ہمت ختم ہورہی تھی، واپسی کی راہ میں ، رات دو بجے ایک گاڑی کے فلیکر، پیچھے پڑتے محسوس ہوئے، یہ بہاولپور کے کوئی نواب تھے، لال نمبر پلیٹ والی مہنگی ترین گاڑیاں، اکثر رات بہالپور کی سڑکوں پر دکھائی دیتی ہیں، اور یہ کہا یہی جاتا ہے کہ یہ ریاست بہاولپور کے نوابوں کی آل اولاد ہیں۔ تھکان سے چور لفٹ مانگ لی، اور حیران کن طور پر ایک نوجوان نے تین سے چار کر وڑ مالیت کی اس کار کا دروازہ کھول کر اندر بٹھا لیا۔ تعارف کے بعد، ہاسٹل تک اتارنے کے لیے گاڑی فراٹے بھرنے لگی۔پانچ منٹ بعد،اس گاڑی کے اندرونی آسائشی مناظرکا Euphoria مجھ پر طاری ہوچکا تھا، اور دس منٹ بعد میں خود کو بھی ایک نواب سمجھنے لگا،یہ ایک الگ ہی دنیا تھی۔ اپنے کیرئیر کی فکر سے آزاد، گھر سے دوری کی پریشانی، ماں باپ کی یاد، ہاسٹل کے گندے کمروں، سخت ترین پڑھائی،میں اس حصار سے نکل کر ،ایک الگ دنیا کا باسی بن گیا تھا، مجھے یوں لگا، جیسے مجھے کسی نے ایک دن کی بادشاہت عطا کردی ہے اور آج جو بھی ہوں ،میں ہوں۔ تھوڑی دیر بعد جوان نواب نے مجھے ہاسٹل کے گیٹ پر اتار دیا، اور گاڑی سے اترنے کے دو منٹ بعد ہی میری نوابی بھی اتر گئی اور میں پھر سے اس حصار میں قید اپنی بقا کی جنگ لڑنے لگا۔ڈاکٹر بن جانے کے بعد، ایک رات سرکاری ہسپتال کی ایمرجنسی ،راقم القلم اپنے اسی حصار میں مریضو ں کی ذاتی پریشانیوں سے عاری مریض دیکھ رہا تھا، کہ ایک لڑکے کو بار بار اپنے والد کی حالت پوچھنے پر، مز ید تفصیل سے مریض دیکھنے کے لیے ،ساتھ کھڑا پایا ۔ اس کے والد کو آخری سٹیج پر گردوں کی بیماری تھی اور صبح ہوتی دکھائی نہیں دیتی تھی۔ایسے میں نجانے رات کے کس پہر ، ایک نوابی کیفیت طاری ہوئی ،اور میں ہاسٹل کی اسی رات کی طرح، اپنے حصار سے باہر آیا اور اس لڑکے کے زندگی کے دائرے میں داخل ہوکر اسے اپنے اوپر طاری کرلیا، روح ایسی کانپی کے پوری رات ایک ٹانگ پر اس کے والد کو بچانے کی کوشش میں کٹ گئی،اس کے والد تو نہیں بچے، مگر مجھے Euphoria کی تصویر کا دوسرا رخ ضرور دکھا گئے۔ یہ میری زندگی کا بہت بڑا سبق تھا، کسی کی اندرونی کیفیت کو جاننے کے لیے آپ کو اپنے جوتوں کے خول سے باہر آنا پڑتا ہے، اور آپ کو اس شخص کے جوتوں میں قدم رکھنے ہوتے ہیں، دوسرے الفاظ میں وہ دائرہ ، جو آپ نے اپنی ذاتیات کے لیے کھینچا ہوتا ہے، آ پ کو اس دائرے سے باہر آکر،اس شخص کے دائرے میں داخل ہونا ہوتا ہے کہ جس کی مصیبتیں اور مشکلات آپ جاننا چاہتے ہیں۔ پاکستان کو آزاد ہوئے، ستر سال ہونے کو ہیں، دہائی در دہائی ، یہاں مختلف حصاروں میں گھرے ،انسانوں کے گروہ بستے آرہے ہیں۔ کوئی حاکم ابن حاکم ہیں، ان کے آباﺅ اجداد، وڈیرے تھے، جاگیردار تھا، یا کسی طور اقتدار کے شراکت دار تھے، ان کے دائرے میں جو ہے، وہ شائد کچھ ویسا ہی ہے، جو تین کر وڑ کی گاڑی کے اندر کا منظر تھا۔ وہاں عیش ہے، عشرت ہے، حاکمیت ہے، شان و شوکت ہے، پروٹوکول ہے، دولت ہے ،اور مزید دولت ہے ،اور اس دولت میں چھپی نسل در نسل ایک ایسی زندگی ہے ، جس کا تصور ،اس دائرے کے لوگ نہیں کرسکتے، کہ جس کا والد ،کسی سرکاری ہسپتال کے ٹوٹے ہوئے ،بستر پر آخری سانس لے رہا ہو،اور اس کے پاس مزید علاج کے پیسے نہ ہوں، اس دائرے کے لوگ، یہ بھی نہیں جانتے کہ انہیں اگلے وقت ، روٹی ملے گی یا بھوکا سونا پڑے گا۔ بس انہی پریشانیوں میں گھرے، وہ اس دائرے کی جانب دیکھتے بھی نہیں ، اور ہر کسی کو اپنے حصار میں قید نظام کو اسی طرح چلنے دیتے ہیں۔ جب تنگ دستی، پریشانی، غربت، افلاس، بیماری کی فکر کے قید حصار کے باسی، نسل در نسل عیش پرستی کے مزے کی ایک جھلک کا بھی تصور نہیں کر سکتے، تو پھر نسل در نسل شہنشاہوں والی زندگی گزارنے والے، اپنے اسی نشے کے دائرے میں بیٹھ کر، اپنے شاہی جوتوں کے خول میں، غریب کے دائرے میں داخل ہوکر، ان کی مشکلات کا حل کیسے ڈھونڈ سکتے ہیں؟ بھوکے پیٹ ، بچے بلک رہے ہوں، تو غربت کے حصار میںقید، باپ بچوں سمیت،کس کیفیت میں خود کو جلا ڈالتا ہے، اس کیفیت کا احساس مخمل کے بستروں پر ، دنیاوی جنت کے ہر میوے سے لطف اندوز ہونے والے کیسے کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب ملنا ناممکن ہے۔ ایک ایسی قوم کے لیے تو بالکل ہی ناممکن ہے ،کہ جس کا نوے فیصد سے زائد ، غربت کے حصار میں رہتے ہوئے بھی،اس دس فیصد کی طرف ،اپنی تمام پریشانیوں کے لیے دیکھتا ہے، جنہوں نے کبھی ،ان کی مصیبتوں کا ایک فیصد بھی محسوس نہیں کیا۔ ان کی شاہی جوتوں کے خول میں ان کی نسلوں کو یہی حاکمیت ،اسی شان و شوکت سے منتقل کرنے کی اپنی پریشانیاں ہیں، ان پر ہوئے ظلم ، ایک عجب رقت طاری کرتے ہیں، ایک ایسی رقت ، جو شائد کسی غریب کی کٹیا میں اپنی بدترین شکل میں بھی داخل ہوجائے، تو اس کے دن پھر جائیں، اس کو ایک دن کی بادشاہت مل جائے، یا پھر دس منٹ کا وہ سفر جو تین کروڑ کی گاڑی میں طے کرنے پر دنیا ہی نوابی لگنے لگے۔ جمہور سے بنی اور چلائی جانے والی ریاستوں میں عموما یہ دائرے، مٹ جایا کرتے ہیں، مگر جب جمہور کے دائروں کو دیواروں میں بدل دیا جائے، اور ان پر باڑیں لگا دی جائیں، ارد گرد بکتر بند گاڑیوں کی قطاریں لگ جائیں، تو حصار کے قیدیوں کا اپنے اپنے دائروں سے صدیوں نکلنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ دائروں سے باڑ والی دیواروں کی تشکیل ، جہاں عشرت زادوں کی نسلوں کا مستقبل ان دیواروں کے حصار میں تابناک کر دیتی ہیں، وہیں غریب کی کٹیا ، میں جلتے دیے، ہوا کے دوش پر بجھتے دکھائی دیتے ہیں، یوں جہاں ایک طرف زندگی رقص کرتی ہے ،تو دوسری جانب موت ناچتی ہے اور حصار کے قیدی اپنے اپنے دائروں میں ہی زندہ بھی ہوتے رہتے ہیں ،اور مرتے بھی رہتے ہیں، اور ان کی زندگی کی طرح ،موت بھی ویسی ہی ہوتی ہے۔ جہاں ایک طرف قبروں پر بھی محل کھڑے ہوتے ہیں، وہیں دوسری طرف لاش کو کفن بھی نصیب نہیں ہوتا۔ یوں انسان اپنے اپنے غم کی گرفت سے دونوں حصاروں سے کبھی نہیں نکلتا، خوشی محض تھکان اتارنے کا وقفہ ہی ہوتی ہے۔ کہیں یہ وقفہ ،ختم نہیں ہوتا ،اور کہیں اس کی نوبت نہیں آتی۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker