ایم ایم ادیبکالملکھاری

عوام عمران رومانس انجام کے دہانے پر ؟۔۔ ایم ایم ادیب

ہر رومان کی ایک عمر ہوتی ہے ،مگر تاریخ کا یہ پہلا رومانس ہے ،جو شروع ہوتے ہی انجام کے دہانے پر آن کھڑا ہوا ہے ، امید کے دھاگے ٹوٹنے میں کچھ وقت تو لگتا ہے ،اس رومانس نے تو وقت سے پہلے ہی سب کچھ سمیٹ لیا۔وزیر اعظم عمران خان جن دعووں کے ساتھ اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہوئے وہ شکست ِ انا کی دلیل ٹھہرے ،اب عمران خان شاہراہِ حیات پر تنِ تنہا کھڑے ہیں ،ان کی ٹیم کے سب کھلاڑی ان کے لئے بے سود ثابت ہوئے اور تو اور اسد عمر جیسا آدمی بھی خالی چنا نکلا ،جو اقتدار سے پہلے اتنا بجا کہ خود اپنی دانش کے بخیے ادھیڑ لئے،بھلا وہ بھی کوئی ماہرِ معیشت ہوتا ہے جو معاشیات کی رگ پر انگلی رکھنے کی ابتدائی کاوش ہی میں بے نیل ومرام ٹھہرے،جس میں قوت فیصلہ کا اس قدر بحران ہوکہ اپنے ہی ساتھ دو قدم چلنے کی صلاحیت سے عاری و بے بہرہ ہو،ملک کے سب سے بڑے صوبے کو عمران خان نے اپنے لئے ویسے ہی پیرِ تسمہ پا بنا لیا،اور یہ فواد چوہدری ،اطلاعات جیسی مخملیں وزارت میں ٹاٹ کا پیوند
لگا دیا۔ آخر کس کس کا رونا قوم کو رونا ہے ،وزارت عظمیٰ کے حرم میں کوئی رتن بھی ایسا نہیں جو آبدار ہو،جس پر انگلی رکھیں وہی زہر بھرا ڈنک،اپنوں اور پرایوں سب کی جان جوکھوں میں ،ہیرے جواہرات کی کمی ضرور ہے قحط تو نہیں پڑا،بس وزیر اعظم کا خود پر بڑھا ہوا اعتماد انہیں دلدل کی طرف دھکیلے جا رہا ہے،وہ جو پہلے کبھی مضبوط ارادوں کا خود سر آدمی مانا جاتا تھا ،اب اس میں خود سری نظرآتی ہے نہ فیصلوں کی پختگی،یوں لگتا ہے سب کچھ ان کے ہاتھوں سے نکلتا جارہا ہے۔ سو دنوں کی مدت کا آدھے سے زیادہ سفر تمام ہوا ،اب وہ دو برس پر آن کھڑے ہوئے ہیں ،مگر اس ٹیم کے ساتھ تبدیلی کے لئے سو برس بھی ناکافی لگتے ہیں ۔
ضمنی الیکشن میں میدان مار لینا کوئی کارنامہ نہ ہوگا،کہ مفاد پرستوں اور ابن الوقتوں کے سارے راستے ایسی ہی جیت سے گزرتے ہیں ،جتنے گامے ،ساجے اکھٹے کئے گئے ہیں سب وعدوں کی چوسنیاں افتادگان خاک کے منہ میں سجا کر
کامیابی اپنے نام ضرور لکھ لیں گے کہ حکومت وقت کی آشیر باد کا چغہ ان کے پاس ہونا کافی،مگر یہ سب سطحی ،جس روز آپ کے اقتدار کا سورج ڈوبتا محسوس کیا موسمی پرندے اڑان بھرنے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ بائیس برس کے سیاسی سفر میں تحریک انصاف کی تکسال میں بائیس سکّے بھی ایسے نہ ڈھالے جا سکے جو امور مملکت چلا سکتے،جو عمران خان کے رومانس کو اس طور پروان چڑھاتے کہ ہر ایک فرہاد بن جاتا ۔ پی پی پی اپنی تمام تر چیرہ دستیوں کے باوجود،ن لیگ اپنی بے انتہا بدعنوانیوں کے باوجود کرہ ارض سے مٹی نہیں ،دونوں کی قیادت کے رومانس پر ذرہ برابر آنچ نہیں آئی،جبکہ عمران خان کا شخصی فسوں پچاس روزہ اقتدار ہی میں زوال پذیر ی کی جانب گامزن دکھائی دیتا ہے ۔ جیب میں کھوٹے سکّے ہونے کا شکوہ تو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو بھی تھا ،مگر تحریک انصاف کے قائد کی کیسی زنبیل ہے ،جس میں کھوٹے سکّوں کی بھر مار ہے مگر احساس زیاں کا اعتراف نہیں،وزیر اعظم کا بار بار لاہور آنا ،پنجاب پر
اپنے تسلط کا تاثر جتانا،ان کی بے چینی اور اضطراب کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بھی کہ وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی کار کردگی سے قطعاََ مطمئین نہیں ۔ اب تو عمران خان پر ترس سا آنے لگا ہے ،یا اس کے لوگ اس کو سمجھ نہیں سکے یا وہ اس قوم کے اجتماعی مزاج کو جان نہیں پائے،وہ نابغہءروزگار لوگ جنہیں آہستہ آہستہ ان سے دور کیا جارہا ہے ،یا وہ خود کنارہ کشی پر مجبور ہیں ،کہ اقتدار ان کی ضرورت نہیں ،وہ اصلاح احوال کے آرزو مند تھے،وہ جو آج بھی ” دیئے“ کو عمران خان کا انتخابی نشان تصور کرتے ہیں اور قوم کو بد عنوان لوگوں کے چنگل سے نکال کر روشن سویرے کی دہلیز پر لاکھڑا کرنے کی امید کے ساتھ جی رہے ہیں ۔ عمران خان میں شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسی قابلیت ہے نہ صلاحیت ،ان دونوں میں سے کوئی ایک وصف بھی ان میں ہوتا تو وہ اقتدار کے دو ہی ماہ میں یرغمال نہ بنا لئے جاتے،بھٹو شہید کو قابو کرتے کرتے پانچ سال لگے تھے ،اس کی وجہ یہ تھی کہ انہوں نے پارٹی کی جڑیں مضبوط کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ،جبکہ وزیر اعظم عمران خان کا المیہ یہ ہے کہ
پارٹی ان کی ترجیحات ہی میں نہیں رہی ،ان کے گرد مفاد پرستوں کا جمع ہونے والا ٹولا پہلے قدم پر ہی اپنا گھیرا اتنا تنگ کر چکا ہے کہ انہیں اپنے اصلی وژن کی تکمیل کی راہ پر چلنے ہی نہیں دے رہا،جبکہ وزیر اعظم کی حالت کچھ ایسی ہے کہ
ہر رات تجھے دل سے بھلا دینے کا وعدہ
ہر صبح مکر جاتا ہوں ،معلوم نہیں ہے
اس میں شک نہیں کہ ملبہ بہت زیادہ ہے ،مگر اس سے بھی بڑھ کر مٹی کا قرض جو کسی ایک حکمران نے بھی نہیں چکایا ،اس درد کی لمبی تفصیل ہے ،داستان الف لیلیٰ سے بھی طویل ۔ یہ جو گھر دینے کا خواب لوگوں کی آنکھوں میں سجایا ہے اور اس بارے جو منصوبہ بندی کی ہے ،یہ تو سب سراب ٹھہرے گا، ضرورت مند ترستے رہ جائیں گےاور جو مسند نشین ہیں وہ اپنے حاشیہ نشینوں کی بستیاں کی بستیاں بسا لیں گے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker