ڈاکٹرعفان قیصرکالملکھاری

مٹی، اوقات اور زندگی کی اصل حقیقت۔۔گونج /ڈاکٹر عفان قیصر

میں ساحل کی گیلی مٹی پر بیٹھا تھا، رات کے دو بج رہے تھے۔ سخت سردی ، آنکھوں کے سامنے گہرا نیلا سمندر، انسان کی زندگی کی اصل حقیقت ؟۔ گہرا سمندر ،اس کی موجیں، ٹھنڈی رات اور گیلی مٹی یہ سوال دینے سے قاصر تھیں۔ انسان کی زندگی کی حقیقت جاننے کے لیے محققین نے ان گنت کتابیں لکھ ڈالیں، مگر آج تک کوئی اس راز کو نہیں پا سکا۔ میرے ہاتھ ایک غیر مسلم گورے ولیم کی کتاب لگی اور میں نے وہ پڑھ ڈالی،زندگی کی اصل حقیقت شاید اسے بھی معلوم نہیں تھی، مگر شاید وہ مجھے کئی ایسے سوالوں کے جواب دے گیا،جو میرے ذہن میں گھر کیے تھے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے، تو اس سوچ کے ساتھ پیدا ہوتا ہے کہ وہ لافانی ہے، وہ اس کائنات کی ایک الگ حقیقت ہے اور وہ کبھی ختم نہیں ہوگا۔ اس سوچ کے تحت وہ پروان چڑھتے لگتا ہے، مگر اس کے گرد معاشرہ اور پھر کچھ ایسی طاقتیں ،اس کو فنا کا یقین دلانے لگتی ہیں، جو اس پر اس کائنات کی اصل حقیقت کھولنا چاہتی ہیں۔ انسان میں ڈر پیدا ہوجاتا ہے،وہ ڈرنے لگتا ہے اور پھر اسی خوف کے طابع، تاریخ میں کئی انسان یا تو ڈیپریشن کا شکار ہوجاتے ہیں، یا خود کو وقت سے پہلے ختم کرلیتے ہیں، مگر انسانوں کی اکثریت ایسا نہیں کرتی ۔ ان میں اکثر ، اس حقیقت کو جاننے کی کوشش ہی نہیں کرتے ، اور وقت کے بہاﺅ میں بہتے جاتے ہیں، مگر کچھ لافانیت، فانیت سے جڑی ،زندگی کی اس حقیقت کو جاننے کی سعی کرتے ہیں اور پھر خوف میں آکر یا تو زمانے کے اڈولف ہٹلر، صدام حسین ، سٹالن بن جاتے ہیں اور لافانیت حاصل کرنے کے لیے طاقت کو اپنا مرکز بنا کر لاکھوں انسانوں کو فنا کر ڈالتے ہیں اور کچھ فنا ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر اسی سارے چکر میں ایک اور راہ بھی ہوتی ہے، جسے اس گورے نے تو Eternal Life کے نام سے جانا، مگر در حقیقت یہ یہ راہ مستقیم ہے۔ ساحل کی گیلی مٹی ، گہرا سمند ر اور زندگی کی حقیقت ، ایک دن اسی کھوج میں ایک دربار کا رخ کر بیٹھا ۔ مجھے ایک ایسے شخص سے ملنا تھا،جو میرے ایک ریڈیو کے پروگرام میں ایک دو بار مہمان کے طور پے آیا ۔ کمال آواز تھی اس کی،بابا بلھے شاہ کا کلام ، قوالی ، حمدو نعت ۔سب پر عر وج حاصل تھا اسے۔اس کے گلے میں کچھ ایسا تھا،جو سننے والوں کو کچھ دیر کے لیے اس دنیا سے بے دخل کردیتا تھا اورکسی اور ہی دنیا کا مسافر بنا دیتا تھا۔ مجھے اسی کی تلاش تھی۔ مزار پر پہنچا تو ایک کونے میں اسے لیٹے پایا۔ پاس بیٹھا اور بچے کی طرح ضد کرنے لگا کہ وہ مجھے بابا بلھے شاہ کا کلام سنائے۔ آج میری قسمت جاگ اٹھی تھی۔وہ وجد کی حالت میں تھا۔ ایک بار اس نے میرا نام لیا اور پھر بولتا چلا گیا۔اس سارے لمحے میں مجھے کئی بار احساس ہوا کہ مجھے جکڑ لیا گیا ہے۔ میں کسی اور دنیا میں سفر کررہا ہوں۔ بیٹا ،جو تو پوچھنے آیا ہے،میں جانتا ہوں۔ یہ سب عورت کی زُلف کی اسیری ہے۔ وہ ایک طوائف تھی۔ میں بندہ بشر ،جوانی ۔راہیں متعین نہیں تھیں، دل دے بیٹھا۔ اس کے بستر پر پڑی کئی سلوٹیں،مجھے اس سے باز نہیں رکھتی تھیں۔ مجھے شروع میں جسم کی کشش اس کے پاس لے کر گئی،مگر پھر وہ سب بدل گیا، میرا سونا، میرا جاگنا، میری سوچیں،سب اس کی زلف کی اسیر ہی تو تھیں۔ ماں باپ سے پیار تھا،ماں سے بات کی تو اس نے مجھے زندہ دفن کرنے کا بول دیا۔میں نے ماں چھوڑ دی، کیسا بد بخت تھا میں۔ جوگی بن گیا۔ نیلے آسمان پر باد ل آچکے تھے۔ بارش ہونے کو تھی۔ مجھے نہ جانے کیوں ایسا لگنے لگا کہ بادل بھی اس کی محبت کا قصہ سننے اکھٹے ہو چلے ہیں۔ تمہیں کبھی ایسا عشق ہوا ہے ؟ جو تمہیں فانی کرنے چلا ہو، اور لافانی کردے۔یہ وہ عشق ہے ہی نہیں ،جسم کاعشق ۔ یہ روحوں کا عشق ہے۔یہ عشق انسان کو کائنات کے کسی دوسرے حصے میں لے جاتا ہے،زمین پر رہنے نہیں دیتا ،عشقِ لاحاصل۔ جب انسان جھولی بھر بھر محبت کرے اور خالی دل ،خالی ہاتھ لے کر پھرے ،ایسا عشق۔یہ غلط ہے کہ عشق کیا جاتا ہے۔ یہ تو بس ہو جاتا ہے بچے۔اس کا وار اتنا سخت ہوتا ہے کہ اس کی جھونک شاید ہی کوئی سنبھال سکتا ہے، نگاہیں ،بینائی کھو دیتی ہیں،عقل شکست کھا جاتی ہے۔ یہ ایسا عشق ہے۔ پاک عشق۔ مجھے ماں کی طرح ،اس کے در سے بھی ٹھوکر کھانی پڑی، میری روح کو وہ جسم سمجھتی رہی اور میں پاگل ،اس کے جسم کو روح سمجھ کر اپنا سب کچھ بربار کر بیٹھا۔ بس پھر میں آکر یہاں خدا کے بندے کے در پر بیٹھ گیا۔ رو رو کر، گڑ گڑا کر،بچوں کی طرح اپنے رب سے اسے مانگنے لگا۔ مگر وہ کہاں مل سکتی تھی ،مجھے۔ شاید مل جاتی تو خدا نہ ملتا۔پتہ نہیں۔ بادلوں کی گرج ،ایسی تھی کہ میری طرح بادل بھی،اس کی اس بات پر ناراض تھے۔کہ وہ ایسی عورت کے ساتھ محبت کو خدا کی محبت سے کیسے ملارہا ہے۔ بابا جی ، خدا نہ ملتا مطلب، ایک گنہگار عورت کے ساتھ یوں محبت ہوجانا ، ایسے تو میری زندگی میں بھی کئی خیال آئے، کہ مجھے لگا کہ مجھے اس لڑکی سے محبت ہو چلی ہے۔ مگر میں نے تو ہمیشہ اس کو ناپاک جانا۔ وہ چیخ اٹھا۔ وہ ناپاک ہی تھی، اسے محبت کا نام نہیں دے سکتے۔ تم روح کا مطلب نہیں جانتے ۔ جسم کے طواف،جسم کی محبت ،اس کو روح کی محبت کانام دو گے،تو و ہ ناپاک ہوگی۔ مطلب، باباجی طوائف سے محبت پاک محبت ، کسی بھی لڑکی سے محبت ،ناپاک محبت میں سمجھا نہیں۔ بابا جی نے سر جھکایا ،آنسو ؤں سے چہرہ تر ہونے لگا۔خدا کے لیے ،روح کی محبت کو ناپاک نہیں کہو، روح طوائف نہیں ہوتی ۔روح ،روح ہوتی ہے۔ میں اس عورت کو مانگنے یہاں دن رات خدا کی عبادت کرنے لگا، میں عبادت اس لیے نہیں کرتا تھاکہ مجھے یہاں وقت گزاری کا بہانا چاہیے تھا۔مجھے تو بس سکون ملتا تھا۔ ایسا سکون جو میں بیان نہیں کر سکتا، ایسے جیسے میں اس دنیا میں ہوں ہی نہیں۔ پھر وہ وقت آیا جب مجھے میرے نبی پاک ﷺ نے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔ میں چونک گیا مطلب؟ مطلب یہ ہرا رنگ جو میں نے پہن رکھا ہے۔ مطلب صرااطِ مستقیم۔ مطلب ایک ایسا راستہ ،جس کے سب راستے عالمِ ارواح کی طرح جاتے تھے۔ میری نمازیں ، میری عبادت ،میری حمد، میری نعت،بس یہی تو میری کائنات تھی۔ مجھے ایک ایسے جسم کی روح نے ایسی جگہ پہنچا دیا ،جہاں میں لاکھ عبادتوں کے ساتھ بھی نہیں پہنچ سکتا تھا۔ مجھے اللہ سے عشق ہوگیا تھا۔ وہ شخص ، اپنے آپ کو مکمل کرنے چلا تھا، وہ چاہتا تھا کہ وہ زندگی میں فنا ہوجائے، مگر اللہ نے ایک زلف کی اسیری میں اسے صراط مستقیم دے دی ،اسے امر کردیا۔ اسے زندگی کی اصل حقیقت دے دی،جینے کا اصل مقصد دے دیا،اس لافانی کردیا۔ مجھے میرے سوال کا جواب مل گیا تھا۔ میں آج پھر ساحل کی گیلی مٹی پر آبیٹھا تھا، رات تاریک تھی،سمندر گہرا تھا، مگر آج مجھے میری اوقات پتا تھی۔ میں فانی ہوں، مگر ایک راستہ ہے ،جو میری بچپن کی لافانیت کی بنیادی خواہش کو پورا کرسکتا ہے۔ اس کے لیے نہ تو مجھے ہٹلر بننا ہے، نہ لاکھوں انسانوں کو مارنا ہے اور نہ ہی معاشرے اور کچھ انجانی قوتوں کے دیے خوف سے ڈرنا ہے۔ مجھے تو بس لوح لگانی ہے، عشق کرنا ہے۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker