اسلام آباد : ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے کیس کے سلسلے میں دفتر خارجہ نے اپنی رپورٹ اسلام آباد ہائی کورٹ میں جمع کروا دی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی قونصلر کو ڈاکٹر عافیہ تک آخری بار رسائی 28 جنوری 2022 کو دی گئی تھی تاہم قونصلر رسائی کے دوران ڈاکٹر عافیہ نے قونصلر سے بات کرنے سے انکار کر دیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق امریکی قانون کے مطابق عافیہ صدیقی نے پاکستان قونصلیٹ کو ان افراد کی فہرست میں شامل نہیں کیا جن سے وہ اپنی صحت کے بارے میں معلومات شیئر کرنا چاہتی ہیں۔
`ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے اپنی بہن ڈاکٹر فوزیہ، بھائی محمد علی اور اپنی وکیل ماروا ایلبیالی کو اس فہرست میں شامل کیا ہے اور ڈاکٹر عافیہ صرف اپنے مقرر کردہ افراد کے ساتھ اپنی صحت بارے معلومات شیئر کرتی ہیں۔خیال رہے کہ عافیہ صدیقی امریکی ریاست ٹیکساس کی جیل میں 2008 سے قید ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کی جانب سے عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کی گئی ہیں اور پاکستانی حکام نے یہ معاملہ مسلسل ہر سطح پر امریکی حکام کے سامنے اٹھایا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عافیہ صدیقی کے قانونی و انسانی حقوق کا معاملہ امریکی حکام کے سامنے باقاعدگی سے اٹھایا جاتا ہے اور امریکا کے فیڈرل میڈیکل سینٹر میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ٹیلی فون تک رسائی حاصل ہے۔دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ عافیہ صدیقی کو اپنے خاندان سے بات چیت کی مکمل آزادی ہے۔
دفتر خارجہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قونصلر رسائی کے وقت ڈاکٹر عافیہ بالکل صحت مند تھیں اور پاکستانی قونصلر باقاعدگی سے عافیہ صدیقی کے خاندان کو ان کی صحت بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔
دفتر خارجہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی قونصلیٹ نے ایک بار پھر جلد ڈاکٹر عافیہ تک قونصلر رسائی کی درخواست دی ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے `عافیہ صدیقی کے حقوق کا معاملہ اسلام آباد اور واشنگٹن میں ہونے والی امریکی حکام سے اٹھایا جا رہا ہے۔ ہوسٹن میں پاکستانی سفارت خانے اور قونصلیٹ جنرل نے مکمل ٹرائل سزا اور قید کے دوران عافیہ صدیقی سے رابطہ رکھا۔
` ہوسٹن میں پاکستانی قونصلیٹ جنرل ہر تین ماہ بعد عافیہ صدیقی سے ملاقات کرتے ہیں۔ اب بھی فیڈرل میڈیکل سنٹر کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں تاکہ عافیہ کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے۔‘
حکام کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی یا ان کے خاندان کی طرف سے سامنے لائے جانے والے مسائل کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو)
فیس بک کمینٹ

