ڈاکٹر اختر شمارکالملکھاری

ہم کہہ رہے تھے دن جسے وہ رات ہو گی۔۔ڈاکٹراخترشمار

کسی دور میں مشاعرہ ہماری تہذیبی اقدار کا اہم حصہ ہوا کرتا تھا، لوگ رات رات بھر مشاعروں میں موجود رہا کرتے تھے ۔ اصل بات یہ ہے کہ اس وقت تفریح کے ذرائع بھی کسی حد تک محدود تھے ۔ اب تو سوشل میڈیا اور خاص طور پر ٹیلی ویژن نے ہماری روزمرہ زندگی کے معمولات ہی بدل کے رکھ دیئے ہیں، اب شہر میں شعری نشستیں منعقد تو ہوتی ہیں، مگر ان میں سامعین کی مخلوق بہت ہی نایاب ہو چکی ہے، شعراءہی سامعین کا کردار نبھاتے ہیں اس کا ایک نقصان یہ ہوا ہے کہ ہر شاعر کو اپنا کلام اور وہ بھی اچھا خاصا سنانے میں دلچسپی ہوتی ہے جب سینئر شعراءیا صدر محفل کی باری آتی ہے تو کرسیوں پر چند لوگ ہی باقی رہ جاتے ہیں، بیشتر جونیئر شاعر اپنا کلام پیش کرنے کے بعد ”کھسک“ جاتے ہیں۔ ایسی شعری نشستیں بھی اب محض ستائشی باہمی کی محفلیں بن کر رہ گئی ہیں۔
ایک زمانے میں کالجوں میں طرحی مشاعرے ہوا کرتے تھے کالجوں میں طلباءکی ادبی تربیت کے لئے ایسی ادبی محافل بہت سود مند تھیں، مگر اب تو بہت کم کالجوں میں ادبی تقریبات یا خاص طور پر مشاعرے کی محفل دکھائی دیتی ہے، چند خواتین کالجوں میں بزم شاعری کی محفلیں باقی ہیں۔
اگلے روز لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کے زیراہتمام دو روزہ بین الاقوامی سیمینار کا انعقاد عمل میں لایا گیا جس میں پہلے روز ”غالب اور فیض دو زمان ایک زبان“ اور دوسرے روز ”فارسی اور اردو کا مزاحمتی ادب“ کے موضوع پر بہت اچھے مقالات پیش کئے گئے۔ لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی لاہور کی وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ مرزا مبارکباد کی مستحق ہیں کہ انہوں نے اردو زبان و ادب کے فروغ میں جامعات کے کردار کو پہچانتے ہوئے عمدہ تقاریب کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے، دو روزہ سیمینار کی کامیابی کا سہرا بلاشبہ یونیورسٹی کے اردو شعبے کو جاتا ہے، ڈاکٹر حمیرا ارشاد خود بھی ادب کا نہ صرف اعلیٰ ذوق رکھتی ہیں بلکہ ان کی تخلیقی شخصیت کی موجودگی میں بہت سا تحقیقی ادبی کام بھی ہو رہا ہے ان کی دلچسپی سے یہاں اعلیٰ پائے کا مشاعرہ بھی برپا کیا گیا ، مشاعرے میں شہر بھر کے ممتاز شعراءنے شرکت کی، یونیورسٹی کی اساتذہ میں ڈاکٹر حمیرا ارشاد کے علاوہ سعدیہ بشیر اور دیگر نے بھی اپنا کلام پیش کیا۔ نظامت کے فرائض بہت ہی ہونہار تخلیق کار ڈاکٹر عائشہ عظیم نے ادا کئے، ان کی معاونت ڈاکٹر شازیہ نے کی، مشاعرے کی صدارت نامور شاعر ڈرامہ نگار امجد اسلام امجد نے کی، اس موقع پر کالج کے اساتذہ کے علاوہ وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ مرزا بھی آخر تک موجود رہیں، شعرا میں عباس تابش، سعود عثمانی، اشفاق ورک، طاہر شہیر، حمیرہ شاہین رحمان فارسی، طارق ہاشمی، صغیر احمد، وسیم عباس اور دیگر شامل تھے رات 7 بجے تک طالبات شاعری سے محظوظ ہوتی رہیں۔ بعض شعراءنے سامعین کا رسپانس نہ ملنے کے باوجود بھی چار چارپانچ پانچ غزلیں پیش کیں، بعض شعراءکو انتظامیہ کی طرف سے کلام کم سنانے کی درخواست لکھ لکھ کر پیش کی جاتی رہی۔ مگر شاعر بھی اپنا سارا کلام سنائے بغیر ڈائس سے نہ اترے، آخر میں شعراءکو شیلڈز اور پھول پیش کئے گئے، آغاز میں ہم نے شعری نشستوں کی بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ شعراءاپنا کلام سنا کر نکل جا تے ہیں،
اگلے روز ادبی بیٹھک الحمراءمیں ایک ایسا مشاعرہ بھی منعقد ہوا کہ سامعین کے ساتھ شعراءبھی آخر تک موجود رہے ۔ عرفان صادق خوش اسلوب شاعر ہی نہیں ایک اچھا منتظم بھی ہے اس کی زیرنگرانی سیوا آرٹ سوسائٹی“ کے زیراہتمام ادبی محافل برپا ہوتی رہتی ہیں لیکن اس بار تو بڑی زبردست شعری محفل دیکھنے کو ملی، یہ محفل قطر سے آئے ہوئے ہمارے دوست اور خوبصورت شاعر شوکت علی ناز کے اعزاز میں تھی، صدارت کے لئے قرعہ فال ہمارے نام نکلا مہمانوں میں شوکت علی ناز کے ساتھ ہر دلعزیز شاعر اور براڈ کاسٹر فرحت عباس اور جواز جعفری کا نام تھا۔ شہر بھر کے اہم شعراءنے یہاں اپنا کلام پیش کیا، مہمانان اعزاز میں مرزا رضی الرحمن اور منزہ سحر شامل تھیں، مشاعرے میں صاحبان سٹیج کے علاوہ ڈاکٹر کنول فیروز، محمد عباس مرزا، اقبال راہی، ممتاز راشد لاہوری، آسناتھ کنول، فراست بخاری، تاثیر نقوی، اعجاز اللہ ناز، فیصل زمان چشتی، ابتہاج ترابی، ثمینہ سید، علیم اطہر، آفتاب جاوید، کامران نذیر، وقار احمد وقار، نجمہ شاہین، علی حسین عابدی، پروین وفا ہاشمی، خالد محمود آشفتہ، عروج زیب، رمضان صابر محمد عارف کے علاوہ حافظ آباد، مرید کے، کامونکے سے بھی شعراءشریک ہوئے، ویل ڈن عرفان صادق اور اب اپنے اشعار پر ختم کرتا ہوں۔
بھائی جی اپنے ساتھ بڑا ہاتھ ہو گیا
ہم کہہ رہے تھے دن جسے وہ رات ہو گیا
بھائی جی داؤجس پر لگایا تھا آخری
چپ چاپ وہ بھی دشمنوں کے ساتھ ہو گیا
مجھے وہ مار کے سوتا ہے روز اپنے تئیں
مجھے بھی روز ہی جی کر دکھانا پڑتا ہے
(بشکریہ: روزنامہ نئی بات)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker