ڈاکٹر علمدار حسین بخاریکالملکھاری

ایک قدیمی جیالے کی کہانی : ( ماخوذ بہ ترمیم و اضافہ ) ۔۔ ڈاکٹر علمدار حسین بخاری

پیپلز پارٹی کا ایک جیالا کارکن شرافت شاہ عرف چاچا شَرفو ۔ پارٹی کے ایک احتجاجی جلوس میں نعرے لگاتا ہوا پولیس کے اچانک لاٹھی چارج سے بچنے کی کوشش میں ایک گاڑی سے ٹکرا گیا اور سر میں شدیدچوٹ لگنےسے زخمی ہو کر کومے میں چلا گیا ۔ کئی سال بعد اسے ہوش آیا تو طبیعت سنبھلنے پر سیدھا اپنے پیپلز پارٹی کے محبوب لیڈر کے گھر کی جانب چل پڑا ۔ وہاں گیا تو کیا دیکھتا ہے کہ عوام کا ایک سمندر ہے اسٹیج پر پیپلز پارٹی کی سینئرلیڈر شپ بیٹھی ھے اور جلسہ ہورہا ہے ۔ سیاسی جنون نے جوش مارا تو اسٹیج سیکریٹری کو پرچی بھیج دی کہ پارٹی کی تحریک میں شدید زخمی ہونے والا برسوں جیل میں قید کاٹنے والا۔۔ قربانی دینے والا کارکن حاجی شرافت شاہ آیا ہے فوری تقریر کا موقع دو۔
سیکرٹری نے سٹیج پر موجود لیڈران سے کچھ مشورہ کیا، ایک سینئر لیڈر سے کچھ بریفنگ لی اور کچھ دیر میں نہایت جوش سے اعلان کیا کہ حضرات پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک بہت سینئر جیالے کارکن اور لیڈر حاجی شریف عرف شرفو چاچا آج ہماری تحریک کاحصہ بننے آئے ہیں۔ ہم ان کو خوش آمدید کہتے ہیں، ان کابھرپور تالیوں سے استقبال کیجئے۔۔ پورا پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا ۔ کافی لوگ تجسس میں کھڑے بھی ہوگئے ۔۔ چاچا اس قدر اچھے استقبال پر بے حد خوش ہوا ۔ جب اس قدیمی جیالے کو ڈائس پر بلا یا گیا تو سب سے پہلے تو شرفو شاہ نے جئے انقلاب۔۔ جیوے چئیرمین۔۔ ! کا نعرہ لگایااورانتہائی جوش سے کہنے لگا ۔
” بھائیو میں تحریک کی جدوجہد کے دوران پولیس کی لاٹھی لگنے سے بےہوش ہوگیا اور کہتے ہیں کہ کئی برس کومے میں رہا اور جب ہوش آیا تو میں سیدھا ادھر آیا ( مجمع ایک بار پھر تالیوں سے گونج اٹھا۔۔ چاچا نے اپنی تقریر جاری رکھی) ۔۔ انقلابی بھائیو ! راستے میں کہیں مجھے پارٹی کا جھنڈا نظر نئیں آیا تو میرا دل دھڑکا اور پہلا خیال یہ آیا کہ شاید خدانخواستہ میرے مونہہ میں خاک میری پارٹی ختم تو نہیں ہوگئی ۔؟ ۔۔لیکن ساتھیو آج یہاں اپنے اتنے لیڈروں اور آپ سب کو اکٹھا دیکھ میرا دل باغ باغ ہوگیا اور بےحد دلی اطمینان ہوا کہ شکر ہے پارٹی کو کچھ نہیں ہوا اور سارے لیڈر بھی زندہ اور اکٹھے ہیں بلکہ عظیم کرکٹر اور کلین مین خان اعظم خان. عمران خان بھی پارٹی کی عظیم لیڈرشپ ( اس پر ہر طرف نعرے گونجنے لگے میری جان تیری جان عمران خان عمران خان! جیالا اس جوش و جذبہ پر اور زیادہ جوش میں آکیا اور گلہ پھاڑ کر کہنے لگا ) ساتھیو ہم عمران خان کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں ان کی رہنمائی میں پارٹی اور آگے بڑھے گی اور ہمارے شہید چئیرمین کا انقلاب کا خواب ضرور شرمندہ تعبیرہوگا ( سٹیج پر بیٹھے کئی لیڈ روں کے چہروں پر الجھن کے آثار تھے لیکن وہ چپ ر ہے اور چاچا اپنی دھن میں کہے جارہاتھا )
۔۔ یہ ایک معجزہ ہےساتھیو کہ ہمارے محترم لیڈر شاہ محمود قریشی بھی تشریف فرما ہیں جنھوں نے خود کو ڈی کلاس کرکے اتنا طویل عرصہ پارٹی کاساتھ دیا ورنہ کسی ایک ہی پارٹی میں رہنا مخدوموں کاورثہ نہیں ( مخدوم شاہ محمود کے چہرے کارنگ کچھ بدلا لیکن وہ پہلو بدل کر خاموش رہے) ۔ سابق وزیر اطلاعات جو شریک چئیرمین کا حسن انتخاب تھیں فردوس عاشق اعوان بھی پنجاب پارٹی کے صدر راجہ ریاض بھی پرویز خٹک بھی ہیں اور بابر اعوان جو پارٹی کا قانونی دماغ ہیں وہ بھی سٹیج پربیٹھے مسکرارہے ہیں آپ کو معلوم ہوگا کہ ان کی تربیت جماعت اسلامی میں ہوئی لیکن فرعون کے گھر موسا والی بات ہوئی آج یہ ہمارا سرمایہ ہیں ، ایک طرف ندیم افضل چن جیسا نظریاتی لیڈر جس کے چہرے پر نظریے کی آب وتاب ہے سنجیدہ چپ بیٹھے ہیں یہ غریب جیالوں کا سہارا ہیں یہ نہ کبھی بک سکتے ہیں اور نہ پارٹی کو دغا دے سکتے ہیں ۔ اور فواد چوہدری صاحب شریک چئیرمین سائیں کا ترجمان تو دنیا میں کسی کے پاس ہے ہی۔۔ نہیں۔۔۔۔ اور کشمیر سے ہمارے جیالے بیرسٹر سلطان اور پنجاب سے نذر گوندل صاحب پرانےکارکن بھی بیٹھے ہیں۔ سٹیج پر شوکت ترین صاحب کودیکھ کر بےحدخوش ہوں یہ پارٹی کیلئے بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے۔۔۔۔بڑا سرمایہ ثابت ہوں گے ( اس پر پہلے تو مجمع سے قہقہے بلند ہوئے پھر کسی نے ان کے حق میں نعرہ بلند کیا تو فضا رہنما بہترین۔۔ شوکت ترین شوکت ترین کے نعرو سے گونج اٹھی ۔۔۔ جیالے کو تقریر کا اس قدر رسپانس کب ملا تھا وہ اور زیادہ جوش میں آگیا اور اس نے سوچا اب کچھ بات تنقیدی بھی ہونی چاہئے اور کچھ مشورے بھی) کومے سے نکل کر واقعی خوشی ہوئی کہ مجھے اور میری عوامی پارٹی کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے !
بس بھائیو دو باتیں دل میں کانٹا بن کے چبھ سی رہی ہیں کہ ایک تو یہ کہ جھنڈے سے سیاہ اور بسفید رنگ کدھر غائب ہو گیا ہے لیکن شاید پارٹی نے کھلم کھلا سرخ انقلاب کاراستہ اپنا لیاہے اس سے میرا حوصلہ بہت بڑھا ہے۔۔۔ میرے حوصلے کا ایک سبب سٹیج پر بیٹھے ہماے عظیم لیڈر بھی ہیں جنھوں ایک نظرئے کی خاطر اپنے طبقے کی طرف پیٹھ کرکے غریب کاساتھ دینے کاعہد کرلیا ہے( اس پر چاچا کا خیال تھا کہ خوب نعرے لگیں گے لیکن ہرسو خاموشی جس پر اسے پریشانی وحیرت ہوئی لیکن اس کے جوش و جذبہ میں کوئی کمی نہیں آئی)۔۔ اور عظیم ساتھیو اور میر ےمحترم لیڈران ! دوسری الجھن یہ ہے کہ ہمارے عظیم قائد زرداری صاحب کہیں نظر نہیں آ رہے(پھر جوش سے نعرہ زن ہوا)
ایک زرداری سب پربھاری!
( نعرے کا کوئی جواب نہ پا کر پریشان ہوکر انتہائی دکھ سے کہا)میرے منہ میں خاک کہیں وہ جمہوریت کی راہ میں شہید تو نہیں ہوگئےِِ۔۔۔ شہیدوں کے خاندان میں ایک اور شہید کا اضافہ۔۔ مجمع سے بیک زباں اونچی آواز ابھری)
آمین ! …..آمین !
(اور پھر مجمعے سے قہقہےبھی بلند ہوئے جس پر ہمارے جیالے کو پریشانی ہوئی لیکن وہ ایک جنون کی رو میں تھا ۔۔۔ اس لئے یہ جیالا اپنے شہید رہنماؤ ں کی یاد آتے ہی گلا پھاڑ پھاڑ کر نعرے لگانے لگاِنعرہ بھٹو جیے بھٹو ۔۔
بےنظیر بے قصور
زرداری تیرے خون سے انقلاب آئے گا ۔۔۔
زندہ ہے بھٹو
زندہ ہے !
میرا یار سجاول … بلاول بلاول !
سٹیج اور مجمع میں چندے ایک سراسیمہ خاموشی سی چھا گئی کسی کو کچھ سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ کیا کیا جائے آخر اک ہنگامہ سا اٹھا اور اسٹیج سیکرٹری نے باقی لوگوں کی مدد سے جیالے کو ٹانگوں سے گھسیٹ کر نیچے اتارا پھینکا اور کہا
ابے او عقل کے اندھے ۔۔ بیوقوف انسان( یہاں زبان فساد خلق کے خوف سے مہذب بنادی گئی ہے اور بہت کچھ حذف کردیا گیاہے … لذت لینی ہے تو سوشل میذیا پر جائیں)
یہ تیری پارٹی نہیں ہے ۔۔ یہ آج کی انقلابی پارٹی ۔۔۔ تحریک انصاف کاجلسہ ہے۔۔
ہمارا قائد عمران خان ہے اب ہم سب باجماعت عمران خان کے قافلہ میں کرپشن کے خلاف اور تبدیلی کے انقلاب کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
اور یہ پیپلز پارٹی کا نہیں تحریک انصاف کا جلسہ ہے ۔۔
بس جناب لاتوں گھو نسوں اور گالیوں کی بوجھاڑ میں یہ باتیں سن کر۔۔چاچا شرفو کا منہ کھلا کا کھلا لیکن پھر ا چانک وہ پوری قوت سے چیخا۔۔
اوئے بے ۔۔ خانا ! خبردار ہو جا ایک کشتی ڈبونے والے کبھی بھی کسی اور کشتی کو تیرا نہیں سکتے . ان کو صرف کشتیاں ڈبونے کاتجربہ ہے اب بھی وقت ہے بچ جا ! لیکن تو نہیں سنے گا ! میں ایک بار پہلے بھی یہی بات بے نظیر بھٹو کے جلسے میں کہہ کر مار کھا چکا ہوں !
جئیے بھٹو … جیئے بھٹو. ..! اور پھر نا معلوم کوئی گھونسہ لگنے سے یا پھر صدمے سے ہمارا یہ جیالا چاچا شرلو دوبارہ کومے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ اچھاہی ہوا کہ اسے بے سدھ دیکھ کر عدم تشدد کے حامیوں کے ہاتھ بھی رک گئے…
اب دیکھیں چاچا شرفو کب ہوش میں آتا ہے اور اس کی آنکھیں تب کیا منظر دیکھتی ہیں اور کان کیا کچھ سنتے ہیں .

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker