نام نہاد لاہور لیفٹ، لال خان کا گروپ اور عوامی ورکر پارٹی وغیرہ جنہوں نے پشتین کو لاہور میں مدعو کیا تھا، دراصل محنت کشوں کے خلاف ریاست سے ملا ہوا گروپ ہے۔ انھی لوگوں کی وجہ سے پی ٹی ایم کا جلسہ موچی دروازے میں بری طرح ناکام ہو گیا۔ ان لوگوں نے ایک ملک گیر تحریک کو قومی اور علاقائی رنگ دے دیا۔ ایک منصوبہ بندی کے تحت ان لوگوں نے پنجابی لاہوریوں کو جلسے کے لیے موبلائز نہیں کیا جس کی وجہ سے جلسے میں پنجابیوں کے خلاف نفرت دیکھنے میں آئی۔ لاہوریوں کی کم تعداد کا گلہ پشتین اور دوسرے مقررین نے بار بار جلسے میں کیا۔ یہ سرخوں کی آپسی لڑائی نہیں بلکہ سچائئ اور منافقت کی لڑائی ہے۔ دوسرا گروپ سرمایہ دار قوتوں کے ساتھ مل کر چلنا چاہتا ہے. ان کے ذاتی مفادات ہیں، یہ لوگ ظلم کے خلاف پرامن احتجاج کو ایڈوینچر کہتے ہیں اور ہمارے کامریڈز کی گرفتاری پر بہت خوش ہیں، لیکن آخری جیت سچائی کی ہو گی۔بہت جلد ان مفاد پرستوں کی قلعی کھل جائے گی۔
جمعہ, مئی 1, 2026
تازہ خبریں:
- مزدوروں کے عالمی دن پر پیٹرول پھر مہنگا کر دیا گیا: سات روپے لیٹر اضافہ
- معروف بھارتی گلوکارہ کا میوزک کمپوزر پر جنسی استحصال اور فحش فلموں کے ذریعے بلیک میلنگ کا الزام
- ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

