میرے پاس کرنے کو کچھ نہیں تھا۔ جنوبی پنجاب میں کینسر سے متاثرہ بچوں کے مفت علاج کا مرکز بنانے کی میری انفرادی کوششیں دم توڑ رہی تھیں۔ آگے میں اپنی رائے نہیں دوں گا، وہی لکھوں گا جو میرے ساتھ ہوا اور جو میں نے دیکھا ۔ میں کسی صورت خود کو ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا۔ اگرچہ مجھے اپنے کام سے کوئی مالی فوائد حاصل نہیں ہو رہے تھے، میرے پاس خود کو متحرک رکھنے کا یہی واحد واحد راستہ تھا۔ مجھے ٹیومر بورڈز کا خیال آیا۔
سب سے پہلے میں نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں ہڈی کے ماہرین سے ملا۔ ہڈی کے عام سرطان "سارکوما” کا ٹیومر بورڈ شروع کرنے میں کنسلٹنٹ آرتھوپیڈک سرجن بدر ظافر نے میرا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے مجھے اپنے شعبے کے سربراہان پروفیسر ڈاکٹر کامران صدیقی اور پروفیسر ڈاکٹر خالد چشتی سے ملوایا۔ ہم ریڈیالوجی کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالستار انجم سے ملے۔ پھر ہم مینار میں گئے۔ مینار ملتان میں کینسر کا بڑا مرکز ہے لیکن یہ نشتر ہسپتال کا حصہ نہیں ہے، یہ پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کا ہسپتال ہے۔ میں اور ڈاکٹر بدر آخر میں کینسر سینٹر کے سربراہ پروفیسر احمد اعجاز مسعود کے پاس گئے۔ کینسر سینٹر میں پہلی دفعہ میں نے نشتر کی اندرونی سیاست کو باہر سے دیکھا۔
کینسر سینٹر نشتر میڈیکل یونیورسٹی ملتان میں ہمیں بتایا گیا کہ مینار سے ہماری چپقلش ہے اور وہ شاید سارکوما بورڈ کا حصہ نہیں بن سکیں گے۔ مینار سے بھی ہمیں یہی پیغام ملا اور چند لوگوں کی ذاتی رنجشوں کی وجہ سے ملتان میں کینسر کے بڑے مرکز مینار کو ہم سارکوما بورڈ میں شامل نہیں کر سکے۔ کینسر سینٹر والوں نے مینار کے کنسلٹنٹس کو وٹس ایپ گروپ سے بھی نکال دیا. یہ ایک مایوس کن آغاز تھا. پھر بھی ہم نے ہمت نہیں ہاری. سارکوما بورڈ میں چلڈرن ہسپتال کی انکالوجی ٹیم نے بھی بھرپور شرکت کی. اب تک اس بورڈ کی سات میٹنگز ہو چکی ہیں جن کے لیے کم و بیش ہر بار ہمیں بہت جدوجہد کرنا پڑی ہے.
ریٹینوبلاسٹوما بچوں میں آنکھ کا سب سے عام سرطان ہے. میں نے اس کا آغاز کرنے کے لیے بچوں کی آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر ماجد سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ مل کر وٹس ایپ گروپ بنایا. چلڈرن ہسپتال نے ایک بار پھر بھرپور تعاون کیا. ہمارا ارادہ یہ تھا کہ یہ ٹیومر بورڈ ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ نشتر ہسپتال ملتان میں شروع کیا جائے. لیکن کینسر سینٹر کے اصرار پر اسے بھی ہم نے کینسر سینٹر میں جاری کرنے کا آغاز کیا. پہلی میٹنگ سے پہلے مجھے شعبہ ء امراض چشم کے سربراہ اور پرنسپل نشتر میڈیکل یونیورسٹی راؤ راشد قمر صاحب سے ملنے کے لیے کہا گیا. راؤ صاحب نے اپنے دفتر میں مجھے بھرپور ویلکم کیا. ملتان ریٹینوبلاسٹوما بورڈ کی دو یا تین میٹنگز ہو چکی ہیں جن میں پرنسپل صاحب کی عدم دلچسپی کی وجہ سے یہ معاملات سست روی سے آگے بڑھ رہے ہیں. مجھے پیغام دیا گیا کہ پرنسپل صاحب شاید ناراض ہیں کیونکہ انہیں نظرانداز کیا جاتا ہے. ذاتی پسند ناپسند ہمیشہ اس نظام میں آڑے آتی ہے اور بڑے بڑے منصوبے بھی اس کی وجہ سے ٹھپ ہو جاتے ہیں. ہمیں خیال آیا کہ ہم مزید آگے بڑھیں اور بچوں کے وارڈ کو بھی ٹیومر بورڈ میں شامل کریں. پروفیسر ڈاکٹر اعظم نے بےحد خلوص سے ہمارا ساتھ دینے کی کوشش کی لیکن ان کے ساتھ معاملات بھی اب تک نشتر کے خداؤں کی باہمی سیاست کا شکار ہیں.
وائس چانسلر پروفیسر رانا الطاف احمد نشتر 2 بنانے میں سرگرم ہیں اس لیے ان کی زیادہ توجہ بھی ہم ابھی تک حاصل نہیں کر پائے لیکن کچھ حد تک انہوں نے ہماری حوصلہ افزائی کی. چلڈرن ہسپتال ملتان کے ڈین پروفیسر کاشف چشتی نے بھی ابھی تک بچوں کے ٹیومر بورڈ چلانے میں زیادہ دلچسپی نہیں دکھائی کیونکہ وہ ایمرجینسی ٹاور بنانے میں مصروف ہیں. کہا جاتا ہے کہ کوئی بھی اتنا مصروف نہیں ہوتا، سارا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ اس کی ترجیحات کیا ہیں. میرا ذاتی خیال یہ تھا کہ بچوں کے ٹیومر بورڈ چلڈرن ہسپتال ملتان ہی میں شروع کیے جائیں کیونکہ وہاں جنوبی پنجاب میں بچوں کے کینسر کا پہلا اور سب سے بڑا مرکز موجود ہے. لیکن یہ خود ان کے تعاون کے بغیر قطعی طور پر ممکن نہیں ہے.
میں ٹیومر بورڈ کی سرگرمیوں میں متحرک ہوا تو بہت سے لوگوں نے اسے سراہا اور کچھ لوگوں نے ہماری حوصلہ شکنی کی. مجھے جلدباز اور بےچین شخصیت قرار دیا گیا. وٹس ایپ گروپ بنانے کے لیے پروفیسرز اور پرنسپل وغیرہ سے اجازت نہ لینے پر بھی مجھ پر تنقید کی گئی. کینسر سینٹر ملتان کے سربراہ پروفیسر احمد اعجاز مسعود نے ٹیومر بورڈز بنانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے. وہ ایک متحرک اور علمی شخصیت ہیں. لیکن وہ نشتر میڈیکل یونیورسٹی میں میری حد سے زیادہ سرگرمیوں اور شمولیت کو شاید پسند نہیں کرتے. انہیں بچوں کے وارڈ میں پروفیسر ڈاکٹر اعظم خان کی اجازت سے میری تعلیمی سرگرمیاں بھی ایک آنکھ نہیں بھاتیں. بہرحال میں اپنی طرف سے پوری کوشش کر رہا ہوں کہ بچوں کے کینسر کی آگہی کے لیے جنوبی پنجاب میں اپنا کردار ادا کرتا رہوں.
فیس بک کمینٹ

