یہاں میں اپنی بات نہیں کر رہا ۔ میں ضرورت سے زیادہ تعلیم یافتہ ہوں لیکن نچلے طبقے سے تعلق رکھتا ہوں۔ میرے پاس نہ بینک بیلنس ہے اور نہ کوئی جائیداد۔ یعنی میں اس ملک کا ایک بےوقعت باشندہ ہوں جس کی حیثیت تنکے برابر بھی نہیں ہے ۔میں بات کر رہا ہوں ایک صاحب حیثیت خاندان کی جس کے ساتھ وہ سلوک کیا گیا جو کوئی انسان جانوروں کے ساتھ بھی نہیں کرتا۔
بچے کو سیپٹک آرتھرائٹس کا مریض فرض کر لیا گیا۔ اسے ایک ماہر ہڈیوں کے معالج سرجن کے پاس لے جایا گیا جو ایک مہینے میں چار سو آپریشن کرتا ہے۔ والدین کو بتایا گیا کہ ایک سرنج کے ذریعے گھٹنے کے جوڑ کا پانی نکالا جائے گا۔ آپریشن تھیٹر میں شاید سرنج کے ذریعے پانی برآمد نہ ہو سکا ۔ ماہر سرجن نے اسی وقت فیصلہ کیا کہ بچے کی آرتھروٹومی کر دی جائے۔ بچے کو بلا اجازت حرام مغز کے ذریعے سن کرنے والا ٹیکہ لگایا گیا۔ پھر جوڑ پر incision دیا گیا اور جوڑ سے پانی نکال کر اسے اندر سے واش کیا گیا۔
بچہ باہر آیا تو اس کی حالت دیکھ کر والدین کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی۔ بچے کو آپریشن تھیٹر میں ایک معمولی procedure کے لیے لے جایا گیا تھا لیکن اس کی جلد کاٹ کر اس کے جسم کے سب سے اہم جوڑ پر بےدھڑک جراحی کر دی گئی ۔ ہمارے ہاں ایسے سرجن کو بڑا سرجن سمجھا جاتا ہے جو بہت تیز رفتاری سے آپریشن کرتا ہو اور بہت بہادر ہو۔ درحقیقت ایسا سرجن نالائق، بزدل اور عام طور پر بہت لالچی بھی ہوتا ہے۔ ایک مہینے میں چار سو ہڈی کے آپریشن کرنے والے سرجن اگر بہت جلدی میں ہیں تو یقیناً وہ بہت لالچی اور بداخلاق ہیں ۔ایسا کئی بار ہوتا ہے، جیسا کہ ہم فلموں میں دیکھتے ہیں، کہ آپریشن تھیٹر میں کوئی پیچیدگی ہو جاتی ہے اور دوسرا آپریشن کرنا پڑتا ہے۔ اس صورتحال میں ڈاکٹر لواحقین کے پاس جاتا ہے اور انہیں نئی صورت حال سے آگاہ کرتا ہے اور دوسرا آپریشن کرنے کی اجازت حاصل کرتا ہے۔ لیکن ان ڈاکٹر صاحب نے یہ زحمت کرنا گوارا نہیں کیا۔
بچے کے والد کچھ دیر پہلے میرے سامنے پریشان بیٹھے تھے اور میں ان سے زیادہ پریشان تھا کہ خدانخواستہ یہاں میرا بچہ ہوتا اور اس کے ساتھ یہ سب ہوتا تو میں کیا کرتا۔ بچے کے والد کی طرح میں بھی ایک ڈاکٹر ہوتے ہوئے لاعلم ہوں کہ آخر بچے کے مرض کی تشخیص کیا ہے۔ بچے کے والد نہیں جانتے کہ ان کے بیٹے کو مستقبل میں کیا پیچیدگیاں پیش آ سکتی ہیں اور میں بھی نہیں جانتا نہ والد کو کچھ بتا سکتا ہوں کیونکہ میں ہڈی کا سرجن نہیں ہوں۔ بچے کو ایک ہفتے سے اندھا دھند اینٹی بائیوٹک لگائی جا رہی ہے۔ علاج سے پیشتر نہ خون میں جراثیم کی افزائش کا ٹیسٹ کیا گیا کہ اس کا ہمارے ہاں رواج ہی نہیں ہے اور نہ ہی شاید آپریشن کے بعد گھٹنے کے پانی کا کلچر ٹیسٹ بھیجا گیا۔ سیپٹک آرتھرائٹس کے علاوہ کسی اور بیماری کا سوچا ہی نہیں گیا کہ سرجن بہت تجربہ کار ہیں، انہیں الہام ہوتا ہے اور انہیں اپنی تشخیص کے لیے کسی دستاویزی ثبوت کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ویسے بھی ثبوت عدالتوں میں مانگے جاتے ہیں جب کہ ہمارے ہاں ان مجرمانہ کارروائیوں کے خلاف عموماً لواحقین عدالتوں میں نہیں جاتے اور اپنے معاملات اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ پاکستان میں پڑھے لکھے اور باحیثیت خاندانوں کے ساتھ ماہر طبیب اور جراح یہ سلوک کر رہے ہیں تو میرے غریب اور ان پڑھ طبقے کے ساتھ یہ کیا کرتے ہوں گے۔ کیا ہم بھیڑ بکریاں ہیں؟ اور ہاں پاکستانی جراحوں کے نام گینیز بک میں دینے چاہییں کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں کوئی جراح ایک مہینے میں چار سو آپریشن نہیں کرتا۔

