قدیم یونانی فلسفی سقراط کا یہ قول بہت مشہور ہے:
"میں صرف ایک بات جانتا ہوں، اور وہ یہ کہ میں کچھ نہیں جانتا۔”
یہ جملہ ایک طرف سقراط کے فلسفۂ علم کی گہرائی کو بیان کرتا ہے، اور دوسری طرف اُس کی انکساری کو نمایاں کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان علم کی راہ پر سفر کرتا ہے تو اُسے احساس ہوتا ہے کہ علم کی وسعت لامحدود ہے، اور ہماری محدود زندگی میں ہم اس سمندر سے محض چند قطرے ہی سمیٹ سکتے ہیں۔
یہ قول ہمیں سوال کرنے کی اہمیت سکھاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ نہ صرف دوسروں سے بلکہ خود سے بھی سوال کرنا سیکھیں۔
مگر افسوس، ہمارا معاشرہ سوال کرنے کی حوصلہ افزائی نہیں کرتا، بلکہ ایسے افراد کو جو سوچنے اور سوال اٹھانے کی جسارت کرتے ہیں، ریاستی و غیر ریاستی عناصر کی جانب سے خاموش کروا دیا جاتا ہے۔میری نظر میں ہماری زبوں حالی کا سب سے بڑا سبب یہی جمودِ فکر ہے۔ ہم نے غور و فکر کرنا چھوڑ دیا ہے۔ ہم جو سن لیتے ہیں، جو پڑھ لیتے ہیں، اُسے بلا تنقید تسلیم کر لیتے ہیں، اور یوں سچ کی تلاش کا دروازہ خود اپنے اوپر بند کر لیتے ہیں۔ یہی رویّہ نئی دریافتوں، ایجادات، اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔
بطور معالج، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر مرض ایک نیا مرض ہوتا ہے، اور ہر مریض ایک الگ مریض۔ اگرچہ ہم کتابوں کی مدد سے امراض کو اقسام میں بانٹتے ہیں اور ہر قسم کا ایک ہی طریقے سے علاج کرتے ہیں، لیکن طب کی دنیا میں جیسے جیسے تحقیق آگے بڑھتی ہے، ہر بیماری کی کئی ذیلی اقسام سامنے آتی ہیں، جن کا علاج بھی مختلف ہوتا ہے۔
آج کی دنیا میں "پریسیژن میڈیسن” (Precision Medicine) کا تصور اُبھر رہا ہے، جس میں ہر مریض کا علاج اس کی مخصوص جسمانی، جینیاتی اور ماحولیاتی خصوصیات کے مطابق کیا جاتا ہے۔ یہ ایک بڑی انقلابی تبدیلی ہے، لیکن ہمارا علمی و فکری جمود ہمیں اس رفتار سے ہم آہنگ ہونے سے روک رہا ہے۔
ہمارا معاشرہ روحانیت کو بہت اہمیت دیتا ہے، جو کہ بذاتِ خود ایک قیمتی تجربہ ہے۔ یہ ہمیں خود کی تلاش میں مدد دیتی ہے اور ہماری باطنی دنیا کو دریافت کرنے کا ذریعہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ باطنی سفر کے ساتھ ساتھ خارجی دنیا کا سفر بھی لازم ہے۔ کیونکہ یہی بیرونی دنیا کی تلاش ہے جو ہمیں انسانیت کی خدمت، سچائی کی جستجو اور کائنات کی مخفی حقیقتوں کے ادراک تک لے جاتی ہے۔علم، سوال، تحقیق، اور انسان دوستی، یہی وہ ستون ہیں جن پر ترقی یافتہ معاشرے کھڑے ہوتے ہیں۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ان اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا حصہ بنائیں۔
فیس بک کمینٹ

