اختصارئےڈاکٹر علی شاذفلکھاری

ایک سوشلسٹ کا خواب ۔۔ ڈاکٹر علی شاذف

کل رات آصف علی زرداری میرے خواب میں آئے۔ میں ان کے ساتھ بلاول ہاؤس کے ڈرائنگ روم میں ایک سیاسی کارکن کی حیثیت سے بیٹھا تھا۔ انھوں نے مجھ سے میری خیریت دریافت کی اور بتایا کہ انھیں میرے نظریات بہت پسند ہیں۔ میں نے انھیں کہا کہ میں 2013 ء میں ان کی حمایت سے دستبردار ہو چکا ہوں۔ انھوں نے میری تصحیح کی کہ میں 2013 ء نہیں بلکہ 2015 ء‌سے ان کے خلاف لکھ رہا ہوں۔ وہ میری اس شدید مخالفت کے باوجود مجھ سے بہت نرم لہجے میں مخاطب تھے۔ میں نے انھیں صاف صاف بتایا کہ انھوں نے پیپلز پارٹی کو تباہ کر دیا ہے۔ ان کی سیاست بلاول ہاؤس کے ڈرائنگ روم تک محدود ہے۔ عام لوگ انہیں بدعنوان، چالاک، موقع پرست اور یہاں تک کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کا قاتل بھی سمجھتے ہیں۔ ان کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ انھوں نے اپنی عینک اتاری، اس کا شیشہ صاف کیا اور انتہائی شائستہ لہجے میں بولے، میں چاہتا ہوں کہ آپ میری حمایت کریں۔ آپ مجھ سے نالاں ہیں کیونکہ میں اور میرے ساتھی آپ سے رابطے میں نہیں رہے۔ میں اب سمجھ گیا ہوں کہ ہماری جماعت غریبوں، مزدوروں اور محنت کشوں کی جماعت ہے۔ اس کی بنیاد سوشلسٹ نظریات پر رکھی گئ تھی اور انھی نظریات کی پاسداری اس کی بقا کا واحد راستہ ہے۔ ہم سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی نجی ملکیات کو قومی تحویل میں لے کر عوام کو ان کا حصہ دار بنائیں گے۔ پیسے، طاقت، اختیار اور حکومت کی خاطر مقتدر اداروں کی چاپلوسی کی بجائے ان کو بیرکوں میں واپس بھیج دیں گے اور عدلیہ سمیت تمام ماتحت اداروں کو سیاست کی بجائے عوام کی خدمت پر مامور کریں گے۔ ہماری ترجیحات امیروں کے لیے سہولیات فراہم کرنا نہیں بلکہ غریبوں کو صحت، تعلیم، روزگار اور تمام بنیادی حقوق مہیا کرنا ہوں گی۔ اچانک ڈرائنگ روم کے باہر سے کتوں کے بھونکنے کی آوازیں آنے لگیں۔ کتے ڈرائنگ میں داخل ہو گئے اور وہاں رکھی ہوئی چیزوں کو سونگھتے ہوئے میری جانب بڑھنے لگے۔ میرے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو گئ ۔میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ میرا پورا جسم پسینے میں شرابور تھا۔

 

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker