یہ کمال نامہ واقعی ”کمال کی کتاب “ ہے جو عارف کمال نے سفارتی زندگی کے 34 برسوں کی روداد پر مشتمل ہے جسے انگریزی میں لکھا گیا جس کا اردو ترجمہ مجاہد عشائی نے کیا ہے( ترجمے کے بارے میں میری ناخوشی کے ٹھوس اسباب ہیں مگر مصنف کے افراد خانہ نے اس مترجم کا انتخاب کیا ) رضی الدین رضی اور ان کے بیٹے عبدالحنان کے اشاعتی ادارے گردوپیش پبلیکیشنز نے شائع کی ہے (کتاب منگوانے کے لئے رابطہ
03186780423)

مصنف کے بھائی پروفیسر خالد محمودپنجاب یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد تھے ضیا الحق کے زمانے میں جب یونیورسٹی میں نظریاتی تطہیر کے کام نے زور پکڑا تو سابق ایر مارشل اصغر خان کے بیٹے عمر اصغر کے ساتھ خالد محمود کو بھی سبک دوش کر دیا گیا مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اپنے دور میں سی ایس ایس کے لئے ” آسمانی ضوابط “میں ترمیم کرکے حد عمر اور مقدس ممتحنین کے صوابدیدی اختیارات کو کم کر کے :براہ راست داخلے : کا نظام متعارف کرایا ۔
عارف کمال، اصغر خان کی طرح کشمیری تھے، پنجاب یونیورسٹی میں این ایس او کے بانیوں میں سے تھے مگر ان کی تحریر ، مشاہدہ اور تجزیہ ثابت کرتا ہے اس نظام کے تحت بہت لائق افراد منتخب ہوئے (ایمرسن کالج ملتان کے تین بہت لائق استاد چودھری نذیر احمد( انگریزی ) ، اکمل بیگ ( سیاسیات ) سجاد حیدر ( سیاسیات ) تاریخ کے ایک استاد نے بہت کوشش،کی مگر وہ بعد کے زمانے میں زکریا یونیورسٹی کے وائس چانسلر تو ہو گئے یہاں منتخب نہ ہو سکے ) ضیا نے جب بھٹو کا تختہ الٹا تو اس کتاب کے مصنف کو بھی فارغ کردیا گیا مگر بعد کے برسوں میں ایک ریویو کمیٹی نے انہیں بحال کیا ۔ اس کتاب سے چند اقتباسات دیکھئے :
1 ۔” 1977 میں پاکستان نیوی کا جہاز بابر کویت کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہوا تو میں گو تھرڈ سیکرٹری تھا مگر ایڈ مرل شریف کے استقبال پر مامور تھا میں نے انہیں بتایا کہ بہت خوشی ہے کہ فلسطینی کیڈٹ بھی پاکستانی جہاز پر تربیت پا رہے ہیں (مجھے پی ایل او نے بھٹو کے ساتھ ممنونیت کے اعتراف میں مجھے بتایا تھا ) اس پر ایڈمرل شریف چونک گئے اور کہا جب بھٹو نے بطور وزیر اعظم فلسطینی کیڈٹوں کو بھی تربیت کا کہا( اور مجھے یہ حکم ماننا پڑا ) تو میں نے ان سے کہا تھا کہ امریکیوں کو آخر کار اس،کا علم ہو جائے گا ”
2۔ ” بھٹو کے خلاف فوجی بغاوت نے کویت پر پریشان کن اثرات ڈالے ۔۔یہ بغاوت اس،شخص کے خلاف تھی جو مرحوم شاہ فیصل کے بہت قریب تھا ، فلسطینی سب سے زیادہ مشتعل تھے ”
3۔” 24 نومبر 1979 میں وزارت خارجہ میں دوبارہ واپسی ہوئی ، اسی روز عوامی اشتعال کے نتیجے میں پاکستان میں امریکی سفارت خانہ جلا دیا گیا جب کہ جنرل ضیا الحق پرانے شہر میں بائیسکل چلانے میں مصروف تھے تاکہ عوام میں ان کا وقار یا مقبولیت بڑھ سکے ”
4۔ ” میاں نواز شریف نے بطور وزیر اعظم حکم دیا کہ پاکستان کمیونٹی سکول کے انتظامی عملے کے ایک رکن کو بحال کیا جائے ، انہیں کچھ عرصہ پہلے برطرف کیا گیا تھا اور سعودی عرب سے جلاوطن کر دیا گیا تھا اب وہی شخص شناخت بدل کے سعودی عرب میں (مجرمانہ طور پر ) داخل ہوا تھا ، جب میں نے یہ حقائق وزیر اعظم سیکرٹریٹ کو لکھ کے بھیجے تو (آمریت کی گود میں پلے )وزیر اعظم نے مجھے پاکستان واپس بھیجنے کا حکم صادر کر دیا "
فیس بک کمینٹ

