محمد داود طاہر کی آپ بیتی 1000 صفحات پر مشتمل ہے یہ ان کی 11 ویں کتاب ہے بے شک وہ اس وقت 80 برس کے ہیں مگر وہ کئی مقامات پر عندیہ دیتے رہے ہیں کہ کم ازکم تین کتابیں ان کی زیر ترتیب / زیر اشاعت ہیں ۔
محمد داود طاہر ملتان میں کمشنر انکم ٹیکس رہے اور میں سلیم رضا آصف کی وساطت سے 1995 میں ان سے ملا تھا شاید مجھے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ سے "جملہ حساب بے باق ” کا سرٹیفکیٹ چاہیئے تھا سلیم رضا آصف نے ان کا ایک سفرنامہ دیا اور کہا اس’کی تعارفی تقریب میں بڑے بڑے جغادری اہل قلم ان کی اس کتاب پر اظہار رائے کریں گے جیسے عاصی کرنالی ، عطاء الحق قاسمی ، امجد اسلام امجد اور صدارت یوسف رضا گیلانی کریں گے ۔سو میں نے بھی پانچ سات منٹ اس تقریب میں اظہار خیال کیا جس کا ذکر جناب داود طاہر نے اس آپ بیتی میں کیا ہے ۔
میرا خیال تھا کہ کوئی سی ایس ایس کرکے انکم ٹیکس یا کسٹمز میں آ جائے تو ایک دنیا اس کی مطیع ہو جاتی ہے اس سے پہلے عبدالعزیز خالد انکم ٹیکس کمشنر رہے ان کی کتابیں کافی ادق زبان میں اور کئی کئی سو صفحات کی شائع ہوئیں دو چار رسائل نے عبدالعزیز خالد نمبر بھی شائع کئے ۔میں جب ایمرسن کالج میں ایم اے کا طالب علم تھا تو وہ شعبہ اردو میں تشریف لائے تھے جس میں استاد محترم سلیم اختر اور ایک دو اور استادوں نے بہت سنجیدگی سے اظہار خیال کیا مگر میں نے حسب عادت ایک دو فقرے گستاخانہ کہے کہ جناب عبدالعزیز خالد کی کتابوں میں سے ایک کا نام” حرف ناخواندہ ” ہے حالانکہ یہ نام ان کی کلیات کے لئے ہونا چاہیئے ۔
میں کتابیں پڑھے بغیر نہیں رہ سکتا مگر ہمارے کالج کی لائبریری میں ان کی کتابوں کی دو دو تین تین جلدیں ہیں کوشش بھی کریں تو ورق گردانی کرکے طالب علم بے بسی سے سوچتا ہے اسے ‘ورق ناخواندہ ‘ ہی سمجھنا چاہیئے ۔ (کئی برسوں کے بعد ضمیر جعفری کی شگفتہ پھبتی سامنے آئی
عبدالعزیز خالد ۔۔اردو شاعری کا والد ۔
پھر جمیل خان آئے جو جمیل جالبی کہلائے مقتدرہ قومی زبان کے صدر نشیں ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ہوئے کئی کتابوں کے مصنف ، مترجم اور ادبی دنیا کی ایک قد آور شخصیت اسی طرح راحت نسیم ملک اور دیگر لوگ ہمارا اپنا خالد محمود خان شاید سلیم رضا آصف کا کلاس’فیلو اور ہاں سلیم رضا آصف خود ۔ بہر طور آپ یہ آپ بیتی پڑھیں تو کم از کم چھ باتیں تو سامنے کی ہیں ۔
1۔ جیسے جیسے آپ بااصول یا دیانت دار کے امیج کو مستحکم کرنے لگتے ہیں آپ کے ساتھیوں ، ماتحتوں اور کچھ طاقت ور تاجروں کے آلہ کار سازش اور افترا کا بازار گرم کرتے ہیں ۔
2۔ کئی خوبصورت لوگوں اور جاذب نگاہ اداکاراوں کا التفات نصیب ہوتا ہے ۔
3 ۔ داود طاہر بظاہر اللہ پر توکل کرتے ہیں مگر اللہ کے برگزیدہ بندوں کا دامن بھی مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں جیسے جنرل مشرف کے ساتھی
طارق عزیز ، یا پھر گورنر پنجاب ریٹائرڈ جنرل خالد مقبول،پھر داود طاہر کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ چودھری پرویز الہی کا دل کیسے ملائم کیا جا سکتا ہے اور ان کی توجہ ایک دو خواتین سے ہٹا کر اپنی طرف کیسے مبذول کرائی جا سکتی ہے اور ریٹائر منٹ کے بعد پنجاب پبلک سروس کمیشن کا رکن بننا اور اس میں توسیع پانا کیسے ممکن ہے جب آپ باوردی بھی نہ ہوں ۔
4۔ جمال پرست ہونے کے باوجود داود طاہر کی دلچسپی آثار قدیمہ میں رہی ہے دنیا بھر کے کھنڈرات ( عمارات ، افراد ) کے سینوں میں چھپے رازوں سے وہ واقف ہونا چاہتے ہیں وہ جنات کی تسخیر کرنے کا دعوی کرنے والے عاملین زائچہ بنانے والے دست شناسوں جنم پتری بنانے والے غیر مسلم عالموں کو بھی تلاش کرتے ہیں بے شک انہیں دلچسپی اپنے 22 گریڈ یا مزید توسیع سے رہی ہے مگر قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ وہ پورے سچ کی تلاش میں ہیں ۔
5۔وہ سچ بولنے میں بہت آگے جاتے ہیں وہ اپنی اہلیہ سے کشیدگی کے تکلیف دور اور اسباب کو چھپانے کی کوشش نہیں کرتے بعد میں کوشش کرتے ہیں کہ وہ سیاحت ، تقاریب اور دعوتوں میں انہیں ساتھ رکھیں اور اس کا حاصل ان کے دو بیٹے اور ماں باپ کی دم ساز بیٹی عینی ہیں ۔ تاہم اچھا ہوتا کہ وہ اپنی اہلیہ کے کینسر اور کیمو تھراپی کی تفاصیل بیان نہ کرتے ۔ آج کل لوگ قدرت اللہ شہاب کے شہاب نامے کو پھر کھنگال رہے ہیں مگر میں اپنے طالب علموں کو بتایا کرتا تھا کہ تین عورتوں نے شہاب کی شخصیت اور قلم میں نرمی اور گداز پیدا کیا ایک لڑکی چندراوتی سے محبت ، اپنی والدہ ( ماں جی ) اور پردیس اور جنرل یحیی کے دور عتاب میں اپنی بیوی ڈاکٹر عفت کی تکلیف دہ وفات ۔
6۔ داود طاہر کو نجانے کیوں اس بات سے دلچسپی ہے کہ اپنے احباب کی ہی نہیں مخالفین کی بھی تاریخ وفات کے ساتھ زندگی کے آخری ایام یا موت کے اسباب بیان کئے جائیں وہ اپنے اوپر قاتلانہ حملوں کا بھی ذکر کرتے ہیں جس سے آپ بیتی میں ڈرامائیت پیدا ہوتی ہے اپنے برین ہیمرج کے بعد اپنی صحت یابی اور ہر قسم کے ڈاکٹروں اور ہسپتالوں کی برکت اور بے برکتی پر بھی لکھتے جاتے ہیں اور کہیں کہیں وہ یہ بھی لکھ دیتے ہیں کہ مرنے والے نے مرنے سے پہلے تین جھرجھریاں لیں ( یہ حصہ پڑھتے ہوئے دو مرتبہ تو میں نے بھی جھرجھری لی )
چند اقتباسات دیکھئے :
"موصوف نے ایک ہی روزمیں دو شادیاں کی تھیں ان کی دونوں بیویاں ان کے عدل کی تعریف کرتی تھیں ایک مرتبہ وہ علاج معالجہ کے لئے بیرون ملک گئے واپس آئے تو انہیں یادتھا کہ شب بسری کے لئے کس بیوی کی آج باری ہے ”
۔۔۔
ڈیرہ اسماعیل خان اور بنوں میں اپنے پسندیدہ لڑکے سے رغبت کا اظہار سر بازار ڈھولچی کی معیت میں کیا جاتا ہے
۔۔
ایک گھر میں دعوت میں میری پلیٹ میں مرغ مسلم رکھا گیا تھا، اچانک میزبان کا ننھا بیٹا یا بھیتیجا آیا اور رو کے پوچھا ” ایہہ سارا کجھ توں ای کھانڑا اے "؟
۔۔۔۔
ملتان کے محمد عمر خان ( کاروان ادب ملتان کینٹ ) نے میری فرمائش’پر مجھے 25 مشہور سفرنامے مہیا کر دیئے جو میں نے پڑھ کے اور نوٹس لے کے ” واپس ” کر دئیے
۔۔
” اسلامیات کے لیکچراروں کے لئے خواتین امیدواروں سے کالج سے آئے ماہر مضمون کا غسل جنابت کے بارے میں سوال ”
کرنل محمد خان کے آخری ایام میں ان کے بیٹے نے انہیں کس طرح بے گھر کیا اور اہلیہ نے بھی بیٹے کا ساتھ دیا ، پروین شاکر کی فائل کے بعض’مندرجات ، محمد علی کی وفات کے بعد زیبا سے ملاقاتیں اور گفتگو ، جنرل یحیی کی نظربندی کی دوران گیدڑوں کے غول سے آتی آوازوں میں جنرل صاحب کی وہسکی طلب آہ و بکا ۔۔مسز’سرفراز اقبال کے بارے میں ضمیر جعفری کی نظم جس’کا ایک لازوال مصرع یہ ہے
وہ شب گردوں کے حق میں مستقل شب خون ہے یارو
اسی طرح ‘ بدایونی پیڑے (مقامی کھوئے سے بنے ) تو ہیں ہی سنگ مرمر سے ترشی ہوئی بعض خواتین کا ذکر گویا اس میں ہر ایک کے لئے اپنی اپنی دلچسپی کا سامان ہے
اسے رضا کاظمی کے سنگی اشاعت گھر نے ہری پور ہزارہ سے شائع کیا ہے اور شاید چھیڑنے کے لئے محمد داود طاہر نے یہ شعر کتاب کے ابتدائی اوراق کی زینت بنایا ہے
افسوس بے شمار سخن ہائے گفتنی
خوف فساد خلق سے نا گفتہ رہ گئے
فیس بک کمینٹ

