ڈاکٹر اسد اریبشاعریلکھاری

ڈاکٹر اسد اریب کی ایک غزل

تماشہ جس کا ہو وہ غم نہیں ہوں
میں کوئی آگ کا ماتم نہیں ہوں

سرِ نوک ِ سِناں یہ کیا لِکھا ہے
وہ سر ہوں جو کسی سے خم نہیں ہوں

میں کہہ سکتا ہوں ہر اک بات سچ سچ
دَہن دارم مگر خاکم نہیں ہوں

تُو پہلے سے یہاں ہے ، ہو مجھے کیا؟
میں اب ہوں اور کسی سے کم نہیں ہوں

مرا طرزِ عمل منشور میرا
جو پہنا جاۓ وہ پرچم نہیں ہوں

صلہ محمود سے مانگوں سخن کا
وہ فردوسی ، بہ ظرف ِ کم نہیں ہوں

تُو چاہے اور نہ جاؤں میں شجر پاس
میں آدم زاد ہوں ۔ آدم نہیں ہوں

مری مُٹھی میں اک دنیا ہے سر بند
میں اب محتاجِ جامِ جم نہیں ہوں

نہیں ممکن کسی سے تول میرا
کسی صورت بہ کیف و کم نہیں ہوں

میں شاعر ہوں اریب ِ نثر افروز
مگر ہر دم نہیں ۔پے ہم نہیں ہوں

تلاش ِ فکر و تدبیر ِ سخن میں
میں میر و میرزا سے کم نہیں ہوں

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker