Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
جمعرات, جون 4, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی
  • ایران نے صدر مسعود پزشکیان کے استعفے کی تردید کر دی
  • لبنان میں اسرائیل کے عزائم کیا ہیں؟ ۔۔ سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • لبنان کے تاریخی قلعے پر اسرائیلی قبضہ : فرانس نے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا
  • فرانس میں چیمپیئنز لیگ کے جشن کے بعد ہنگامے، 400 سے زیادہ افراد گرفتار
  • امن معاہدہ تو تیار ، صرف سرنامے پر ’اختلاف‘ ہے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»جہان نسواں / فنون لطیفہ»یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (1)
جہان نسواں / فنون لطیفہ

یاسمین محمود علی ۔۔ کوئی یوں بھی روٹھتا ہے ؟ ۔۔ ڈاکٹر عصمت ناز کا مضمون (1)

ایڈیٹراپریل 4, 202313 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
ismat naz
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

دوست زندگی کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں ایک ایسا سرمایہ جس کے بنا محسوس ہوتا ہے کہ بس مفلسی ہی رہ گئی ہے۔ دوستوں کی دوستی کو اگر جیون کے شب و روز سے منفی کریں تو یقین کریں سوائے خلاء کے کچھ باقی نہیں بچتا اور کچھ دوستوں کے ساتھ تو دوستی ایسی ہوتی ہے کہ وہ ہمارے شب و روز کا ایک اٹوٹ انگ بن جاتے ہیں۔ ہم بہت سی باتیں بہت سی خوشیاں بہت سے کرب بہت سے راز بہت سے سپنے بہت سی خواہشیں اور بہت سے دُکھ درد صِرف اور صرف دوستوں سے ہی بانٹ سکتے ہیں کیونکہ دوستی میں عموماً اگر وہ واقعی حقیقی دوستی ہے تو کوئی منفعت، مصلحت اور منافقت کے ساتھ ساتھ کسی چیز کا بٹوارہ نہیں کرنا ہوتا۔ اور وہ تلخیاں اور رنج و الم جو بعض اوقات جانے یا انجانے میں اپنوں کی طرف سے ملتے ہیں ان کا مرہم اور مداوا دوستوں کے علاوہ کوئی نہیں کر سکتا۔ مگر اُس صدمے کو کیا نام دیا جائے اُس دُکھ کو کیسے بیان کیا جائے جو کسی عزیز دوست کی دائمی جدائی سے ہم برداشت کرتے ہیں۔ بس یقین ہی نہیں آتا کہ کوئی اس طرح سے ہمارے درمیان سے ابدی منزل کی طرف روانہ ہو گیا ہے کہ جس دیس کو جا کر کوئی پلٹا نہیں ہے واپسی کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں اور بس یادوں کا ایک تلاطم اور موج رواں جاری و ساری رہتا ہے۔ ایسے ہی کسی کربناک لمحے میں پیاری دوست یاسمین محمود علی ہمیں داغ مفارقت دے گئی۔
پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ذہن کے نقوش پر ان کا خاکہ ایسے ابھرتا ہے کہ جیسے کل کی بات ہو۔ خوبصورت قامت، سانولی سلونی رنگت ، جدید طرز پر تراشیدہ بال، اونچی ایڑی والے جوتے پہنے ٹِک ٹک کرتے ہوئے آنکھوں پر دھوپ والا چشمہ لگائے بڑے وقار کیساتھ لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے وہ جب سٹاف روم میں داخل ہوئیں تو بس ہم انہیں دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ اُس پر مستنراد کہ انگریزی ایسے فراٹے بھرتی ہوئی بول رہی تھیں کہ گویا جم پل لندن کا ہی ہو۔
ابھی میں حیرت کے سمندر میں غوطہ زن ایک طرف بیٹھی سوچ رہی تھی کہ موصوفہ ہیں کون اور کہاں سے وارد ہوئی ہیں کہ میری کلاس فیلو اور کولیگ فوزیہ نعمت مسکراتی ہوئی آگے بڑھیں اور کہا ’’عصمت آؤ باجی سے مِلو یہ باجی یاسمین ہیں اور بہاولنگر لیکچرر ہیں آج ادھر دوستوں سے ملنے آئی ہوئی ہیں۔ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا اچھا ’’باجی یاسمین‘‘ جن کا تذکرہ تو ہمیشہ رہتا تھا مگر ملاقات کا شرف آج حاصل ہو رہا تھا۔
پھر یہ تعارف ایسی دوستی میں بدلا جس میں محبت کی چاشنی، قربت و چاہت کے تمام رنگ شامل تھے۔ اور یہ قوس قزح ایسی جمی کہ فوزیہ تو بالکل پس منظر میں چلی گئی اور بس یاسمین ہی ہم دم و ہم ساز بنتی چلی گئی۔ ادھر کالج میں مسزِ زبیدہ جاوید اور مسزِ خالدہ امتیاز وغیرہ یاسمین کی کلاس فیلو تھیں لہذا وہ بے تکلفی سے انہیں یاسمین ہی کہتی تھیں اور پھر رفتہ رفتہ میں نے بھی محض ’’یاسمین‘‘ کہنے پر ہی اکتفا کر لیا تھا اور کبھی کبھار چھیڑنے کی خاطر باجی پر زور دیکر یاسمین کہتی تھی تو وہ مسکرا دیتی تھیں۔ ہاں یہ ضرور تھا کہ ان کی عدم موجودگی میں دوسروں کے سامنے اُن کی کوئی خاص بات بتانی ہوتی تو’’ کوڈ ورڈ‘‘ باجی ہی مستعمل رہا۔ یاسمین کا تعلق اُردو بولنے والے بڑے ہی نستعلیق اور مہذب گھرانے سے تھا۔ جس پر وہ نازاں تھیں اور پھر والد کے سید ہونے کا اظہار بھی بہت فخر سے کرتی تھیں بلکہ ہم پر رعب بھی ڈالتی تھیں اور گاہے بگاہے مجھے ’’پنجابی ڈھگے‘‘ کے الفاظ سے بھی نوازتی رہتی تھیں مگر یہ دوستانہ طنز و مزاح کبھی رنجش کا باعث نہ بنا۔ ایسی چپقلشوں میں ہم بھی اُردو بولنے والوں کے کچھ جملے گوش گزار کرتے تو معاملہ دب جاتا تھا۔ وہ اپنے نام کے بارے میں بہت خیال رکھتی تھیں کہ پورا لکھا جائے اگر کسی نے غلطی سے یاسمین محمود لکھ دیا تو کہتی تھیں کہ دیکھو بولنے کی بات اور ہے لکھنے میں پورا نام یاسمین محمود علی ہی ہونا چاہیے اور اُن کے دستخط بھی پورے نام پر ہی مشتمل تھے لہذا مد مقابل بڑی سرعت سے پورا نام لکھ دیتا تاکہ اعتراض کی گنجائش ہی نہ رہے۔
گھر سے دور بہاولنگر میں تعیناتی تھی تو بڑی مشکل سے اپنے شہر ملتان تبادلہ ہوا مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ادھر ملتان آئیں تو اُدھر پھر واپس جانا پڑا کہ شادی بہاولنگر میں ہو گئی تھی۔ شومئی قسمت کہ یہ شادی کوئی خوشگوار تجربہ ثابت نہ ہوئی یہ بندھن پائیدارنہ تھا۔ دونوں کے مزاج نہ مِل سکے اور اُس لالچی شخص و گھرانے کا ذہنی و جسمانی ظلم و تشدد برداشت کرتے ہوئے جب ان کی بس ہو گئی تو دوستوں اور والدین کو آگاہ کیا اور پھر ایک دن کالج گئیں تو وہیں سے تمام کشتیاں جلا کر ملتان کا رُخ کیا۔ وہی جو بنتِ حوّا کے ساتھ ہوتا چلا آیا ہے انہوں نے بھی سہا اور آخر یہ بندھ خلع پر منتج ہوا اور ایک بار پھر بہت بھاگ دور کے بعد تبادلہ واپس ملتان کروایا گیا جس میں پرنسپل شاہ رکن عالم کالج مسزِ سنجیدہ ساجد صاحبہ اور پنجاب پروفیسر ایسوسی ایشن کے صدر جناب ناطم حسین نے بہت ساتھ دیا۔ واپس آنے گھر آ کر سکون تو ملا مگر اس جذباتی صدمے نے ان کی صحت اور ان کے مزاج پر بڑے دور رس اور گہرے اثرات مرتب کیے جس پر قابو پانے میں کئی ماہ وسال لگے لیکن اندر ہی اندر ان کو جیسے گُھن لگنا شروع ہو گیا تھا۔
بظاہر وہ ٹھیک لگتی تھیں لیکن ہوتا کچھ یوں ہے کہ والدین بھی بیٹی کے اجڑنے کے بعد دکھی ہو جاتے ہیں اور بھائی بھابھیاں بھی بہت کُھلے دِل سے ایسی لڑکی کو قبول نہیں کرتے اور یہ ہمارے رہن سہن، معاشرے اور اس کے رسم و رواج کی بہت بڑی قباحت ہے حالانکہ ایسے معاملات میں لڑکی کا تو کوئی دوش نہیں ہوتا اور پھر ملازمت پیشہ تو کسی پر بوجھ بھی نہیں ہوتی ہے لیکن کیا کیا جائے کہ یہ رسم قبیح تبدیل ہوتی نظر نہیں آتی۔
یاسمین ایک بہترین اُستاد تھیں جنہیں اپنے مضمون پر عبور حاصل تھا۔ ان کی طالبات ہمیشہ ان کے گُن گاتی تھیں۔ تدریس کے علاوہ بھی وہ اپنی طالبات کی دامے درمے سخنے معاونت کرتی رہتی تھیں اور ملازمین وغیرہ بھی ان کی جیب سے مستفید ہوتے رہتے اور دُعا دیتے تھے۔ گریڈ اُنیس میں جب ترقی ہوئی تو پھر شاہ رکن عالم کالج کا ساتھ چھوٹا اور ادھر سب دوستوں کے درمیان آنے کی دِلی خواہش پوری ہوئی اور پھر باقی ملازمت کے ساتھ یعنی ریٹائرمنٹ تک کچہری روڈ کالج اور حالیہ ویمن یونیورسٹی میں گزار دیے۔ وہ مرکزی سٹاف روم سے اُٹھ کر ادھر اُدھر گھوم پھر کر سب سے مِل ملا کر آخر میں میرے کمرے میں آ جاتی تھیں جہاں آ کر بقول اُن کے ایک سکون اور ٹھنڈک سی محسوس ہوتی ہے۔ خوب دِل کی باتیں کرنا اور پھر لذتِ کام و دھن کا سلسلہ بھی چلتا رہتا تھا۔ وہ بہت زندہ دِل بدلہ سبخ اور جینے کی امنگ سے بھرپور خاتون تھیں۔ مگر جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ہے کہ وہ اندر ہی اندر گھلنا شروع ہو گئی تھیں۔ انہیں شدید اعصابی تکلیف اور جوڑوں کی دردوں نے بے حال کرنا شروع کر دیا تھا۔ وہ آہستہ آہستہ چلنے پھرنے میں مشکل محسوس کرنے لگیں اور اونچی ایڑی والی جوتیوں کو خیر باد کہہ کر جوگرز یا فلیٹ شوز کا استعمال شروع کر دیا۔
مگر اُن کا حوصلہ اور ہمت کمال کا تھا کبھی ان کا مورال ڈاؤن نہیں ہوتا تھا ۔ یہ الگ بات ہے کہ کبھی کبھار ماضی کو یاد کر اچھی صحت کے دِنوں کا تذکرہ کرتے ہوئے افسردہ اور آبدیدہ ہو جاتی تھیں۔ میں اور تمام دوست ان کا حوصلہ بڑھاتے اور انہیں حتی الامکان خوش رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ ایک بار خوب محفل جمی ہوئی تھی۔ باتوں باتوں میں سسرالیوں کے رویے کی بات چھڑ گئی تو کسی نے مذاقا کہا کہ یاسمین تم کوشش کر کے اپنے سسرال والوں کو ٹھیک کرنے کی کوشش تو کرتیں تم نے تو بس ہتھیار ہی ڈال دیئے۔ اس پر اُن کا برہم ہونا تو بنتا تھا کیونکہ اب اس طرح کی برہمی اور تلخی ان کے مزاج میں شامل ہوتی جا رہی تھی۔
یاسمین نے جواباً کہا کہ جس پر بیتےبس وہی جانتا ہے تم لوگوں کو تو صِرف باتیں بنانا آتی ہیں ارے وہ بہت گھٹیا اور بد تمیز قسم کے لوگ تھے۔ میں نے ذرا ماحول کا رنگ بدلنے کی خاطر بڑے مؤدبانہ انداز میں کہا کہ پھر بھی کم از کم پتہ تو چلے کہ کون لوگ تھے تو بڑی آہستگی اور راز داری سے میرے کان میں بتایا کہ ’’وہ پنجابی جاٹ تھے‘‘ اوہ ھت تیرے کی یاسمین۔۔۔ میں بھی تو پنجابی جاٹ ہوں۔ یہ بات وہ جانتی تھیں مگر اس وقت اُن کے ذہن میں نہیں رہا اور سب کے سامنے بہت معذرت کی اور کہا کہ نہیں پیاری دوست تم تو ایسی ہرگز نہیں ہو۔ کمرے میں موجود باقی دوست بھی اس بات سے بہت محظوظ ہوئے خواہ وہ پنجابی تھے یا نہیں۔
اسی طرح ہم نے ایسے ہی چھیڑخوانی کرتے ہوئے کہا کہ اگر وہ بدتمیز تھے تو آپ بھی سُنا دیا کرتیں ناں۔۔۔ ناں بھئی ناں ہماری تربیت ایسی نہیں ہے ہمارا اخلاق اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسی بازاری زبان استعمال کریں یا جواب دیں۔ اچھا مگر کچھ بتاؤ تو سہی تاکہ اُن کی اخلاقیات کے بارے میں اندازہ لگایا جا سکے کوئی مثال تو دیں ناں۔۔۔۔ تو بہت سوچ بچار اور کچھ دیر کی خاموشی کے بعد گویا ہوئیں کہ ارے وہ بندہ اور اُس کے گھر والے کہتے تھے۔۔۔ پتہ بھی ہے کیا کہتے تھے۔۔۔ ارےیار اب بتا بھی چکو۔۔۔۔ تو پھر قدرے توقف کے بعد فرمایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ وہ ناں مجھے ک۔ت۔ی تک بول دیتے تھے۔ فوری طور پر تو کسی کے پلے کچھ نہ پڑا مگر چند ثانیوں کے بعد ھجوّں کو جوڑا تو بے ساختہ سب نے فلک شگاف قہقہ لگایا اور ہنستے ہنستے بے حال ہو گئے اور کہا کہ یہ تو ایسی خاص بات نہیں تھی مسز، ارشاد خالد اور مسز سعیدہ محبوب نے چھوٹتے ہی کہا کہ ’’دُر فٹےِ منہ اور ناں داجے اوھ صرِف اے ای کہندے سن‘‘ ان کے تو جاٹ اور پنجابی ہونے پر شک ہونے لگا ہے۔ تو پھر بہت ملتجائیہ لہجے میں کہنے لگیں نہیں تم سب لوگ تو بہت اچھے ہو۔۔۔ اور عصمت تم خفا تو نہیں ہو گئی۔ بہر حال بات آئی گئی ہو گئی مگر بطور حوالہ ہم ہمیشہ یاد کر کے ہنسا کرتے تھے۔
انہی دِنوں وہ اپنے علاج کے سِلسلے میں ایک کولیگ کے مشورے پر کسی نیم حکیم کے ہتھے چڑھ گئی جو آج سے تقریباً اٹھارہ بیس سال قبل ایک ہفتے کی پُڑیاں چھ ہزار میں دیتا تھا۔ یہ بات بہت اچھی تھی کہ وہ تندرست ہونے لگیں اور جیسے پھر سے کھڑی ہو گئی ہوں۔ خود کہتی تھیں کہ میں تو پھر سے گھوڑے کی طرح سر پٹ بھاگنے لگی ہوں۔ مگر افسوس کہ سب کچھ وقتی اور عارضی ثابت ہوا حکیم صاحب جانے کیا کیا مگر بالخصوص سٹیرائڈز دیتے تھے اس سے اُن کا سنبھلنا تھوڑے عرصے بعد ہی ختم ہو گیا اور تکلیف اور مرض پہلے سے دوگنا تِگنا بڑھ گیا۔ مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کیا گیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ مگر اس عالم میں بھی اُن کی زندہِ دلی ہمت اور حوصلہ قابل داد رہا کہ اُنکے معالج بھی یہ کہتے تھے کہ ان کی قوتِ ارادی قابل رشک و قابل تحسین ہی نہیں بلکہ دیگر مریضوں کے لیے بھی اک قابل تقلید مثال ہے۔
میرا انتخاب حکومت پاکستان کی طرف سے چین کی پیکنگ یونیورسٹی میں شعبہ اُردو و مطالعہ پاکستان پر ہوا تو سب دوست خوش بھی تھے اور اداس بھی کہ تم چلی جاؤ گی۔ یاسمین نے ایک دن کہا کہ اُدھر جا کر مجھے بھی پاس بُلا لینا تو ثمینہ بلال نے کہا کہ کیوں یہ تو مجھے بلائے گی۔ اسی دوران خوب ھلہ گُلہ سفر اور ادھر قیام کی تیاری کیساتھ ساتھ دھ توں کالا متناہی سلسلہ شروع رہا۔ یاسمین طبعیت کی خرابی کے باوجود ہمیشہ کی طرح ہر موقع پر شریک رہی کیونکہ یہ اُس کی عادت تھی خواہ کہ کچھ بھی ہو دوسروں کی خوشی اور غم میں ہر حال میں جانا ہوتا تھا۔
میں چین میں تھی تو معلوم ہوا کہ ہمارے ایک بزرگ کلرک صُوفی صاحب کا انتقال ہو گیا تھا۔ اب یاسمین کہاں پیچھے رہنے والی تھیں کہ دوستوں نے ان کی طبعیت کے پیش نظر انہیں واپس آ کر بتایا کہ ہم اُن کے گھر سے ہو آئے ہیں۔ انہوں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ۔۔۔ سب کو بے بھاؤ کی سنائیں اور ڈرائیور سے کہا کہ گاڑی بھگاؤ ان کے گھر پہنچیں تو معلوم ہوا کہ تدفین کے لیے صوفی صاحب کو قبرستان لے جایا جا چکا ہے تو یہ پوچھتے پوچھتے قبرستان پہنچ گئیں وہاں درخواست کر کے لحد میں تارے ہوئے صوفی صاحب کے چہرے کو دیکھا تو تسلی ہوئی مگر واپس پلٹے پلٹے گاڑی میں بیٹھیں تو بے ہوش ہو گئیں۔ بڑی مشکل سے کالج پہنچیں تو پانی شانی پی کر حواس بحال ہوئے۔ یہ بات بھی اُن کی ایک حوالہ بن گئی کہ یاسمین تو قبر تک پیچھا نہیں چھوڑتی ہے پہنچ جاتی ہے۔ سوچتی ہوں اب جب وہ خود قبر کا مسکن بن گئی ہے تو پتہ نہیں کوئی قبر پر جاتا ہو گا کہ نہیں۔ کم از کم ہم دوستوں میں سے تو کِسی کا حوصلہ نہیں ہوا اب تک۔
میں ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں پاکستان کا چکر لگایا کرتی تھی تو ایکبار پھر محفلیں آباد ہو جاتیں، رنگ برنگی تقریبات، کھانے، دعوتیں ، شاپنگ و ملنا ملانا سب کچھ ایک ہنگامے کی شکل میں برپا رہتا ۔ یاسمین کہتی تھی کہ عصمت تمہارے جانے سے ڈیرہ ہی اجڑ گیا ہے سب تیتر بٹیر ہو گئے ہیں۔ رونقیں ہی مانند پڑ گئی ہیں۔ لیکن دیکھو میں اور محمودہ عرفان تمہارے ویران پڑے آفس میں اکثر چلے جاتے ہیں اور دِل خوش کرتے ہیں۔ میری عدم موجودگی میں بھی میرے دوست میری والدہ سے ملنے چلے جاتے تھے یہ اِن کی عظمت تھی کہ میرے گھر والوں کے ساتھ انہوں نے مکمل رابطہ و ناطہ جوڑے رکھا۔ میری فون پر بات ہوئی تو یاسمین سے میں کہتی کہ اب بس کرو مجھے بہت کام کرنا ہے تو کہتی نہیں بند کروں گی فون کا بل تو مجھے آئے گا تمہیں تو نہیں تو میں نے بتایا کہ ادھر چین میں کال سننے کا بھی تقریباً اتنا ہی خرچ ہے جتنا کرنے کا تو وہ کہتی بھئی ان کے تو کام ہی نرالے ہیں۔ ایک بار بڑی حسرت سے میرے پاس بیٹھی کہنے لگیں کہ عصمت تم لوگ کتنے اچھے ہو مل جل کر رہتے ہو۔ تمہاری بہنیں ، بھائی اور ان کے بچے یعنی تمہارے بھانجے بھانجیاں وغیرہ سب تم سے کتنی محبت کرتے ہیں تمہارا کتنا خیال کرتے ہیں میں نے کہا کہ یاسمین آپ کا بھی خیال کرتے ہیں آپ سے بھی پیار کرتے ہیں۔۔۔۔ تو کہنے لگی ہاں یہ تو ہے اور خاص طور پر بھائی عطا تو مجھے بہت ہی عزیز ہے مجھے بہت پیارا ہے میرا چھوٹا بھائی ہی تو ہے۔۔۔۔ مگر یہ کہتے ہوئے وہ گلوگیرسی ہو گئی اور اس کی آنکھوں میں تیرتی نمی اور چہرے کے پھیکے رنگ میں نے محسوس کر لیے تھے۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

ملتان یاسمین محمود
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleفیضان عارف کا کالم :برطانیہ میں گھریلو تشدد کے واقعات میں اضافہ
Next Article عرفان صدیقی کا کالم:ڈان لیکس، توسیع کا شیش ناگ اور مریم کے آنسو
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

پیر سپاہی ، ملتان کی کہانیاں اور رضی الدین رضی کی سوانح عمری : کلثوم رفیق کا کتاب کالم

مئی 26, 2026

ارشد حسین ارشد ، مخدوم سجاد قریشی اور کھولتے دودھ کا کڑاہا : قریب و دور سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم

مئی 15, 2026

ممتاز آباد ملتان میں خاتون اور بچیوں کی خود کشی کا معمہ حل : شوہر نے قتل کا اعتراف کر لیا

مئی 6, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • عید قرباں اورلائیو سٹاک کا ڈوبتا سرمایہ : برملا / نصرت جاوید کا کالم جون 4, 2026
  • قاتل کی بیوی اور بیٹا پروفیسر محی الدین کے فارم ہاؤس پر ملازم تھے : قتل کے حقائق کیا ہیں ؟ ان کہی / نسیم شاہد کا کالم جون 3, 2026
  • طوفانی بارش اور ژالہ باری : کے پی کے میں چھت گرنے سے 6 بچے ہلاک جون 3, 2026
  • علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ اور تدفین ’ذوالحج کے آخر یا محرم کی ابتدا‘ میں ہوگی: ایرانی عہدیدار جون 3, 2026
  • دہشت گردی کے خاتمے میں علماء کرام کا کردار بہت اہم ہے : پروفیسر ڈاکٹر طحہ قریشی جون 1, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.