بہت دور کہیں کسی گھنیر درختوں کے جھنڈ کے پیچھے غروب شام کا نارنگی سورج تمام دن کی مسافت طے کر کے پانیوں کی تہہ میں سونے لگا ہے۔۔اور کرنوں کے زرد تھال کے نیلے پانی میں غوطہ زن ہونے سے پانی میں اس تھکے ماندے سورج کی سستیاں گھل مل گئي ہیں جیسے جذ بوں کے بے قابو ہونے سے پرانے وقت کے دوست کے خط پر نئے دور کے غموں کی اشک باری سے روشنائی پھیل جاۓ ۔۔۔اور نکتہ دھبہ بن جاۓ
دن کتنا ہی روشن اور تابناک کیوں نہ رہا ہو ڈوب جانے کے بعد آفتاب کی کیا وقعت۔۔۔ اس آگ کے گولے کو شمع کی مانند بجھتے دیکھ کر یہی خيال آتا ہے کہ بالکل اسی طرح صاحب اختیار ارباب اقتدار اور کرسی پوش خاکی خداؤ ں کی پرستش بھی تب تک ہی کی جاتی ہے جب تک کہ انکے قلم میں اختیار اور آواز میں حکم کا درجہ قائم ہو
چڑھتے سورج سے کوئی نظر ملانے کی ہمت نہیں کرتا اور اس کے ڈھلتے ہی کوئی اسے یاد نہیں کرتا۔۔۔خوبصورتی تو درخت بننے میں ہے تیز دھوپ میں جھلستا ہے پھر بھی سایہ دیتا ہے طوفان میں سائبان بنتا ہے جتنا سود مند ہوتا ہے اتنا ہی جھکتا چلا جاتا ہے جبکہ غرور کی گردن تو اونچی ہو سکتی ہے لیکن غرور کا سر آخر میں نیچا ہو کر رہتا ہے۔۔اہل زمین پر فرعونیت کرنے والوں کو بحر و لہر بھی دھتکار دیتے ہیں۔۔۔اکیلا چلنے والا ڈوب جاتا ہے سب کو ساتھ لے کر چلنے والوں کو ہمسفری کی رحمت حاصل ہوتی ہے اور سفر آخرت پر روانہ کرنے والے بھی آنسووں کے ساتھ کندھا دینے آتے ہیں اس کی قبر پر کتبہ لگاتے ہیں اور دعا کے ہار پھول چڑھاتے ہیں۔۔ یہ ہیں اصل سکندر جو دلوں کو فتح کرتے ہیں اور جاتے جاتے چاہنے والوں کو خالی کر جاتے ہیں ایک زمانے کی محبت کا خزانہ سمیٹ کر ساتھ لے جاتے ہیں۔۔۔
فیس بک کمینٹ

