یہ گلوبل وارمنگ کا زمانہ ہے یعنی بین الاقوامی سطح پر تمام اہل زمین اس وقت آلودگی کی وجہ سے شدید ترین موسمی تبدیلیوں کا شکار ہیں۔۔۔گلوبل وارمنگ سے گلیشئرز پگھل رہے ہیں اور گرمیوں کی طوالت اور شدت میں بھی اضافہ ہوا ہے اس کا ثبوت ہمارے موجودہ اور ماضی کے حالات کا مقابلہ کرنے سے ملتا ہے۔
ایک عشرہ برس قبل ستمبر اکتوبر میں خزاں سے درختوں کے پیرہن کی تبدیلی شروع ہو جاتی تھی نومبر سے فروری ٹھٹھرتی سردی اور پھر مارچ میں رنگوں خوشبووں کی بہار آتی تھی۔۔۔اب ان سب کا بڑا حصہ گرمی کی لپیٹ میں آ چکا ہے نومبر میں خزاں رنگوں کو دیکھنے کا اہتمام کرنا پڑتا ہے۔۔بہار اپنی جگہ حسین ہے لیکن جو دلکشی زردیوں میں گھلے ہلکے پیلے پتوں اور شاخ سے جدا ہوکر فرشی زیبائش کا سماں باندھتے ہیں اس کا اپنا ہی مزہ ہے اپنی الگ ایک کہانی ہے کہ ٹوٹے ہوۓ لوگ بھی خوبصورتی رکھتے ہیں فقط دیکھنے والی نظر ہو۔۔۔
ایسے ہی دھیمے آنچ والے سورج سے سجی اخير نومبر کی خزاں رسیدہ سہ پہر ایک عزيزہ کے اصرار پر ہوم اکنامکس کالج ملتان کا دعوت نامہ قبول کیا ۔۔۔۔کالج کی بلڈنگ کے اندر ہی قائم ريذ یڈينسی ہاؤ س پہنچے۔۔۔ہاؤ س انچارجز اور طلباء نے پر تپاک استقبال کیا کہ یہ ریذيڈنسی روزمرہ کی زندگی میں میزبانی گھر داری اور سلیقہ مندی کی تربیت کیلئے ہی منعقد کیا جاتا ہے۔۔۔۔ہاؤ س طلباء کو مزيد گروپس میں تقسیم کر کے الگ الگ ہاؤ س کی تزئین و سجاوٹ اور انتظامات کی ذمہ داری دی گئ تھی۔۔۔
ہر ہاؤ س کا ایک الگ مرکزی تھیم اور رنگ ۔۔۔۔نت نئے سجاوٹی انداز گول چکور لمبوترے شیشوں آئينوں پھولوں پتوں دھاگوں ٹانکوں موتیوں پتھروں خوش خط قرآنی آيتوں اور کلموں سے سجے کمروں اور راہداریوں میں یوں سماں بندھا تھا جیسے بہاروں کی قوس قزح سجی ہو۔۔۔دھاگوں کے ٹانکوں سے بنی تصویر کشی بلاک پرنٹ والے تکیہ اور کشن کور گملوں اور گلدانوں میں سجے چھوٹے بڑے پودوں کے رکھ رکھاو سے تازگی کا احساس شامل کیا گيا تھا گویا نقل میں اصل کا تڑکا۔۔
زندگی کی حقیقی تلخيوں سے انجان رنگوں سے کاغذ کے پھولوں میں خوشبو بھرنے کی سعی کرتی یہ کمسن لڑکیاں اور بچیاں ایسی لگتی ہیں جیسے تتلیاں منڈلا رہی ہوں تزئين آرائش کیلئے رکھے جھولوں پر اٹھکیلیاں کرتی یہ پریاں گویا دور دیس سے خزاں کے موسم میں بہار کی سوغات لائی ہیں اور میں يہ سوچ رہی ہوں کہ گھر کے آنگن میں بیٹیوں کے دم سے عید میٹھی اور تہوار خوشگوار لگتے ہیں۔۔۔يہ پھول ہیں جن کی خوشبو سے ہماری زندگيوں میں خوشی کھلتی ہے اور یہ چڑياں ہیں جن کے چہچہانے سے گھر میں رونق رہتی ہے اور اگر یہ اداس ہو جائيں تو زندگی اداس ہو جاتی ہے۔۔۔
خدا ہر گھر کے ان پھولوں کی تازگی کو سلامت رکھے تاکہ کسی گھر میں مایوسی بھری رات نہ آۓ بلکہ امید کے جگنو جگمگاتے رہیں اور ضروری نہیں ہم سائنس کے مضامین کی تعلیم کو تعلیم سمجھیں علم کی کئی شاخيں ہیں اور شاخ پر الگ رنگ کے پھول کھلتے ہیں جو ذوق ہو اسی علم کا ہنر سیکھا جاۓ تو زندگی بہار ہی بہار ہے اہل ہنر کے ہاتھ میں ہر ہار کو جیت میں بدل دینے کا نسخہ ہوتا ہے۔
فیس بک کمینٹ

