سقوط ڈھاکا کو ہوئےاس سولہ دسمبر 2021 کو پورے پچاس سال ہوجائیں گے ۔ سولہ دسمبر انیس سواکہتر کو ابھی پاکستان بچیس سال کا ہوا تھا کہ ہمارا مشرقی بازو ( مشرقی پاکستان )ہم سے علیحدہ ہو کر دنیا کے نقشہ پر نئے ملک بنگلہ دیش کے نام سے ابھرا۔۔
پچاس سال سے ہم اس بات کا ہی تعین نہیں کرپائے کہ ہمارے کڑیل جوان بازو مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے اسباب اور عوامل کیا تھے۔
ہم تو ایک دوسرے پر الزامات لگا کر مطمئن ہو جاتے ہیں ۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے والے عوامل کا کھوج لگانے کے لیے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس حمودالرحمان کی سربراہی میں ایک کمیشن قائم کیا گیا۔ اس نے رپورٹ بھی حکومت کو پیش کردی تھی لیکن آج تک سرکاری طور پر اس رپورٹ کو شائع نہیں کیا گیا البتہ ادھر ادھر سے اس رپورٹ کے مندرجات اقساط میں منظر عام پر آتے رہے ہیں۔
تحریک پاکستان میں فعال کردار ادا کرنے والے پاکستان کی آبادی کے لحاظ سے بڑے صوبے مشرقی پاکستان کے عوام پاکستان سے علیحدہ ہونے پر کیوں تل گئے ؟ ان کے اندر اتنا غم و غصہ یکدم کیسےپیدا ہوا ؟ حیرانگی کی بات ہے کہ انیس سو چونسٹھ کے صدارتی انتخاب میں تو اس مشرقی پاکستان نے قائد اعظم کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کا بھرپور ساتھ دیا تھا اس کے بعد کیا ہوا محض سات سال بعد انہوں نے پاکستان کے ساتھ نہ رہنے کا فیصلہ کرلیا۔
یہ بات ذہن میں رکھنے والی ہے کہ سانحات راتوں رات جنم نہیں لیتے انکے پیچھے برسوں پہلے وہ بوئے ہوئے بیج ہوتے ہیں جنکی آبیاری کی جاتی رہی ہوتی ہے جیسے پاکستان کا قیام برسوں کی تحریک کا ثمر تھا بلکل ایسے ہی پاکستانی عوام کو ایک بیانیہ دیا گیا
کہ چونکہ مشرقی پاکستان میں بڑی تعداد میں ہندو رہ رہے تھے جن کی ہمدردیاں ہندوستان کے ساتھ تھیں، اور وہاں علیحدگی پسند عناصر کو پنپنے کے مواقع دستیاب ہوئےجس سےمشرقی پاکستان کی عوام ان عناصر کے بیانیے سےگمراہ ہو گئی۔
ہندوستانی قیادت کو پاکستان کا قیام ایک آنکھ نہیں بھاتا تھا۔ ہمارے تعلیمی نصاب میں بچوں کو یہ سبق پڑھایا جاتا ہے کہ بھارت نے پہلے دن سے ہی پاکستان کے وجود کو تسلیم نہیں کیااور اس نے برصغیر کی تقسیم کے فوراً بعد سے پاکستان کو توڑنے کی سازشیں شروع کر دی تھیں ہمارے ماہرین تعلیم تعلیمی نصاب میں لوگوں کو یہ باور کرانے کی کوشش کی ہےکہ مشرقی اور مغربی پاکستان کو جداجدا کرنے میں ‘انڈیا کا کردار’ تھا اور بنگالی سیاست دان اس کے گماشتہ ایجنٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔ یہاں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ سقوط ڈھاکا بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی ، بنگالی لیڈر شیخ مجیب الرحمان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو کے باہمی گٹھ جوڑ کا تیجہ ہے۔
دنیا بھر میں بنگلہ دیش کے قیام کے اسباب و عوامل پر بہت سی کتب لکھی گئی ہیں جن کی تحقیق میں کئی وجوہات تحریر کی گئی ہیں جو ہمارے سرکاری موقف سے مطابقت نہیں رکھتی ہیں۔ ان محققین کے مطابق مشرقی پاکستانی کے عوام میں جنرل ایوب خاں کے بعض اقدامات سےغم و غصہ پیدا ہونا شروع ہوگیا تھا۔
جنرل ایوب خاں کے ان اقدامات میں ” پریٹی ” کا قانون، صدارتی انتخابات میں محترمہ فاطمہ جناح کو دھاندلی سے شکست سے دوچار کرنا۔ اہم منصوبوں منگلہ ڈیم اور تربیلا ڈیم کی تعمیر میں مشرقی پاکستان کو نظرانداز کرنا، صدر ایوب خاں کے وزراء اور معاونین میں مشرقی پاکستان کو نمائندگی سے محروم رکھنا ،مشرقی پاکستان کی سیاسی قیادت اور عوام کے ساتھ امتیازی برتاو کا تذکرہ ہے ۔
قیام پاکستان کی تحریک میں ہراول دستے کا کردار ادا کرنے والے مشرقی پاکستانیوں کو یقین تھا کہ پاکستان کے معاملات حکومت میں انکا کلیدی کردار ہوگا کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ پاکستان کی کل آبادی میں وہ 56 فیصد ہیں۔ انکا خیال تھا کہ پاکستان کی قومی زبان آبادی کا 56 فیصد کی زبان بنگلہ ہوگی اور انہوں اس کا مطالبہ بھی کیا لیکن لیاقت علی خاں اور قائد اعظم علیہ رحمہ کی طرف سے یہ کہہ کر اس مطالبہ کو مسترد کردیا کہ پاکستان کی قومی زبان اردو ہوگی۔
مشرقی پاکستان کے لوگوں کو شکایت تھی کہ انکی پٹ سن کی کمائی کو ان پر خرچ کرنے کی بجائے مغربی پاکستان میں خرچ کیا جاتاہے۔ انہیں یہ بھی غصہ تھا کہ ریاستی اداروں کی سربراہی سے بنگالیوں کو دور رکھا جاتا ہے۔ انہیں اس بات کا بھی رنج تھا کہ مشرقی ہاکستان کے راہنماوں خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھا گیا۔ بنگالی اس بات سے بھی نالاں تھے کہ انکی اکثرتی آبادی کو مغربی پاکستان کے برابر کرکے انکی اکثریت ختم کی گئی۔
سب سے اہم یہ شکایت تھی کہ عام انتخابات میں عوامی لیگ پارلیمان میں اکثریتی جماعت تھی تو مغربی پاکستان سے تعلق رکھنے والے حکمرانوں نے اقتدار شیخ مجیب الرحمان کو منتقل کرنے سے انکار کردیا بلکہ الٹا انکے خلاف فوجی آپریشن کرکے بنگالیوں کا قتل عام کیا ۔
پاکستان اور بنگلہ دیش جو اب ایک حقیقت ہیں کیا ان دونوں ملکوں کے تعلقات کی سردمہری مستقبل میں جپھیوں میں تبدیل ہو پائے گی؟
بنگلہ دیش اس وقت جنوبی ایشیا میں سب سےمعاشی اور سیاسی لحاظ سے توانا ملک سمجھا جاتا ہے اور اسکی فی کس مجموعی قومی پیداوار پاکستان سے کئی فیصد، اور اپنے سے کئی گنا بڑے ملک بھارت سے بھی زیادہ ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش جنوبی ایشیا کی ایک سیکولر ریاست کے طور پر ایک تیزی سی ترقی کرتا ہوا ملک سمجھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے اس میں سیاسی استحکام نظر آرہا ہے۔ جبکہ پاکستان اس وقت افغانستان کے مقابلے میں بھی نہیں اس کی کرنسی ” ٹکہ” پاکستانی روپے کے مقابلے طاقت ور ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کو چاہیئے کہ وہ بنگلہ دیش کو بھارت کے تناظر میں نہ دیکھے۔
بنگلہ دیش والے اسلام آباد کی طرف منہ کرکے کہتے ہونگے کہ دیکھ لیں ہم وہیں ہیں جنہیں آپ حقارت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ جنہیں آپ دو ٹکے کے آدمی کہتے تھے اور دیکھ لیں آج وہیں سرزمین معیشت اور ترقی میں آپ سے کہیں آگے ہے جس کے متعلق آپ کہتے تھے کہ یہاں پٹ سن کے سوا ہوتا کیا ہے۔
مشرقی پاکستان میں کیا پاکستان کو فوجی شکست کا سامنا کرنا پڑا ؟ یہ بحث ابھی تک جاری ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ مشرقی پاکستان میں پاکستان کی فوج ہندوستان کے مقابلے میں بہت کم تعینات تھی۔ دوسرا اسلام آباد میں مکمل اختیارات رکھنے والے حکام کی طرف سے مسلح افواج کے بنگالی افسران ، ائیر فورس کے پائلٹوں ، نیوی کے جوانوں کو جنگ سے علیحدہ کر دیا گیا شائد اسکی منطق یہ ہو گی کہ بنگالی ہیں کہیں بھارت کی بجائے پاکستان کے خلاف ہی حملہ آور نہ ہوجائیں۔
اس رائے میں کوئی اختلاف نہیں کہ جنگیں اکیلی افواج نہیں لڑتیں قومیں ان کے ساتھ شانہ بشانہ میدان جنگ میں ہوتی ہیں ۔ مشرقی پاکستان میں یہ صورتحال نہیں تھی۔ پاک فوج ہندوستانی فوج سے نبزدآزما تھی تو پیچھے سے مکتی باہنی اور بنگالی عوام ان پر حملہ آور ہوتیں۔ اس صورتحال میں فوج کیسے اپنے سے چار گنا بڑی فوج کا مقابلہ کر سکتی تھی۔
پاکستان کے ذمہ داران سے ایک غلطی ہوئی کہ انہوں شکست کے فیکٹس کے برعکس سقوط ڈھاکا کہ سارا ملبہ پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب پر ڈالدیا اور انہیں مشرقی پاکستان کے الگ ہو نے کا ذمہ دار قرار دیدیا۔ یہاں کچھ لوگ سوال اٹھاتئ ہیں کہ اگر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد برسراقتدار آنے والے فوجی حکمران واقعی انہیں سقوط ڈھاکا کا ذمہ دار سمجھتے تھے تو انہیوں ے انہیں ایک نواب کے قتل کے الزام میں مقدمہ چلا کر پھانسی پر لٹکایا ؟ ان لوگوں کا کہنا ہے کہ جنرل ضیاء الحق اور انکے فوجی رفقاء کو چاہیئے تھا کہ وہ ذوالفقار علی بھٹو پر پاکستان کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلاتے اور پاکستان دولخت کرنے کے جرم میں سولی چڑھاتے۔ ان لوگوں کی رائے ہے کہ جنرل ضیاء نے ایسا نہ کرکے ذوالفقار علی بھٹو کو پاکستان کے قتل کے الزام میں کلین چٹ دیدی۔
ان لوگوں کا خیال ہے کہ اگر ہم ” ہتھیار ڈالنے” والوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑے کرتے تو آئندہ کے لیے بہتر ہوتا لیکن یہاں انہیں ہیرو بنا کر پیش کیا گیا ۔ کسی اور کو قانون کے شکنجھے میں دیا جاتا یا نہ دیا جاتا اسوقت کے فوجی حکمران آغا محمد یحیی خان کو ضرور کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے تھا۔ مگر اسے حفاظتی نظربندی کےنام تحفظ فراہم کیا گیا۔
آج اسلام آباد مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کے پچاس سال پورے ہو نے کا سوگ کی کیفیت میں شائد نہ ہو البتہ ڈھاکا بنگلا دیش کے پچاسویں یوم آزادی پر گولڈن جوبلی منا رہا ہے۔ تو بھی پاکستان کے وہ طبقات جو واقعی دل سے سقوط ڈھاکا پر دکھی ہیں وہ پھر سے دونوں ممالک کے ایک ہونے کی آرزو دل میں لیے ہوئے ہیں۔
کیا پچاس سال بعد دونوں ممالک کے ایک ہونے یا کم از کم دونوں کے درمیان خوشگوار روابط قائم ہونا ممکن ہے۔
بلکل ممکن ہے بس اسلام آباد کو بنگلہ دیش کے عوام سے معذرت کرنی ہوگی ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ کہیں کہ ڈھاکا کو بھی وہاں پاکستان کے حامیوں کے قتل پر معافی مانگنا چاہیئے۔ اگر ڈھاکا اور اسلام آباد ایک دوسرے کی کی گئی زیادتیوں پر معذرت کر لیں تو اس جیسی بات ہی کوئی نہیں۔
فیس بک کمینٹ

