نبوت کی ابتدا تھی. مشکل بلکہ بہت مشکل وقت تھا. اہل قریش جو خود کو بلند مرتبت, اعلی, با وقار, جدی پشتی نسلی سمجھتے تھے. ہر عہدہ, ہر تعظیم, ہر تکریم کے حقدار خود کو مانتے تھے. ان کے لئے تو غیر متوقع بھی تھا اور ماننا کٹھن. توریت, زبور, انجیل سب کی تعلیمات فراموش ہوچکی تھیں جو یہ نشاندہی کرتی تھیں کہ ایک نبی آئے گا جو بر حق ہو گا, آخری ہو گا, خاتم النبیین ہو گا, پیارا ہو گا, محبوب خدا ہو گا. پھر وہ وقت آ گیا لیکن قریش منکر ہو گئے. جھٹلانے لگے, مشتعل ہوئے. خود ہی جس کو صادق اور امین کہتے تھے. اس کو تسلیم کرنے سے منکر ہو گئے. حالات محمد صلی اللہ علیہ و سلم , ان کے اہل خانہ اور پیرو کاروں کے لئے تنگ ہوتے گئے. معاشی, سماجی اور اخلاقی قطع تعلق ہوا اور اتنا بڑھا کہ اللہ کے حبیب محمد صلی اللہ علیہ و سلم کو خاندان سمیت شعب ابی طالب کی تنگ گھاٹی میں تین سال تک محصور ہونا پڑا. یہ قید تکلیف دہ تھی, اعصاب شکن تھی, جسم اور روح کو گھائل کرنے والی تھی.
اللہ کی راہ اور محبت میں سب برداشت کر رہے تھے. دعائیں کرتے تھے کہ مولا! جو تیرا حکم لیکن آسانی ہو. کہ اس دوران حضرت خدیجہ اور حضرت ابو طالب کی وفات ہوگئی. قید میں دو عزیز ہستیاں ساتھ چھوڑ گئیں تو نبی اللہ جذباتی طور پر نڈھال ہوگئے. نبوت کی کٹھنائیوں میں جن دو نے سب سے پہلے ساتھ دیا, جسمانی, روحانی اور ایمانی مرہم فراہم کیا, وہ جدا ہو گئے. بیوی غمگسار بھی تھی اور سمجھدار بھی. چچا نے والد کی جگہ پالا اور تربیت کی. تو بہرحال بے حد غم میں تھے. محصور ہونے کی تکلیف اور اپنے پیاروں کی دائمی جدائی. محمد صلی اللہ علیہ و سلم ٹوٹ پھوٹ گئے اور اس سال کو "عام الحزن” قرار دیا یعنی غم کا سال.
2019 کی ابتداء ہو رہی تھی. 2018 کا آخری ہفتہ چل رہا تھاکہ ڈاکٹر عباس صاحب کی death ہو گئی. میں ان کے دروازے پر ان سے ملنے کے لئے کھڑی تھی کہ اجل کا فرشتہ ان کو مہمان بنا کر لے گیا. ایک صدمہ تھا, ناقابل یقین کیفیت تھی. اس قدر اچانک اور پھر ماننے نہ ماننے کے درمیان کی کیفیت تھی. بہت کچھ تھا اور سب کا سب تکلیف دہ. ڈاکٹر عباس میرے لئے صرف ایک teacher نہ تھے. بہت سے رشتے جن کا کوئی نام نہیں لیکن جو سب عزت اور محبت سے شروع ہو کے وہیں پہ ختم ہوتے ہیں. وہ میرے اور میرے شوہر کے mentor تھے. ہمیں انگلی پکڑ کے چلانے والے تھے. ہر اچھے برے وقت میں مشورہ دینے والے, on track رکھنے والے, حلال راستوں سے کمانے کا گر بتانے والے. ان کی موت میرے پورے گھر کے لئے جان لیوا تھی بھی اور ہے بھی.
2019 شروع ہوا اور مئی کے دوسرے عشرے میں تائی اماں کی مفارقت کا داغ دے گیا. میں دور تھی اور شوہر اس سے بھی دور آسٹریلیا میں.
بیچ میں گھنٹوں کا نہیں سمندروں کا فاصلہ آگیا تھا, ہم ان تک پہنچ ہی نہیں سکے. ان بےاولاد, دعاؤں کے ذخیرے کو کندھا ہی نہ دے سکے. ان کی موت یوں تھی جیسے ہاتھوں سے ریت پھسل گئی ہو. وہم و گمان سے دور, خیال سے باہر, دنوں کا کھیل. شادی کے بعد جس نے مجھے سب سے پہلے بے لوث, پر خلوص اور بے غرض محبت دی, وہ تائی اماں تھیں. جب جب, جس بھی وقت میں سسرال پہنچی, وہ مجھے ملنے آتیں. میرا کوئی بھی چکر انھیں ملے اور الوداعی سلام کہے بغیر ختم نہ ہوتا. لیکن آخری بار نہ ملنے اور دیکھنے کی کسک میرے حصے میں آگئی.
اب 2019 کا درمیان ہے اور اماں چلی گئیں. ان کا جانا اچانک نہیں لیکن اس لمحے کی آمد بہت چپ چاپ تھی. موت آئی اور انتہائی خاموشی سے, بنا کوئی آواز پیدا کیے, انھیں مجھ سے چرا کر لے گئی. اور میں جو ان کے سرہانے, ان کے بازو پہ اپنا ہاتھ رکھ کے بیٹھی تھی, موت کی چالاکی سے شکست کھا گئی اور اماں اپنے دائمی سفر پہ روانہ ہو گئیں.
میں نبی نہیں لیکن ان کی امتّی ہوں. ان سے ٹوٹی پھوٹی محبت کا دعوا ہے. میری محبت, محمد صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ نکمی اور نا مکمل بھی ہے اور کچی بھی. بہرحال یہ یقین ہے کہ ان پہ ایمان رکھتی ہوں. اور میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی ان کی طرح, 2019 کو ‘عام الحزن’ declare کروں یعنی غم کا سال. ہر بندہ, ہر ملنے والا مجھے پرسہ دے, تعزیت کرے, افسوس کرے, مجھے نہ چھیڑے, غم کو جذب کرنے اور غم منانے دے.
لیکن مجھے معلوم ہے کہ میری عام الحزن کی تشبیہ بھی ناقص اور اس کو سمجھنے والے بھی. جو لوگ نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو ستاتے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچاتے رہے وہاں بھلا! ایک ادنیٰ بندی کی کیا اوقات؟
اس سب کے باوجود, پھر بھی میرا دل کرلاتا ہے کہ 2019 غم کا سال قرار دیا جاتا یعنی عام الحزن.
فیس بک کمینٹ

