موت ایک بہت بڑا معمہ ہے جس کے بارے میں قبل از وقت جاننا انسان کی شدید ترین خواہش رہی ہے۔۔تاکہ اس کا سدباب کیا جاسکے یا اس کی مدت میں ہی توسیع کی جا سکے۔۔
گوکہ دونوں کام نا قابل رسائی ہیں پھر بھی حال ہی میں ایسی ایک ریسرچ نظروں سے گزری جس نے چونکنے پر مجبور کردیا
”جرمنی کے سائنسدانوں نے خون کا ایسا ٹیسٹ دریافت کیا ہے جس کے مطابق اگر اگلے دس سال کے اندر آپ کی موت واقع ہونی ہے تو یہ ٹیسٹ کافی حد تک درست پیشن گوئی کر دے گا۔۔“
انہوں نے چالیس سے پینتالیس ہزار لوگوں پر اس ٹیسٹ کا مشاہدہ کیا۔حاصل کیے گئے نتائج 83فی صد تک درست ثابت ہوئے۔یہ ٹیسٹ خون میں شامل عناصر مثلاً گلوکوز ، چکنائی، چربی اور دیگر چند عوامل کی مقدار سے پیش گوئی کر دیتا ہے کہ اگلے پانچ سے دس سال میں کب موت واقع ہوسکتی ہے ۔
گوکہ اس ٹیسٹ پر ابھی مزید کام جاری ہے لیکن جن لوگوں پر تجربہ کیا ان کی شرح کافی حیران کن رہی۔۔خیر دیکھتے ہیں کہ یہ ٹیسٹ آگے جا کے کس قدر مفید ثابت ہوگا ۔۔
ویسے یہ ہم پاکستانیوں کے لیے شاید زیادہ کام کا نہ ثابت ہو ۔۔کیونکہ ٹیسٹ میں طبعی موت کی پیش گوئی کی جاتی ہے۔۔جبکہ ہم غیر طبعی موت میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں لا پروا قوم ہیں نہ صحت کا خیال رکھتے ہیں نہ اپنی حفاظت کا سو ہمیں تو چاہیئے حادثاتی موت کا ٹیسٹ اور اس معاملے میں یقیناً یہ ٹیسٹ کوئی مدد نہ کر پائے گا۔
بلکہ یہ بھی ہو سکتا ہے ان کی ہر پیش گوئی ہم ناکارہ کردیں۔مثال کے طور پر ایک بیس سال کے بندے کا ٹیسٹ کرکے یہ بتایا جائے گا کہ تم۔بالکل ٹھیک ہو اگلے دس سال تمہاری موت کے چانسز بالکل نہیں۔۔اب ٹیسٹ قطعاً نہیں جانتا کہ یہ بندہ اگلے دس سال میں بسیار خوری کے باعث موٹاپے کا شکار ہو کر سو بیماریاں لگوا بیٹھے گا ۔۔۔اور مزید پانچ سال کے بعد ختم ۔۔اور اگر ختم نہ بھی ہوا تو دوائیوں پر زندہ رہنا بھی کوئی زندگی ہے؟
ٹیسٹ ایک فسادی یا خودکش حملہ آورکو بتائے گا تم بھی ٹھیک ہو نہیں مروگے۔۔لیکن یہ خود بھی مرے گا اور ساتھ میں کئی اور بھی ساتھ میں مارے گا۔۔یہاں بھی ٹیسٹ نہیں جان پائے گا کہ نہ صرف اس کی اپنی زندگی ختم ہے بلکہ باقی بھی کئی اس کے ہاتھوں مریں گے۔۔
۔کرنٹ کھا کہ مرے گا یا زہر کھا کے ؟؟، ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے گا یا پولیس کا؟ ، دوست کے ہاتھوں مرے گا یا دشمن کے؟ ۔۔تیز ڈرائیونگ سے مرے گا یا کھائی میں جا گرے گا۔؟۔زلزلہ سونامی بجلی گرنے یا طوفان سے مرے گا؟؟ جنگ میں مرے گا یا امن میں بھوک سے مرے گا۔؟۔کیا یہ ٹیسٹ اتنی کامیابی حاصل کر پائے گا؟؟
اگر بتانا ہی ہے تو اس بارے میں بتائیں۔۔کیونکہ اس دور میں طبعی موت بہت کم لوگوں کو نصیب ہو رہی ہے۔۔
اس سے ملتا جلتا ایک اور تجربہ بھی کیا گیا ۔۔ایک برطانوی ادارے کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے ایسا کیلکولیٹر ایجاد کیا ہے جو کہ آن لائن سوالات کے ذریعے آپ کو بتائے گا کہ آپ کب تک مر جائیں گے۔( اگر نہیں مرے تو یہ کیلکولیٹر کا مسئلہ نہیں اصولاً تو مر جاؤ)
”دی لینسٹ “نامی طبی جریدے میں یہ خبر شائع ہوئی۔۔اس تحقیق میں بتاتے ہیں کہ کسی بھی قسم کے ٹیسٹ کے بغیر یہ ایک آن لائن سوالات پر مشتمل کیلکولیٹر ہے۔۔یہ چند سوال کرے گا ۔۔جن میں آپ کی گاڑیوں کی تعداد پوچھی جاے گی جس سے کیلکولیٹر آپ کی دولت کا اندازہ لگائے گا۔۔
۔۔خوراک کے ٹائم ٹیبل سے لے کر ورزش جاب وغیرہ پر مبنی سوالات ہونگے اور اس کے بعد یہ بتائےگا کہ اگلے پانچ سال میں آپ کے مرنے کے کتنے امکانات ہیں۔۔بہرحال محقق نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر کیلکولیٹر کو غلط اعدادو شمار دیے گئے تو ظاہری بات ہے نتیجہ غلط بھی ہوسکتا ہے۔۔
یہ ٹیسٹ بھی ہم پاکستانیوں کے حق میں زیادہ بہتر شاید نہ ثابت ہو۔۔کیونکہ ان سوالوں کے جواب شاید ہی کوئی پاکستانی ایمانداری سے دے پائے۔۔جونہی یہ کیلکولیٹر دولت پوچھے گا ۔۔ہمیں موت پڑ جائے گی ۔۔کہ اگر یہ اعدادو شمار نیب نے حاصل کر لیے تو پھنس بھی جائیں گے۔۔
۔۔تو ہم جواب دیں گےگاڑی تو ہے لیکن دادا نانا یا دوست نے گفٹ کی ہے ۔۔اب اس کا کیا جواب دینا ہوگا یہ سوچ کر انگریزوں کو کیلکولیٹر میں ڈالنا پڑے گا۔
۔ہماری کھانے پینے کی جو بے تکی روٹین ہے کہ صرف گوجرانوالہ کے گجروں کی ہی روٹین لکھ کر دے دی تو کیلکولیٹر کا جواب آئے گا
” تم زندہ کیسے ہو اب تک؟؟؟“
لہذا سن لو۔۔۔۔۔ ہمیں کوئی خصوصی فائدہ نہیں ان دریافتوں کا۔۔
فیس بک کمینٹ

