ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

جاسوسوں کے یارانے: جدوجہد / ڈاکٹرلال خان

برصغیر کی دو خفیہ ایجنسیوں کے دو سابق سربراہوں‘ جنرل اسد درانی اور امرجیت سنگھ دلت کی ”گپ شپ‘‘ اور انٹرویوز پر مبنی اور ادتیا سنہا کے اقتباسات پر مبنی کتاب ”را، آئی ایس آئی اور امن کی خوش فہمی‘‘ پر میڈیا اور سیاسی حلقوں میں بہت واویلا مچا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ شور مچانے والوں نے یہ کتاب پڑھی ہی نہیں ہو گی۔ میرے خیال میں اس کتاب میں کوئی ایسی غیر معمولی بات نہیں‘ جو اس سے پیشتر لکھی گئی کتابوں میں بیان نہ کی گئی ہو۔ اس کتاب میں کوئی ایسا اعتراف بھی نہیں ہے کہ جس سے کوئی بڑا ریاستی راز افشا ہوا ہو۔ کچھ اہم واقعات کے بارے میں کسی حد تک قیاس آرائیاں، امکانات اور ممکنہ طور پر رائے کے اظہار ہیں۔ دونوں ممالک کی کلیدی جاسوسی ایجنسیوں کے منجھے ہوئے یہ سربراہ اتنے سادہ بھی نہیں کہ اپنی سماجی اور مادی بنیادوں پر استوار ریاستوں کے بارے میں ایسی بات کریں‘ جن کی بنیاد پر کوئی سنجیدہ مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہو یا کسی کو ”جنگی مجرم‘‘ قرار دیا جا سکتا ہو۔ بہرحال ہر گپ شپ کی طرح اس ”گپ شپ‘‘ میں بھی ایسے موضوعات کو چھیڑا گیا ہے جو اس خطے کے عام لوگوں کے لئے ابھی تک سسپنس کا باعث بنے ہوئے ہیں۔ جنرل درانی لکھتے ہیں کہ ”اس کتاب میں ایسے حقائق درج ہیں جن کو اگر کسی ناول یا افسانے کی کتاب میں لکھا جاتا تو بھی تسلیم نہیں کیے جانے تھے‘‘۔ لیکن دونوں سابقہ سربراہوں نے اپنے جن باہمی تعلقات، محبت اور یارانے کے جذبات کو اجاگرکیا ہے وہ شاید کچھ لوگوں کیلئے باعث حیرت ہوں لیکن سفارت کاری اور خفیہ ایجنسیوں یا مسلح افواج کے ایشوز پر تھوڑی بہت جانکاری رکھنے والے بھی یہ جانتے ہیں کہ پیشہ ورانہ دشمنی کے اداروں میں کام کرنے والے افراد خصوصاً اعلیٰ عہدوں پر فائز ہو کر بھی ذاتی تعلقات ختم نہیں کرتے اور بیشتر کے درمیان واقعی ذاتی یارانے نسلوں تک چلتے ہیں۔ لیکن اس کتاب کے مصنفین (اگر ان کو یہ کہا جا سکتا ہے تو) نے جو پیام دیا ہے وہ امن کی ضرورت کا ہے۔ اس ضرورت کے پیش نظر وہ اُس عبرت ناک انجام کی بھیانک شکل پیش کر رہے ہیں جو دو جوہری ہتھیاروں سے لیس ریاستوں کے درمیان جنگ یا بڑے تصادم کی صورت میں سامنے آ سکتی ہے۔ دلچسپ موضوعات پر مبنی اس ”گپ شپ‘‘ تحریر میں اسامہ بن لادن کی امریکیوں کے ہاتھوں گرفتاری اور ہلاکت کے واقعہ پر جو کتاب میں درج ہے وہ کچھ اور ہے اور جو پروپیگنڈا کیا گیا ہے‘ وہ اس سے مختلف ہے۔ جنرل درانی نے یہ کہیں نہیں کہا یا لکھا کہ اسامہ کی گرفتاری اور مخبری کے لئے حاصل کردہ 50 ملین ڈالر اور جنرل کیانی اور آئی ایس آئی کے کسی دوسرے افسر کا یہ رقم حاصل کرنے اور امریکہ فرار ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت ہے‘ یا اس کو یقین ہے بلکہ جنرل درانی نے جو خدشہ ظاہر کیا ہے وہ بالکل بھی نیا نہیں ہے۔ جنرل مشرف اور جنرل شاہد عزیز اپنی کتابوں میں اس کا بالواسطہ ذکر کر چکے ہیں‘ لیکن سینہ گزٹ میں اس واقعے پر بے پناہ قیاس آرائیاں چلتی رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر موجود بڑے بڑے فنکار بھی رائی کا پہاڑ بنانے میں مہارت رکھتے ہیں‘ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اسامہ والے کمیشن کی رپورٹ نہ تو آج تک سامنے آئی ہے‘ اور نہ ہی کوئی سرکاری وضاحت پیش کی گئی ہے۔ ایسے میں اسامہ جیسے واقعات پر پھر قیاس آرائیاں اور چہ میگوئیاں بھلا کیسے نہیں بھڑکیں گی! جس ملک میں سقوطِ ڈھاکہ اور درجنوں ایسے بڑے واقعات رونما ہوئے ہوں اور ان پر کوئی جامع وضاحت اور ٹھوس موقف سامنے نہ آیا ہو تو پھر ایسے معاشروں میں ‘کانسپیریسی تھیوریاں‘ اور محلاتی سازشوں کا زور ہوتا ہے‘ جو پھر محلات اور عالی شان ڈرائنگ روموں سے نکل کر نیچے تک سرایت کر جاتی ہیں۔ کسی چھپائی گئی بات کی سنگینی اور پھیلنے والی سنسنی کہیں زیادہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہوتی ہے۔ اب تو ہر سیاسی اور خارجی معاملے پر یہ عام تصور کیا جاتا ہے کہ اس میں ”ایجنسیاں‘‘ ملوث ہیں‘ حالانکہ ”ایجنسیاں‘‘ اتنی بھی فارغ نہیں ہیں کہ ہر معاملے میں مداخلت کریں۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ جب کوئی معاشرہ سماجی اور اقتصادی بحرانوں کی شدت کا شکار ہو جاتا ہے تو ایسے میں عدلیہ اور ایجنسیوں جیسے ریاستی ادارے غیر معمولی حرکیات اور کردار ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان جاسوسی ایجنسیوں کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا طبقاتی معاشرہ قدیم ہے۔ یہاں تک کہ ہومر کی قدیم یونانی دیومالائی کہانی ”الیاد‘‘ میں بھی ان قدیم توہماتی ریاستوں کی ایجنسیوں کے تنازعات اور ڈائو میڈیس (Dimoedes) اور اوڈیسس (Odysseus) کے ہاتھوں ڈولون (Dolon) کا ان ”خفیہ‘‘ وارداتوں میں سر قلم ہونے کا واقعہ اس تصوراتی داستان میں درج ہے۔
جب سے جدید قومی ریاست معرض وجود میں آئی ہے‘ اس کو داخلی طور پر مزدور طبقات سے ایک طبقاتی کشمکش اور خارجی طور پر دوسری قومی ریاستوں سے تنازعات اور جنگی تصادموں کا سامنا رہا ہے۔ جہاں ان ریاستوں کو ان تضادات کی لڑائی میں عسکری قوتوں کی تشکیل و تعمیر کی ضرورت محسوس ہوئی تھی وہاں ان جنگوں کے زیادہ پیچیدہ ہونے کی صورت میں جاسوس ایجنسیوں کا کردار زیادہ سے زیادہ کلیدی ہوتا گیا۔ آج کے بحرانی دور میں یہ ایجنسیاں کہیں زیادہ اہمیت‘ وسعت اور طاقت اختیار کر گئی ہیں۔ امریکہ میں سی آئی اے تو شاید کسی حد تک متروک ہوتی جا رہی ہے۔ اب وہاں ڈی آئی اے، این ایس سی اور ایف بی آئی کا کردار بہت بڑھ گیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی سے اب ان ایجنسیوں کو ہر فرد کی نجی زندگی کے ہر راز تک رسائی حاصل ہے۔ برطانیہ میں ایم آئی 5 اور 6 کے علاوہ کئی نئیایجنسیاں خفیہ اور حساس رازوں کی پہلے کبھی نہ حاصل کردہ نہج تک پہنچ چکی ہیں۔ ریاستی ایجنسیوں کی نہ صرف خارجی جاسوسی بلکہ داخلی حاکمیت کی طوالت اور تسلط کے لئے پروپیگنڈے کی کارروائیوں میں بھی شدت آ گئی ہے۔ ہٹلر کی ٹارچر کے لئے بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ”گسٹاپو‘‘ کے سربراہ گوئبلز کا مشہور قول تھا” کہ اتنا جھوٹ اتنی بار بولو کہ لوگوں کو سچ لگنا شروع ہو جائے‘‘۔ اب زمانہ مزید ترقی کر گیا ہے عوام کا شعور بڑھ گیا ہے۔ وہ کسی پروپیگنڈے کے دہرائے جانے یا کسی شخصیت کو نشانہ بنانے کو جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا اور شخص کو مظلوم و معصوم سمجھتے ہیں! اسی حوالے سے خفیہ اداروں کی سائنس میں ریسرچ بڑھتی جا رہی ہے لیکن ان کے لیے سب سے بڑا مسئلہ عوام کے شعور کی سطح کا بلند ہوتے جانا ہے۔ انقلابِ روس کے بعد ”انارکسٹوں‘‘ کے برعکس لینن اور ٹراٹسکی کا مارکسی موقف تھا کہ ایک اقلیتی طبقے کی حاکمیت کے خاتمے کے بعد ایک انقلابی ریاست کا قیام اس وقت تک ضروری ہو گا‘ جب تک پیداوار اور اشیائے ضرورت کی اتنی بہتات ہو جائے کہ معاشرے سے محرومی اور مانگ کا خاتمہ ہو جائے۔ تب ہی انسان اور انسان کے درمیان تضادات کا خاتمہ ہو سکتا ہے اور ریاست رفتہ رفتہ ایک تسلسل کے ساتھ بکھر جائے گی۔ پھر نہ جنگوں، نہ داخلی جبر اور نہ ہی خیفہ ایجنسیوں کی ضرورت رہے گی۔ لیکن جب جرمنی اور دوسرے ممالک میں انقلاب ناکام ہوئے اور سوویت یونین تنہا رہ گیا تو روس میں بھی ایک دور میں ریاست کا جبر شدت اختیار کر گیا تھا اور کے جی بی جیسے اداروں کا تسلط اور ظلم بڑھا۔ لیکن تاریخ کے ایک عہد کی پسپائی، انسانیت کے مستقبل کی آزادی، ریاستی جبر سے نجات اور سوشلزم اور کمیونزم کی حتمی مقصد اور منزل کا سفر ختم نہیں ہوا۔ برصغیر میں بھی بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ بھارت میں ”را‘‘ کا کوئی سیاسی اور حکومتی پالیسیوں پر اختیار نہیں ہے۔ وہاں بھی ریاستی جاسوسی ایجنسیاں بہت زیادہ اثر انداز ہوتی ہیں لیکن زیادہ پوشیدہ رہ کر۔ اب تو ایجنسیوں کے بارے میں فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ جہاں سلمان خان نے را اور آئی ایس آئی کے مشترکہ مشنوں پر فلمیں بنائی ہیں وہاں”را‘‘ نے فلم ”راضی‘‘ بھی بنوائی ہے۔ یہاں کے ممالک میں یہ معاملہ پرانا ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ جب تک طبقاتی جبر و استحصال کا معاشرے رہے گا‘ اس حاکمیت کے لئے ریاستی ایجنسیاں متحرک رہیں گی۔ اس طبقاتی جبر و استحصال کے خاتمے کے بغیر حاکمیت کے اداروں کے جبر کے خاتمے کا پرچار کرنا محض فریب ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker