2018 انتخاباتڈاکٹر لال خانکالملکھاری

انتخابات 2018ء:حاوی پارٹیوں کا مشترکہ منشور: جدوجہد / ڈاکٹر لال خان

حالیہ انتخابی مہمات میں معاشی پروگرام اورعوام کو گھائل کرنے والے اصل سلگتے مسائل کا ذکر بہت ہی کم سننے کو ملا ہے۔ ساری مہم نان ایشوز اور نورا کشتیوں پر مبنی رہی ۔ سماج کو لاحق اصل مسائل کا نہ تو ان پارٹیوں کے پاس کوئی حل ہے اور نہ ہی اس ملک کے بالا دست طبقات کے ان لیڈروں اور سیاستدانوں کا ان ذلتوں سے کوئی لینا دینا ہے۔ یہ کسی اور ہی سیارے کی مخلوق لگتے ہیں‘ جو صرف الیکشن مہم میں قلابازوں کی طرح جلسے جلوسوں میں آتے ہیں اور جلد سے جلد واپس اپنی پر آسائش اور پرتعیش آماجگاہوں اور محلات کا رخ کرلیتے ہیں۔ یہاں کے عام انسانوں سے گلے نہ ملنے کو ظاہری طور پر سکیورٹی کی وجوہات بتائی جاتی ہیں‘ لیکن درحقیقت وہ ان کے اس پسینے کی بدبو سے گھبراتے ہیں‘ جس کو بہا کر یہ مزدور طبقہ اس سماج کو اپنی محنت سے رواں رکھے ہوئے ہے۔ان تمام پارٹیوں نے اس انتخابات میں اپنے اپنے منشور بھی دیئے ہیں‘جن میں ایسے وعدے کیے گئے ہیں‘ جن کو نبھانے کی ان میں صلاحیت اور جرأت نہیں ہے اور عوام اب اتنے باشعور ہوچکے ہیں کہ ان کو لیڈروں اور پارٹیوں اور ان کے وعدوں پر کوئی اعتبار نہیں ہے‘لیکن یہ بھی ایک ٹھوس حقیقت ہے کہ اگر ان پارٹیوں کی طرف سے سوشلسٹ انقلاب کا منشور بھی دے دیا جاتا تو پھر بھی محنت کش عوام نے ان کو سنجیدہ نہیں لینا تھا۔ان کی حرکات وسکنات اتنی بے ہودہ اور فرسودہ ہیں کہ عوام میں ان کی عزت ومرتبت بنانے میں اعلیٰ سے اعلیٰ منشور بھی ناکام ہو جائے۔یہ اس ملک کے عوام کی نظروں سے اتنے گر چکے ہیں کہ عوام نے ان پر اور ان کی سیاست پر اعتماد کرنا ہی چھوڑ دیا ہے۔جہاں حکمرانوں نے پیسے کی اس سیاست میں عوام کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی‘ وہاں عام لوگ بھی اس سیاست سے دھوکے کھاکھا کر اب اس کو تھوک چکے ہیں۔بڑے بڑے سرمایہ دارانہ معیشت دانوں اور دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیوں کے ماہرین اقتصادیات کو کرائے پر لے کر منشور لکھوائے گئے‘ لیکن جو نظام تاریخی طور پر متروک ہو کر خود ڈوب رہا ہو‘ اس کے ماہرین اس عوام دشمن نظام سے بھلا غربت‘ ذلت‘ محرومی اور بربادیوں سے معاشرے کو کیسے نکال سکتے ہیں؟کارپوریٹ اور اشتہاری ایجنسیوں پر بہرحال ان تمام پارٹیوں نے منشوروں سے کہیں زیادہ رقوم خرچ کی ہیں۔اس لئے دولت کے ایندھن سے چلنے والے کارپوریٹ میڈیا اور معاشرے پر حاوی کرائے کے اخلاقی وسماجی عمائدین وٹھیکیداروں نے مسلم لیگ نواز‘ تحریکِ انصاف ‘ پیپلز پارٹی‘ متحدہ مجلس عمل اور دوسری مذہبی وقوم پرست پارٹیوں کو ہی بڑی اور اصل سیاسی قوتیں بنا کر پیش کیا ہے۔مصنوعی طور پر اپنے شائع کردہ منشوروں میں‘ جہاں کچھ فرق ڈالنے کی واردات کی گئی ہے‘ وہاںقریباً تمام بنیادی مسائل اور درپیش چیلنجوں کے لئے ان سب کا ایک مشترکہ منشور آسانی سے بنایا جاسکتا ہے۔اس منشور میں جو اتفاق ہے‘ وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ان پارٹیوں میں سے جو بھی برسراقتدار آئے گی‘ پہلے تو قرضوں کی قسطوں کی ادائیگیوں اور معیشت کو سدھارنے کے لئے وہ آئی ایم ایف ‘ ورلڈ بینک ‘ ایشیائی ترقیاتی بینک اور دوسرے سامراجی مالیاتی اداروں کے پاس ایک نیا اور زیادہ بڑی کشکول لے کر جائیگی۔حکومت ایک پارٹی کی بنے یا مخلوط شکل میں استوار کی جائے‘ اس کو پہلے سے کہیں زیادہ کرخت اور عوام کا مزید خون نچوڑنے والے سامراجی نسخوں کو تسلیم اور لاگو کرنا پڑے گا۔سامراجی ممالک اور اجارہ داریوں کو مزید چھوٹ‘ ٹیکسوں میں کمی‘ منافعوں کی واپس ترسیل‘مستقل ملازمتوں کی جگہ ٹھیکیداری نظام اور پہلے سے زیادہ سود کی شرح جیسی شرائط تسلیم کرنی پڑیں گی۔
ان تمام پارٹیوں کے پاس معاشی ترقی اور شرح نمو میں اضافے کا ایک ہی نسخہ ہے‘ براہِ راست بیرونی سرمایہ کاری (FDI)۔سبھی ڈالروں اور شاید یوہان کی بارشوں کی صورت میں بھاری سرمایہ کاری کی نوید سنا رہے ہیں‘لیکن ماضی میں اگر پاکستان میں ایک ڈالر کی بیرونی سرمایہ کاری ہوتی تھی‘ تو 14 ڈالر کھینچ کر واپس لے جاتی تھی۔اب یہ 20ڈالر سے بھی تجاوز کرسکتی ہے‘لیکن المیہ یہ ہے کہ سرمایہ داری کے عالمی بحران کی وجہ سے جہاں دنیا بھر میں سرمایہ داراور اجارہ داریاں سرمایہ کاری سے اجتناب کررہے ہیں ‘وہ اگر پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے بھی‘ تو کہیں زیادہ شرح اورتیز رفتارمنافع خوری کو یقینی بنائیں گے‘ یعنی جو بھی حکومت آئے گی‘ اس کے پاس ان کی شرائط کو تسلیم کرنے کے علاوہ کوئی چارہ کار نہیں ہوگا۔
بیرونی اور قومی سرمایہ داروں کی سرمایہ کاری کا حدف پہلے وہ شعبے بنیں گے‘ جہاں سے فوری اور ناگزیر منافعے حاصل ہوسکتے ہیں۔ان میں سر فہرست علاج‘ تعلیم‘ پانی‘ نکاس ‘بجلی اور چند دوسرے اشتراکی ضرورتوں کے شعبے ہیں‘ جن کے بغیر زندگی گزارنا ممکن ہی نہیں ہے۔ایسے میں مجبوروں اور بے کسوں کی ذلتوں کی انتہا ہوجانی ہے‘ لیکن منافع خوری کو انسانی جذبات اور احساسات سے کوئی غرض نہیں ہوا کرتی۔
ان پارٹیوں نے ہلکا ہلکا تعلیم اور علاج کے فراہمی کا ذکر تو ضرور کیا ہے‘لیکن اگر تعلیم اور علاج کی فراہمی کو عام انسانوںاورپسماندہ ترین خطوں تک بہم پہنچانا مطلوب ہے تو پھر اکثریت تو معیاری علاج اور تعلیم کی قیمت ادا کرنے سے قاصرہے۔اور اگر نجی شعبے کے ذریعے ہی یہ کرنے کا ارادہ ہے تو پھر محرومی مزیدبڑھے گی‘کیونکہ پٹرول اور دوسری اشیا ء کی قیمتوں میں آنے والا ہوشربا اضافہ علاج اور تعلیم کو اور بھی زیادہ مہنگا اور آبادی کی اکثریت کو اس کی دسترس محروم کردے گا۔ جدید سرمایہ دارانہ ریاست اور ترقی یافتہ ممالک میں بہت طویل عرصے تک تعلیم علاج اور دوسری بیشتر اجتماعی ضروریات کی پیداوار اور سروسز کی فراہمی براہِ راست ریاستی ملکیت اور اختیار میں رکھ کر ترقی کی گئی تھی۔
لیکن یہاں کسی پارٹی نے اپنے منشور میں لکھنے اور کسی بھی لیڈر نے اپنی کسی بھی تقریر میں بھی یہ ذکر تک نہیں کیا کہ نجی شعبے میں علاج اور تعلیم کو ریاستی ملکیت میں لے لیا جائے گا‘جبکہ یہ اقدام اٹھائے بغیر تعلیم اور علاج کی فراہمی کے وعدے عوام سے ایک بے ہودہ مذاق ہیں۔پاکستان کا انتہائی بدعنوان اور ہیرا پھیری کرنے والے حکمران طبقے کے مختلف دھڑوں پر مبنی یہ پارٹیاں اصل میں انہی فنانسروں کے مذموں مقاصد کے لئے اقتدار حاصل کرنا چاہتی ہیں۔
جو طبقہ ٹیکس اور بجلی وگیس کو چوری‘ بینکوں کے قرضوں کو معاف کروانے‘ خزانے کو لوٹنے اور بدعنوانی کے بغیر اپنا سماجی اور سیاسی وجود تک کو قائم نہ رکھ سکتا ہو‘ وہ طبقہ ریاست کے محافظوں کا مرہون ِمنت رہتا ہے۔ان کے اسی کردار کی وجہ سے ریاستی اشرافیہ سیاست اور دوسرے شعبوں میں اتنی مداخلت کرنے کے قابل ہوئی ہے‘جو حکومت اسی ریاست کے ڈھانچوں میں فٹ ہو کر چلتی ہے‘ اس کا ریاست کے ان داتائوں سے ٹکراؤ ایسا ہے‘ جیسے دریا میں رہتے ہوئے مگر مچھ سے بیربنا لینا۔اس لیے سوائے نواز لیگ ( مریم فیکشن) کے تمام بڑی پارٹیاں اپنی تابعداری کی اسناد لیے قطار میں کھڑی ہیں۔
اگر غور کیا جائے‘ تو ان انتخابات سے عام لوگوں کی کوئی بہتری نہیں ہو پائے گی۔ہر پارٹی چونکہ بالادست طبقات نمائندگی کرتی ہے ‘اس لئے اسی کے سیاسی دھڑے کو بالائی طاقتوں کے آشیر باد سے ہی اقتدار حاصل ہوگا۔سبھی پارٹیاں سرمایہ داری پر یقین رکھتی ہیں‘ جبکہ اس نظام زر کے ماہرین بھی اس نظام کا جو بھیانک مستقبل پیش کررہے ہیں۔ اس میں مزید عدم استحکام اور بربادی ہی نظر آرہی ہے۔اس نظام میں سرمایہ دارانہ جمہوریت کی حقیقی شکل کی گنجائش ہی باقی نہیں رہی ۔ایسے میں جو آج ہاتھ سے ووٹ ڈال رہے ہیں‘ ان کو جلد ہی لینن کے الفاظ میںپائوں سے ووٹ ڈالنا پڑے گا‘کیونکہ محنت کشوں کی ایک انقلابی تحریک ہی اس نظام کو بدل کریہاں سے منافع خوری کو ختم کرکے انسانی فلاح کا معاشی‘ سماجی اور سیاسی نظام رائج کرسکتی ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker