ڈاکٹر لال خانکالملکھاری

فرد اور تبدیلی:جدو جہد/ڈاکٹر لال خان

نئے پاکستان والی حکومت کے وعدوں میں ٹیکس سے حاصل کردہ رقم کو ایک سال میں 3.42 کھرب روپے سے 8 کھرب روپے یعنی دوگنے سے بھی زیادہ کرنے کا اعادہ کیا گیا تھا۔ اس ہدف کے حصول کے لیے پہلے قدم کے طور پر تمام بڑے سیاست دانوں کے پسندیدہ بیوروکریٹ‘ جہانزیب خان کو ایف بی آر (فیڈرل بیورو آف ریونیو) کا سربراہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ اس قدم کے پیچھے بھی یہی فلسفہ اور سوچ کارفرما ہے کہ اجتماعی سلگتے ہوئے مسائل کو کسی شخصیت کے ہنر، کردار اور صلاحیتوں سے حل کیا جا سکتا ہے۔ جہاں سرمایہ دارانہ نظام کے بحران اور مسائل کو دیگر کئی مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعے حل کرنے کا ڈھکوسلا دیا جاتا ہے‘ وہیں افراد یا شخصیات کو غیر معمولی صلاحیتوں کا حامل ظاہر کر کے ان کی انفرادی کارروائیوں سے مسائل کے حل کے کھلواڑ میں سماجی شعور اور نفسیات کو اس قدر الجھا دیا جاتا ہے کہ نسلیں گزر جاتی ہیں‘ لیکن عمومی سوچ اس سماجی جبر کی زنجیروں کی جکڑ میں کسی فرد کی تلاش میں رہتی ہے اور مسائل زیادہ ہولناک اور بحرانی کیفیت شدت اختیار کرتی چلی جاتی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ بڑے بڑے دانشوروں سے لے کر سیاسی لیڈروں اور سماجی و مذہبی رہنماؤں تک اسی سوچ کا پرچار جاری رہتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ اس نجات دہندہ فرد کی تلاش کوئی رنگ لاتی ہے اور نہ مسائل حل ہوتے ہیں۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ ”تاریخ میں فرد‘‘ کا ایک اہم کردار ہے اور اس کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ سائنس اور سماجی انقلابات میں بہت سی فیصلہ کن کردار کی حامل شخصیات رہی ہیں۔ لیکن ترقی، ایجادات اور انقلابات‘ محض ان افراد کی وجہ سے نہیں ہوئے۔ کارل مارکس لکھتا ہے ”انسان اپنی تاریخ خود بناتے ہیں۔ لیکن وہ جس طرح چاہیں‘ نہیں بنا سکتے۔ وہ اپنے پسندیدہ حالات میں نہیں بنایا کرتے بلکہ ایسے معروض اور حالات میں بناتے ہیں جو پہلے سے موجود ہوتے ہیں، ماضی سے وراثت میں آئے ہوتے ہیں۔ ماضی کی مردہ نسلوں کی روایات ایک بھیانک سپنے کی طرح زندہ انسانوں کے ذہنوں پر ایک بوجھ ہوتی ہیں۔ ایسے میں وہ اپنے آپ کو اور چیزوں کو انقلابی طور پر تبدیل کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں‘ ایسا کچھ بنانے کے لئے جو پہلے سے موجود نہیں ہوتا‘‘۔
لیکن ہمارے جیسے معاشروں میں جس تشویشناک حد تک فرد اور شخصیت کو مبالغہ آرائی سے پیش کیا جاتا ہے‘ اور پھر توقع کی جاتی ہے کہ وہ حالات کو بہتر بنا دے گا‘ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ مسائل کو حل کرنے کی بجائے ان کو بگاڑنے کا باعث بنتا ہے۔ سب سے بنیادی حقیقت اور سچ تو یہی ہے کہ انسان حالات کو استوار نہیں کرتا ، انسانی سوچ سے معروض نہیں بنتے بلکہ حالات اور واقعات انسانی سوچ‘ رویوں اور احساس کو جنم دیتے ہیں۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ حالات کو پرکھنے ، مسائل کو سمجھنے اور وجوہات کی کھوج لگائے بغیر ایک فرد کے گرد ساری تحقیق اور امیدوں کا تانا بانا بُن دیا جاتا ہے۔ لیکن چونکہ انسان ایک معاشرتی مخلوق ہے اس لیے سماجی حالات اور واقعات سے متاثر ہوئے بغیر وہ رہ نہیں سکتا۔ ایسے واقعات میں بعض اوقات کچھ ایسے حوادث ہوتے ہیں جو فرد کی سوچ کے ارتقا اور استواری میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ کہیں وہ منفی رجحانات کی جانب راغب ہو جاتا ہے اور کہیں وہ مثبت اور انقلابی کردار اختیار کر لیتا ہے۔
جب بھی کوئی نظام تاریخی اور موضوعی بحرانوں کا شکار ہوتا ہے تو حکمران طبقات اور ان کے رجعتی حواری تاریخی جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے عوامی توجہ اصل مسائل کی وجوہات سے افراد اور شخصیات کے ذاتی کرداروں کی طرف مبذول کروا کر عمومی سماجی نفسیات کو مائوف اور مفلوج کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر ہم دنیا بھر میں اور خصوصاً پسماندہ ممالک کا جائزہ لیں تو آج فرد کا کردار جس قدر مبالغہ آرائی سے پیش کر کے اسی کو سیاہ و سفید کا مالک بنا دیا جاتا ہے ایسا ماضی قریب کی تاریخ میں نظر نہیں آتا۔ گو ہر دور میں یہ واردات جاری رہی لیکن اس شدید انتشار کے عہد میں یہ سنگین شکل اختیار کر گئی ہے۔ پاکستان میں تو اس نظام کے محض سطحی پہلوؤںکو ہی بنیادی اور حتمی نظام قرار دے دیا گیا ہے۔ یہاں کے سیاسی و ریاستی ڈھانچوں اور آمریتوں و جمہوریتوں کو نظام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک اقتصادی اور سماجی معاشرے میں رہ رہیں، جو کہ بنیادی نظام ہے اور جس کی صحت اور کیفیت ہی سیاست، ریاست، ثقافت، تہذیب اور اقدار کو جنم دیتی ہے۔ سیاسی اور ریاستی بحران دراصل اس بنیادی معاشی و سماجی ڈھانچے کی کیفیت کی غمازی کر رہے ہوتے ہیں۔ چونکہ یہاں پر رائج سماجی اور معاشی نظامِ سرمایہ داری تاریخی اور اقتصادی متروکیت کا شکار ہے‘ اس لئے سارا سماج، سیاست اور ریاست ٹوٹ پھوٹ اور بحران میں مبتلا ہیں۔ یہاں کا حکمران طبقہ اس نظام کو ترقی دینے میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس کی مالیاتی ہوس اس نظام کی بربادی کی ذمہ داری ہے‘ لیکن اسی دولت کی وجہ سے وہ سیاست اور ریاست پر حاوی ہے اور آخری تجزیے میں صرف انہی فیصلوں پر عمل درآمد ہوتا ہے جو اس بالا دست طبقے کے فائدے میں ہوں۔ یہ کیفیت ہر ادارے کی ہے۔ یہ نظام ایک پرانے زخم کی طرح گل سڑ رہا ہے اور اس کو ٹھیک کرنے کی گنجائش ختم ہو چکی ہے۔
یہاں کا حکمران طبقہ اگر ٹیکس ادا کرے گا تو وہ اپنی سماجی اور سیاسی حیثیت ہی برقرار نہیں رکھ سکتا۔ یہ طبقہ ہر سیاسی پارٹی میں حاوی ہے۔ اس وقت پی ٹی آئی میں سب سے زیادہ ارب پتی ممبران پارلیمنٹ ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنا کہ یہ حکومت واقعی کچھ کر پائے گی محض فریب اور خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے۔ باقی حاوی پارٹیاں بھی اسی کالے اور ”قانونی‘‘ دھن والے حکمرانوں کی گرفت میں ہیں۔ ذرائع ابلاغ میں بھی سرمائے کا جبر اتنا ہے کہ کوئی ”غریب کی آواز‘‘ والا چینل یا میڈیا ہاؤس بن نہیں سکتا۔ معاشرے میں ہر شعبے پر دولت کا غلبہ ہے اور دولت کے ان داتاؤں کے مفادات کے برعکس کوئی فکر اور فلسفہ معاشرے میں پھیلانے پر بالواسطہ اور آج کل تو براہِ راست پابندی بڑھتی جا رہی ہے۔ نظام کی تعریف کو ہی ”جمہوریت اور آمریت‘‘ تک محددو کر دیا گیا ہے۔ ایسے میں صرف ایک انقلابی سیاسی تنظیم اور بے پناہ مزاحمتی جدوجہد اور ذاتی غرض اور مفاد سے پاک جرات اور قربانی کے ذریعے ہی اس سرکاری بیانیے کے بر خلاف نظام کو بدلنے کے طریقہ کار اور لائحہ عمل کا پرچار ممکن ہے‘ کیونکہ اس نظام کو بدلنے کے لئے درکار قیادت کسی فرد کے بس کی بات نہیں ہے۔ نیچے سے اوپر تک ایک جمہوری مرکزیت کے ڈھانچے میں سموئی ہزاروں کی قیادت درکار ہے۔ جو اس معاشرے کی شریانوں میں پھیل کر ملک کے کونے کونے میں ہر گلی محلے فیکٹری کھیت کھلیانوں میں حقیقی تبدیلی کے لئے ایک انقلابی قوت تیار کرے جو موجودہ نظام کے ڈھانچوں کی جگہ متبادل نظام اور پروگرام کے تحت غلامی ذلت اور استحصال کی زنجیروں کو توڑ سکے۔ ایف بی آر کا سربراہ بدلنے سے اس کا کردار نہیں بدلے گا۔ ٹیکس تو نوکری پیشہ متوسط طبقے پر لگتے ہیں‘ بڑے سرمایہ داروں کو بے پناہ شقوں میں چھوٹ حاصل ہے۔ ان میں سے جو ٹیکس دیتے ہیں وہی غنیمت ہے۔ باقی تمام بالواسطہ ٹیکس ہوتے ہیں جو غریب عوام کو اشیاء صرف پر ادا کرنے پڑتے ہیں۔ اس نظام میں تو وہ لگتے بھی رہیں گے اور بڑھتے بھی۔ کرپشن کی وجوہات ختم کیے بغیر اس کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اس نظام کی ضرورت اور پیداوار ہے۔ موجودہ حکومت میں فرد پر انحصار انتہاؤں کو پہنچ چکا ہے۔ پی ٹی آئی کی درمیانے طبقے کی ”وسیع‘‘ حمایت اپنے طبقاتی کردار کے مطابق یہ سمجھ رہی ہے کہ عمران ہی وہ نجات دہندہ ہے جس کی تلاش تھی۔ لیکن پھر جس طرح کسی سربراہ کے بدلنے سے کوئی ادارہ نہیں بدلتا اسی طرح چہرے بدلنے سے ملکوں کے نظام نہیں بدلتے۔ نظام بدلنے کے لیے محنت کش طبقے کی سیاست اور انقلابی لائحہ عمل درکار ہوتا ہے۔ کیونکہ دولت اور پیسوں والے کبھی ایسی سیاست کرتے نہیں۔ لیکن سماج پھر بھی بدلتے ہیں، انقلابات بھی آتے ہیں۔ یہاں جو حالات ہیں‘ ان میں انقلاب ایک سلگتی ہوئی ضرورت بن چکا ہے۔ تحریک شاید اب زیادہ دور بھی نہیں ہے۔ لیکن محنت کشوں اور نوجوانوں کی طبقاتی جدوجہد کو جس قیادت کی ضرورت ہے وہ اشتراکی ہے۔ سماجوں اور تاریخ کے دھارے کو بدلنے والے انقلابات کسی فرد کی قیادت میں کبھی برپا نہیں ہو سکتے۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker