آنچلاختصارئےڈاکٹر نجمہ شاہینلکھاری

میری انمول محبت ۔۔ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

میری محبت مُجھ سے بہت بڑی تھی ۔ میں نادان اِسے فنا میں ڈھونڈتی رہی ۔ وہ میرے قد کاٹھ ،میرے حُسن وعلم ، میرے روئیے ،لہجے، سوچ ، فہم و ادراک سب سے معتبر تھی۔ جہاں سے میری سوچ و فکرکا آغاز ہوتا تھا ، جہاں سے میں یہ سوچتی تھی کہ میں سوچ سکتی ہوں وہاں اس کی انتہا ہوتی تھی ۔ بھلا ابتدا کسی انتہاء کو کبھی چھوسکتی ہے۔نہیں چھوسکتی ناں؟توپھر میرا اس کا مقابلہ ہی کیا ۔پھرمیرا یہ سوچنا بھی غلط ہے کہ میں سوچ سکتی ہوں یا سوچ سکتی تھی۔ وہ بقا کے رستے کی بانی اور میں فنا کے رستے پہ بیٹھی مسافرجسے خود خبر نہیں کہ یہ راستہ کتنا طویل یا کتنامختصر ہے۔یااس راستے میں کتنے خار اورکتنے پتھرہیں۔کتنے دشت ہیں،کتنے ویرانے ہیں،لق ودق صحرا ہے یا راستے میں کوئی دریا،کوئی خوش نما وادی،کوئی ندیا،کوئی گلشن بھی موجودہے۔نہیں معلوم ،کچھ بھی نہیں معلوم۔۔ پھر میرا اور اُس کا ساتھ کیسے چلتا ۔پھر ہمارے خواب کیسے سانجھے ہوتے ،کیسے پنپتے ،کیسے ہم اکٹھے مُسکراتے ،کیسے ہم کھلکھلاتے،کیسے ہم ساتھ بیٹھ کرروتے،کیسے ہم تعبیر کی خواہش کرتے اور کیسے ہم ۔۔۔جب فنا اور بقاءکا کوئی مقابلہ ہی نہیں ،کوئی تال میل ہی نہیں تو پھریہ سب سوال بھی بے معنی۔۔ وہ اتنی صاف شفاف کہ قوس وقزح کی جھلملاہٹ بھی اس کے آگے ماند،شیشے کی طرح ا س میں سے آرپاردیکھ لو،ایسی صاف کہ جیسے ایک شفاف جھیل جس پر کوئی کائی نہ ہو ،کوئی پتا نہ ہو اور اس کی تہہ میں موجود پتھربھی صاف نظرآئیں۔سکہ اس میں پھینکیں تو معلوم ہوجائے کہ کہاں جا کر ٹھہرا ہے۔ایسی شفاف ،ایسی صاف کہ جس کی مثال ڈھونڈابھی ممکن نہیں اور میں دُنیاوی ضرورتوں کی کثافتوں سے اٹی ۔ پھر بھلا کیسے یہ ساتھ رہتا ۔ اس نے میرا ہاتھ پکڑا کہ شاید میں ساری ضرورتیں ،ساری حسرتیں ، ساری نفرتیں اورساری کثافتیں چھوڑ کے اس کی ریاضتوں میں ساتھ دوں ۔ کسی سوال کے بغیراور کسی جواب کے بغیر ۔ مگر میں دُنیا دار ، حیلوں حُجتوں کے نام پر اپنی بڑائی ،اپنی محبت ، اپنی سچائی سے جُدا اس سے دُور بھاگتی تھی ۔اور میں اُسے مٹی کے پُتلوں ، اور اپنے جیسے نامعتبر وجودمیں تلاش کرتی تھی ۔ کہیں سنگ ریزوں میں ، کہیں چٹانوں میں،کہیں راہ گزاروں میں اورکہیں گُلزاروں میں۔میں اس کی شبیہ بناتی رہی ۔جب کہ وہ میرے ساتھ ساتھ میری شہ رگ سے بھی قریب تھی ۔ میں بے مروت آنکھوں کی جھیل میں اپنی شبیہ بناتی رہی اور اسے اس کی شبیہ سمجھتی رہی،جبکہ وہ مُجھے ایک انمٹ تصویر دے رہی تھی ۔ وہ تو عشق کی سیڑھی تھی اور میں عقل کی ہزار دلیلوں میں بٹی ہوئی ۔وہ بے باک سچائی اور میں مصلحتوں کی چادراوڑھے اپنی کرچی کرچی روح کو سنبھالے دُنیا کی کٹھنائیوں کو پھلانگتی ۔میں اس کے در پر حاضرکبھی رُکن یمانی کی طرف بھاگتی، کبھی حجرِاسود تک پہنچتی ۔کبھی مطاف کو بے چینی سے دیکھتی ،کبھی زاروقطار حطیم میں کھڑے ہو کر گڑگڑاتی اورکبھی نالہ رحمت کو دیکھتی ۔مگر اب میرے پاس تھا بھی کیا جو میں اُسے تُحفہ دیتی ۔اتنی خالی ہاتھ ،اتنی بے بس ،اتنی میلی اور دُنیا کی گرد سے اتنی اٹی ہوئی کہ میری اپنی پہچان ختم ہوچکی تھی ۔اپنے خالی ہاتھوں کو باربار تکتی ۔اپنی بوجھل آنکھوں کے پپوٹوں میں اُس منظر کو تصور کرتی کہ شاید میرے پاس بھی کچھ پھول ہوں جو میں پیش کروں ۔مگر کچھ نہیں تھا ۔کچھ نہیں تھا میرے پاس ۔اور میری حقیقت میری سچائی ،میری محبت بھی شاید میری بے حسی ،میری بے رُخی سے اُکتا چُکی تھی ،تھک چُکی تھی ۔وہ جو اُس بارگاہ میں پیش کرنے کے لیے سب سے بڑا تُحفہ تھی،آج میرے پاس بہت کمزور ،بہت مُردہ سی تھی ۔پھر میں کیا پیش کرتی وہاں ۔کہنے کو
سو میں زندہ ہوں اپنی بے حسی کے ساتھ ۔۔۔ ایک مُردہ روح کے ساتھ
سانس لینا ہی تو شاہین نہیں ہے جیون
ڈُھونڈ کر لاﺅ مری روح اگر باقی ہے

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker