ادبڈاکٹر نجمہ شاہینشاعریلکھاری

سانحہ پشاور : مگر میں کیسے پرسہ دوں؟ ڈاکٹر نجمہ شاہین کھوسہ

مرے کانوں میں چیخیں ہیں
مرے معصوم بچوں کی
مری آنکھوں کے تاروں کی
کہ جن کے کھیلنے کے دن تھے
لیکن ظالموں نے ان سے کیسا کھیل کھیلاتھا
مرے بچوں سے اس دن موت کھیلی تھی
مری آنکھوں میں منظر ہیں
بہت سفاک منظر ہیں
کہیں بکھری کتابیں ہیں
کہ جن پر موت لکھی ہے
کہیں بستہ ہے کاپی ہے
کہ جن پر خون کے دھبے رُلائیں خون کے آنسو
کسی منظر میں مائیں ، بین کرتی ہیں
کہیں پھولوں کی لاشوں پر
بہت سے پھول رکھے ہیں
مجھے ماؤں کی چیخیں رات بھر سونے نہیں دیتی
کہ میں ان سرد راتوں میں
یہ گھنٹوں سو چتی ہوں بس
میں پرسہ دے سکوں گی کیا
انہیں اب اپنی نظموں سے ؟
میں کیسے ان کے دکھ کو اپنی نظم میں ڈھالوں؟
خدا سے پوچھنا چاہوں
کہ یارب تیری دھرتی پر اگر یہ ظلم ٹوٹا ہے
زمیں کیوں کر سلامت ہے؟ قیامت کیوں نہیں آئی؟
میں شکوہ کرنہیں سکتی ، جواب آئے گا شکوے کا
تمہارا فرض بھی کچھ تھا
اگر تم قوم بن جاتے
تو یہ دن بھی نہیں آتا
مجھے شکوہ نہیں کرنا
مجھے پرسہ تو دینا ہے
مجھے ان سب دکھوں کو اپنی نظموں میں بھی لکھنا ہے
مرے آنسو بھی حاضر ہیں
مری یہ نظم نذرانہ
مگر میں کیسے پر سہ دوں
کہ یا رب میں بھی تو ماں ہوں
سو ماں کا دکھ سمجھتی ہوں
مجھے معلوم ہے ایسے دکھوں کا تیری دنیا میں
مداوا ہو نہیں سکتا
کبھی بھی دل گرفتہ ماں کو پرسہ ہو نہیں سکتا
تڑپتی مامتا کو اب دلاسہ ہو نہیں سکتا

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker