اسلام آباد : ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو وزیر اعظم اور کابینہ سے شکوہ تھا کہ انہوں نے ان کی عیادت بھی نہیں کی تھی ۔ وزیر اعلیٰ سندھ کے نام ایک خط میںڈاکٹر قدیر نے کہا کہ ایسا لگتاہے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میرے مرنے کی اچھی خبر سننے کا انتظار کررہے ہیں۔
ڈاکٹرعبدالقدیرخان مرحوم نے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کو 4 اکتوبر کو آخری خط لکھا۔ خط کے متن کے مطابق ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وزیراعلیٰ سندھ کے بھیجے جانے والے پھولوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ الحمداللہ میری طبیعت اب بہتر ہے۔ڈاکٹرعبدالقدیر کا خط میں کہناتھاکہ مجھے خوشی ہے میرے صوبے کے وزیراعلیٰ نے مجھے یاد رکھا۔ان کا کہنا تھاکہ ایسا لگتاہے وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ بلوچستان، خیبرپختونخوا اور پنجاب میرے مرنے کی اچھی خبر سننے کا انتظار کررہے ہیں۔خط میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا تھاکہ اس مشکل وقت میں وزیراعلیٰ سندھ نے یاد رکھا میں ممنون ہوں۔
تیرہ ستمبر کے ڈان میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ہسپتال میں زیر علاج ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی کابینہ کے کسی رکن کی جانب سے ان کی صحت سے متعلق خیریت دریافت نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ ’مجھے بہت مایوسی ہے کہ وزیراعظم اور نہ ہی ان کی کابینہ کے کسی رکن نے میری صحت کے بارے میں دریافت کیا‘۔
محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ جب پوری قوم ان کے لیے جلد صحتیابی کی دعائیں مانگ رہی تھی تو ایک بھی سرکاری عہدیدار نے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ٹیلی فون تک نہیں کیا تھا۔سرکاری خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق 85 سالہ سائنسدان، کووڈ 19 کے مثبت ٹیسٹ کے بعد 26 اگست کو خان ریسرچ لیبارٹریز ہسپتال میں داخل ہوئے جہاں سے انہیں راولپنڈی کے ملٹری ہسپتال منتقل کیا گیا۔
ٌ ( بشکریہ : ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

