ملتان : ڈاکٹر قراةالعین ہاشمی کی نظموں میں آج کا عہد سانس لیتا ہے ۔ ان کی کتاب جدید اردو نظم میں خوبصورت اضافہ ہے، اور توقع رکھنی چاہیئے کہ آنے والے دنوں میں وہ اردو شاعری میں اس خطے کی توانا آواز کے طور پر سامنے آئیں گی ۔ ان خیالات کا اظہار سخن ور فورم کے زیر اہتمام ملتان ٹی ہاﺅس میں ڈاکٹر قرةالعین ہاشمی کے شعری مجموعے ”من کُن“ کی تعارفی تقریب کے دوران کیا گیا ۔تقریب کی صدارت ڈاکٹر محمد امین نے کی، مہمان خصوصی رضی الدین رضی اور مہمان اعزاز ڈاکٹر فرزانہ کوکب تھیں ۔ نظامت کے فرائض شاکر حسین شاکر نے انجام دئے ۔ اس موقع پر نوازش علی ندیم ، طٰہٰ نقوی ،قیصرعباس صابر، قیصر عمران مگسی ،پروفیسر شفقت عباس ، اظہر خان ، رضوانہ تبسم دُرانی ، گلِ نسرین ، ثقلین حیدراور نبیہہ احمد نے بھی خطاب کیا ۔ مقررین نے کہا کہ ڈاکٹر قرةالعین ہاشمی کی شاعری محبت اورجذبوں کی شاعری ہے ۔ ان کی شاعری میں زندگی اور محبت سانس لیتی محسوس ہوتی ہے ۔ ان کی مختصر نظموں میں بہت سے اچھوتے موضوعات ہیں جو قاری کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں ۔ مقررین نے کہا ڈاکٹر قرة العین ہاشمی کی نظموں کی لفظیات نئی ہیں ۔یہ نظمیں آج کے عہد سے مطابقت رکھتی ہیں اور اسی لئے وہ نئی نسل کی پسندیدہ شاعرہ ہیں ۔ ڈاکٹر قر ۃالعین ہاشمی نے شاعری اور براڈکاسٹنگ میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔ ایک کینسر سپیشلسٹ کی حیثیت سے وہ لوگوں کی مسیحائی بھی کرتی ہیں ، لوگوں کے دکھوں کو قریب سے دیکھتی ہیں اور محسوس بھی کرتی ہیں ۔یہ ایک ماں، بہن ، بیٹی اور وفا شعار بیوی کی شاعری ہے ۔جنوبی پنجاب نسائی شاعری میں ان کی کتاب کو خوبصورت اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر قرة العین ہاشمی نے کہا کہ آج میری زندگی کا خوبصورت دن ہے ۔ میں آج جو کچھ بھی ہوں اپنی والدہ اور جیون ساتھی کی بدولت ہوں کہ میری زندگی میں بس یہ دو ہستیاں ایسی ہیں جنہوں نے ہر قدم پر میرا ساتھ دیا ۔ تقریب میں ادیبوں ،شاعروں، دانشوروں، ماہرین تعلیم سمیت زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ اس موقع پر شاعرہ کو پھول اور تحائف بھی پیش کئے گئے ۔
جمعرات, اپریل 30, 2026
تازہ خبریں:
- ایران و امریکہ میں تعطل: عالمی معیشت کے لیے مشکل گھڑی : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- پی ایس ایل 11: حیدرآباد نے ملتان سلطانز کو ہرا کر فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا
- سینئر صحافی مطیع اللہ جان کی ملازمت ختم : غیر ملکی صحافیوں کے اعزاز میں تقریب کارروائی کا باعث بنی
- عدلیہ کے کفن میں آخری کیل : سید مجاہد علی کا تجزیہ
- فیلڈ مارشل کو ہر دم ملک و قوم کی ترقی کا خیال رہتا ہے : وسعت اللہ خان کا کالم
- قم کے ایک عظیم کتب خانے کا احوال : سیدہ مصومہ شیرازی کے قلم سے
- جذبات کی طاقت اور حیدرآباد کنگزمین کی کارکردگی : ڈاکٹر علی شاذف کا کرکٹ کالم
- ٹرمپ پر حملے کا ملزم اور بہترین استاد کا اعزاز : کوچہ و بازار سے / ڈاکٹر انوار احمد کا کالم
- کیا ایموجی کی نئی عالمی زبان لفطوں کی روشنی ختم کر رہی ہے ؟ شہزاد عمران خان کا کالم
- صحافی کی گرفتاری اور رہائی : پاکستانی میڈیا کے لیے غیر ضروری خبر : سید مجاہد علی کا تجزیہ

