ڈاکٹرصغراصدفکالملکھاری

ڈاکٹر صغرا صدف کا کالم:پیاس، جلسے اور ڈانواں ڈول فیصلے

ہماری آنکھیں بے جان کیمرے کی طرح وہ منظر دیکھنے پر مجبور ہیں جو انسانیت کا دل دہلا دیں۔ سندھ، بلوچستان اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں پانی کی شدید کمی نے جو قہر ڈھائے ہیں ان کی اذیت سے روح گھائل، دل پریشان اور آنکھیں ویران ہیں۔ جب پانی پیتی ہوں تو پانی کی بھری بوتل کے اندر بوند بوند کو ترستی صورتیں نظر آنے لگتی ہیں جن کی آنکھوں میں آنسو بھی باقی نہیں اور پپڑیاں جمے ہونٹوں میں پکارنے کی سکت نہیں۔ زندگی اتنی بے رحم ہو سکتی ہے۔ ہم جو کربلا کے وارث ہیں پیاس کی شدت ہماری روح کو ہر لمحہ اداس رکھتی ہے۔ یہ بھی کرب و بلا کا عالم ہے۔ انڈیا میں تقریباً ایک لاکھ کے قریب ڈیم بنائے گئے ہیں۔ ہم نے آج تک کتنے ڈیم بنائے ہیں؟ بارش کا پانی سیلاب کی طرح ہمیں مزید برباد کر کے چلا جاتا ہے۔ پنجاب میں گندم، کپاس، گنّا، سبزیاں ملک کی مجموعی پیداوار کے پچاس فیصد سے زیادہ ہیں جب کہ ان فصلوں کو مناسب مقدار میں پانی نہیں ملتا جس کی وجہ سے پنجاب بنجر ہوتا جا رہا ہے اور اب ہمیں گندم اور چینی درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔
ہنگامی صورتحال میں آپسی اختلافات بھلا کر مشکل کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ کتنے دنوں سے جانوروں کے ریوڑ موت کی وادی میں اتر رہے ہیں۔ لوگ تڑپ رہے ہیں لیکن ہماری سیاسی جماعتوں کو جلسے کرنے اور ایک دوسرے پر الزامات لگانے سے فرصت نہیں، کسی منصف نے اس طرف توجہ کی نہ کسی صاحبِ استطاعت نے ایک بیان تک دیا۔ خدمتِ خلق پر ایمان رکھنے والی تنظیموں کے علاوہ پیاسوں کی داد رسی کو کوئی نہیں پہنچا۔ ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں کچھ دنوں کے لئے اپنے جلسے موقوف کر دیں اور اپنے کارکنوں کو بے سہاروں کی مدد کو بھیجیں۔ یقین کیجئے کہ آپ کا یہ عمل آپ کی سیاسی ساکھ بڑھائے گا اور لوگوں کے دلو ںمیں آپ کا احترام پیدا کرے گا ورنہ آپ بھی تماشائی کے طور پر یاد کئے جائیں گے جنہیں لوگوں کے دکھ سکھ سے کوئی سروکار نہیں۔ سیاسی جماعت کی طاقت لوگ ہوتے ہیں جو اسے ووٹ دیتے ہیں۔ رہنما اگر لوگوں کے مفادات کا خیال نہیں رکھتا تو خالی نعروں اور تقریروں سے زیادہ دیر کام نہیں چلتا۔
ملک میں اس وقت نہ کام ہو رہا ہے اورنہ کرنے دیا جا رہا ہے۔ مختلف اداروں کا آپس میں تعلق اور جھگڑا بھی سمجھ سے باہر ہے۔ حکومت ختم کرنا اگر برا تھا تو موجودہ حکومت کو چلنے نہ دینا اس سے بھی برا ہے۔ اس لئے کہ حکومت جس کی بھی ہو اس کو کام کرنے دینا چاہئے۔ یہ لوگوں کے ریلیف کے لئے ضروری ہے۔ جب تک آپ حکومت کو آزادانہ کام نہیں کرنے دیں گے وہ کس طرح بہتری لائے گی۔ موجودہ حکومت کے ایک روزہ میچ کے لئے پانچ روزہ میچ والی پِچ بنا دی گئی ہے۔ بائولر جارحانہ انداز میں بائولنگ کرائے جا رہے ہیں جبکہ حکومت ابھی تک معذرت خواہانہ اور ڈیفنڈنگ ماحول میں ہے۔ ضروری ہے کہ پِچ بھی ایک روزہ میچ والی بنائی جائے تا کہ بیٹسمین کچھ چوکے چھکے لگا کر اعتماد بحال کر سکے ورنہ حالات دن بدن بگڑتے جائیں گے۔ ڈالر اُڑنے لگا ہے، گرمی کی شدت بڑھ رہی ہے، قیمتوں کی سطح بلندی کی طرف رواں ہے اور حکومت ڈانواں ڈول ہے، کہیں گورنر نہیں، کہیں کابینہ نہیں، کہیں صدارتی دفتر کی تاخیر اور کہیں کوئی اور مسئلہ ہے۔ اگر پی ڈی ایم کی مختلف جماعتوں نے اتحاد کر کے حکومت بنائی ہے تو ان سب کو اب ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنا ہو گا۔ پاکستانی قوم بھی جذباتی نعروں سے نکل کر حالات کا کھلی آنکھوں سے جائزہ لے، اپوزیشن انتخابات سے قبل خدمتِ خلق کے کاموں سے اپنے آپ کو منوانے کی کوشش کرے۔ حکومت پسی ہوئی انسانیت کو ریلیف دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ منصوبے شروع کرے، دیگر ممالک کو سرمایہ کاری پر آمادہ کرے، برآمدات کو بڑھائے اور لوگوں میں شعور پیدا کرے کہ وہ اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں، یہاں کی صنعتوں کو ترقی دے جس سے زر مبادلہ میں اضافہ ہو۔ پانی کی کمی کو دور کرنے کے لئے زیادہ سے زیادہ ڈیم بنائے جائیں۔ سنتے تھے اگلی جنگ تیل پر نہیں بلکہ پانی کی وجہ سے ہو گی۔ کالا باغ ڈیم کی وجہ سے کچھ لوگوں کو زمین بنجر ہونے کا خدشہ تھا تو نہ بننے کی صورت میں یہ خطرہ دُگنا ہو گیا ہے۔ اب زمین کے بنجر پن کے ساتھ زندگی کو بھی خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ آئیے ہم سب کی زندگی بچانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
(بشکریہ: روزنامہ جنگ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker