میری بیوی کہتی ہے۔ میں نہانے جا رہی ہوں۔ اگر کچھ؟
افوہ۔ میری والی تو تیل لگا کر پوچھتی ہے۔ آج تیل لگایا ہوا ہے، بعد میں نہانا ہے۔ کوئی ارادہ؟
لاحول ولا قوۃ۔ میری بیوی کہتی ہے، گھر کی صفائی کی ہے، پسینہ بہت آیا ہے۔ کپڑے بدلنے ہیں۔ ابھی بتا دیں۔ ورنہ پھر پاک ہونا پڑے گا۔
میری بیوی کا تو انتظام ہی انوکھا ہے۔ علیحدہ چادر۔ کپڑے۔ گرم پانی۔
میری بیوی کو تو عین کلائمکس پہ یاد آ جاتا ہے کہ کچن میں آٹا ختم ہے، کل دفتر واپسی پہ لازمی لے کر آنا۔
دوسرے فریق کی کہانی بھی سن لیں۔
میرے شوہر کہتے ہیں۔ یہ کام اللہ نے صرف بچے پیدا کرنے کے لیے بنایا ہے سو بس اتنا ہی۔
اسلامی طریقے سے بتی بجھا کر۔ آنکھ کا بھی پردہ ہوتا ہے۔
شرعی کام بس دخول اور فوری انزال کا ہے۔ اگر تمہیں کوئی خبر نہیں ہوئی تو میں کیا کروں؟
بچہ ہو گیا نا۔ بس ثابت ہو گئی میری مردانگی۔ یہ کہاں لکھا ہے کہ تمہیں بھی میری مردانگی کا پتہ چلنا چاہیے۔
یہ مختلف لوگوں کے درمیان ہونے والی گفتگو ہے جسے سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے مختلف مسافر ایک ایسی گاڑی میں بیٹھے ہیں جو ایک منزل کی طرف سفر تو کر رہے ہیں مگر جانتے ہی نہیں کہ ساتھ کی سیٹ پر کون بیٹھا ہے؟
یہ ہے وہ تعلق جس کے ذریعے ہمارے معاشرے کے میاں بیوی ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک ایسا فریضہ جو انجام دینا ہے لیکن نہ کوئی خوشی ہے نہ جوش۔ بلکہ اس کو دوسرے ضروری کاموں سے منسلک کیا جا رہا ہے تاکہ سردردی اور ناگواری کم سے کم ہو۔
کیوں ہے ایسا؟
کیوں میاں بیوی کا تعلق محبت و خلوص کی بجائے ایک ایسے روکھے پھیکے تعلق میں بدل جاتا ہے جسے دونوں ساری عمر مشکل سے نبھاتے ہیں؟
کیوں پیرانہ سالی میں دونوں ایک دوسرے کو بیزاری اور اجنبی نظر سے دیکھتے ہیں؟
سمجھ میں ایک ہی بات آتی ہے۔ اس تعلق کی بنیاد میں لاعلمی، لاتعلقی اور معاشرے کے سجھائے ہوئے وہ سب ٹوٹکے شامل ہیں جن میں رضامندی، خوشی، سرشاری اور انوالومنٹ کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ فریق اول کو فریق ثانی کے محسوسات، اضطراب، ہچکچاہٹ، لاعلمی، ڈر، اور تکلیف کا نہ تو ادراک ہوتا ہے اور نہ ہی جاننے کی خواہش۔ ممکن ہے کہ اس سفر میں ایک فریق اگر مغرب میں ہو تو دوسرا مشرق میں۔
بہت سے اسباب میں پہلا اور اہم سبب جنسی اعضا کو غلیظ سمجھا جانا ہے جو بہت سے لوگوں کو اس عمل سے کراہت میں مبتلا کرتا ہے اور وہ ساری عمر سمجھ ہی نہیں سکتے کہ جنسی اعضا جسم کا ویسا ہی حصہ ہیں جیسے ناک کان آنکھ ہاتھ پاؤں۔ اسی عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اولاد تو ہر کسی کی آنکھ کا تارہ ٹھہرتی ہے لیکن عمل اور اعضا زیر عتاب بن جاتے ہیں۔
دوسرا اہم سبب جنسی عمل کو ایک ایسا ٹیبو سمجھا جانا ہے جس سے بے نہ صرف شرم و حیا کو منسلک کر دیا گیا ہے بلکہ ایک ایسے عمل کے طور پہ سوچنا جس میں ناگواری بھی شامل ہو تو کیا حاصل ہو گا؟ مزید بیزاری اور زبردستی لاد دیا جانے والا بوجھ!
ایک اور سبب مرد کا عورت کو ایک ڈمی کی طرح استعمال کرنا ہے جو اس تعلق کو مزید بوجھل کرتا ہے۔
اس عمل کی نزاکت سے بے خبری اور میکانکی طور طریقے یا ابنارمل اطوار مرد و عورت کو ایک دوسرے سے اجنبی بنا دیتے ہیں۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ فریقین اس سفر کو اکٹھے طے کریں۔ نہ صرف مرضی، اجازت اور خواہش دو طرفہ ہو بلکہ سفر کی تکنیک سے باخبری لازم ہے۔ ازدواجی تعلق میں اگر مرد اس بات کا خیال نہ رکھے تو عورت ٹامک ٹوئیاں مارتی رہ جاتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی یاد رکھیے کہ دو لوگ جب ایک دوسرے کا لباس بن جائیں اور اس میں احساس، مروت، محبت، اظہار اور لگاؤ نہ ہو تو تب وہی کچھ ہو گا جس کا ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا۔ بڑھتی عمر میں ایک دوسرے سے بیزار افراد شکایات کے انبار کے ہمراہ۔
ہمارا کہنا یہ ہے کہ دنیا کا ہر تعلق انویسٹمنٹ پہ استوار ہے۔ جذبات، وقت، احساس اور محبت کی انویسٹمنٹ۔ جتنا اس اکاؤنٹ میں ڈالا جائے گس اتنا ہی نکلے گا۔ بلکہ ہو سکتا ہے منافع بھی ہو۔ اگر آپ یہ سوچتے ہیں کہ نکاح کے دو بول دو اجنبیوں کے آپس کے تعلق کو انویسٹمنٹ کے بغیر فرحت انگیز اور شاندار بنا دیں گے تو یقین کیجیے سفر کے اختتام میں آپ حیران پریشان کھڑے ہوں گے اور اپنے آپ سے ہی پوچھ رہے ہوں گے کہ یہ کیسی زندگی تھی اور کس کے ساتھ گزری؟
اس انویسٹمنٹ میں مرد کا کردار زیادہ اہم ہے جس کی خاطر عورت اپنا گھر بار چھوڑ کر زندگی بسر کرنے آتی ہے۔ لیکن اگر عورت کو محسوس ہو کہ دن کی روشنی میں وہ کسی ایسے اجنبی کے ساتھ وقت گزارتی ہے جو سرد مہر، کٹھور اور لاتعلق ہے اور جو بیوی کو دوسروں کے سامنے عزت نہیں دیتا تب رات کی خاموشی میں اس مرد کو بھی ایک ایسی سرد مہر عورت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جسے قربت کے لمحات میں وہ سب اذیتیں یاد آتی ہیں جو دن کی روشنی میں اس کے دامن میں انڈیلی جاتی ہیں۔
تب مرد حیران ہو کر پوچھتا ہے تم ایسی کیوں ہو؟
( بشکریہ : ہم سب )
فیس بک کمینٹ

