اختصارئےلکھاری

جھوٹے سیاستدان پر ویز مشرف جتنا سچ تو بول کر دکھائیں ڈاکٹر واجد برکی

پرویز مشرف کا ایک انٹرویو اس وقت نشر ہوا ہےجب ملک کے طول و عرض میں ایجنسیوں کو ملعون و مطعون کیا جا رہا ہںے۔ مجھے خوشی ہے کہ ایک ایسے شخص نے ببانگ دہل سچ بولا جسے ہم آ مر کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ وہ بے لاگ سچ جو خود اس کی کمزوریوں کو عیاں کر گیا مگر ایک ہمارے سیاستدان ہیں کہ اپنے جھوٹ کا اعتراف اگر اس طرح کر جائیں تو ان کی ناک کٹ جاتی ہںے اور اقتدار جانے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
پہلے تو ایجنسیوں کے کردار کو دیکھ لیں۔ یہ ایجنسیاں کوئی غیر ملکی نہیں ہیں بلکہ قومی ادارے ہیں۔ ان کا قومی سلامتی سے براہ راست تعلق ہے تو وہ اس بارے میں بجا طور پر متفکر بھی رہںتے ہیں۔ اور ان کا آئینی کردار تالیاں بجانا نہیں ہے وہ اپنی اور اپنے بچوں کی جانوں کی قربانی دے کر اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ پس منظر اور پیش منظر میں ہونے والی ملک دشمن سرگرمیوں کو جب حکومتی سہولت مہیا کی جا رہںی ہںو اور سیاسی مہرے آلہ کار بن رہںے ہںوں تو کون ان سازشوں کی سر کوبی کرے گا۔
اب آئیے آمروں کی طرف۔ صدر ایوب کے وزیر خارجہ جناب بھٹو صاحب۔ جنرل یحیٰی کے مشیر اور سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جناب بھٹو۔ جنرل ضیاالحق کے وزیر خزانہ جناب نواز شریف۔ نواز شریف کے اتالیق گرامی جنرل جیلانی۔ جنرل مشرف کے وزراء سیاست شناس جناب دانیال عزیز اور طلال چوہدری۔ غرضیکہ فہرست خاصی طویل ہںے کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ ایجنسیوں پر تنقید کرنے والے اصغر خان کیس میں ثابت ہںونیوالی رقم کا حساب دیں۔ میمو گیٹ اور ڈان لیک سکینڈل کی رپورٹ شائع کریں۔ سوئزرلینڈ۔ لندن۔ دبئی۔ پانامہ میں رکھے ہوئے اثاثوں کا حساب کتاب کھولیں تو سب افشاء ہںو جائے گا۔
میں آپ کی اس بات سے تو اتفاق کرتا ہوں کہ کرپشن کے اس بحر بیکراں میں کوئی ایک بھی دودھ کا دھلا نہیں ہںے لیکن ان میں کوئی جنرل مشرف جتنا سچ تو بولے میں اس کا بے دام غلام ہںو جاؤں گا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker