طاہر سرور میرکالملکھاری

سری دیوی کی پراسرار موت اور بونی کپور ۔۔ طاہر سرور میر

زندگی کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ موت انسان کو اپنے آپ سے بہت دور دکھائی دیتی ہے ۔ شاید جینے کا یہی احساس زندگی کو حسین اور انمول بناتا ہے ۔ یہ سچ ہے کہ دنیا میں بیشتر انسان بھوک ،ننگ ،حادثات سمیت ان گنت محرومیوں کے ہاتھوں شکست کھا کر موت کا شکار ہوتے ہیں۔ ترقی یافتہ معاشروں میں فنکاروں کو رائل کمیونٹی سمجھاجاتاہے۔ پاکستان کے فنکار کیونکہ ایک چھوٹی مارکیٹ میں کام کرتے ہیں اس لئے گلیمر اور شہرت کے ان کرشموں سے بے بہرہ رہتے ہیں لیکن ہالی وڈ اور بالی وڈ کے ارب پتی فنکاروں کی زندگیاں راجے مہاراجوں کے راج پاٹ سے کم نہیں ہوتیں ۔ دھن ان پر برستا ہے ،عزت ،شہرت اور دولت ان کی لونڈی بنی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود یہ شدید ڈپریشن کا شکار رہتے ہیں۔ جدید دنیا کے پہلے پاپ اسٹار ایلوس پریسلے اور مائیکل جیکسن جیسے میگاورلڈ اسٹار کی اموات اس کی مثالیں ہیں۔ سپراورمیگا اسٹارز کی پُر اسرار ہلاکت کے پیچھے بعض اوقات کرائم اسٹوری بھی ہوتی ہے۔ سری دیوی اور بونی کپور کی LOVE STORYپر غور کریں تو اس کا اینٹی کائمیکس اور کلائمیکس کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق سری دیو ی کی موت باتھ روم ٹب میں مسلسل غوطے کھانے سے ہوئی۔اداکارہ کے معدے میں شراب کی مقدار بھی پائی گئی ۔ممکن ہے کہ سری دیوی نے اس شام بہت زیادہ شراب پی لی ہواور پھر وہ اپنے حواس کھوبیٹھی ہو لیکن اس کے شوہر بونی کپور کی ہوٹل کے اس ایگزیکٹو سویٹ میں موجودگی بھی معنی خیز ہے۔سری دیوی کثرت شراب کی عادی تھی۔جب وہ زیادہ شراب پی لیتی تھی تو اپنے آپ کو محصور کرلیاکرتی تھی اور پارٹیز میں جانے سے گریز کیاکرتی ۔ ممبئی میں لگ بھگ ہر فلم کا پریمیرشو سجایاجاتاہے لیکن سری دیوی کبھی کسی تقریب میں شرکت نہیں کرتی تھی۔شیکھر کپور کی ’’مسٹر انڈیا‘‘ اور فیروز خان کی ’’جانباز‘‘ایسی فلمیں تھیں جن کے لئے سری دیوی کی آمد کی نوید سنائی جارہی تھی لیکن وہ دونوں تقاریب میں نہ آئی۔ اگرچہ وہ بہت چھوٹی عمر میں کیمروں کے سامنے آگئی تھی لیکن اس کے باوجود وہ اپنے اندر کی شرمیلی اور اداس روح کو سماجی طور پر متحرک نہ کرسکی۔سری دیوی زیادہ پڑھی لکھی نہیں تھی لیکن بھارت کے میٹروپولیٹن شہروں کے ڈھابے والوں اور رکشاڈرائیوروں کی طرح تھوڑی بہت انگریزی بول لیتی تھی۔اس نے تامل ،تیلگو، ملیالم اوردیگر زبانوں میں بننے والی فلموں میں کام کیا۔ سری دیوی کو چونکہ اپنے کیرئیر کے آغاز میں ہندی بولنا نہیں آتی تھی اس لئے ہندی فلموں کے لئے اس کی ڈبنگ بی بی تبسم اور اداکارہ ریکھا نے کی ۔سری دیوی کی پہلی شادی متھن چکروتی سے ہوئی جو پہلے سے شادی شدہ تھا اور یوگیتا بالی اس کی بیوی تھی۔ سری دیوی اور متھن چکروتی کی خفیہ شادی 85ء میں ہوئی جو تین سال بعد 88ء میں ختم ہوئی ۔ ان گنت لوگوں کے دلوں پر راج کرنے والی اسٹار ایکٹریس نے ایک عورت کی حیثیت سے نفسیاتی طور پر اس علیحدگی کو اپنے لئے شکست سمجھا جس کا دکھ اس کے اندرموجود تھا۔
2005ء میں سری لنکا اور بھارت کے سمندری ساحلوں پر بدترین سونامی آیاجس میں لاکھوں انسان لقمہ اجل بن گئے تھے۔ آنجہانی سنیل دت سے میری نیاز مندی تھی وہ ان دنوں مہاراشٹریہ گورنمنٹ کے اسپورٹس اینڈکلچر منسٹر تھے ان کی دعوت پر پاکستانی فنکاروں کا ایک وفد لے کر ممبئی گیا تھا۔ وفد میں گلوکار رفاقت علی خاں، احمد جہاں زیب،اسٹرنگز ،معمر رانا اور اداکارہ میرا شامل تھی۔ سری دیوی سے میری ملاقات ممبئی کے باندرہ کلاں اسٹیڈیم میں ہوئی جہاں یہ ’’سونامی ہیلپ ٹیلی تھون‘‘ کرائی گئی تھی۔ 2000ء میں میری عمران خان سے ملاقات ہوئی تھی جس میں انہوں نے مجھے کہا تھاکہ میں شوکت خانم میموریل کینسر اسپتال کے چیرٹی شوز کے لئے بھارتی اسٹارز کو پاکستان آنے کی دعوت دینے کی ذمہ داری سنبھالوں۔ میں نے یہ نیک کام کینسر کے مریضوں کی مدد کے لئے اپنے ذمے لیا اور بعض بھارتی فنکاروں سے ٹیلی فونک رابطے بھی کئے۔ شاہ رخ خان اور سری دیوی کو دعو ت 2005ء میں ممبئی جا کر دی تھی ۔بالی وڈاسٹارز نے لاہور اور کراچی آنے کی حامی بھر لی تھی لیکن دونوں ملکوں کے مابین کشیدگی کے باعث چیرٹی شوز نہ کرائے جاسکے۔ سونامی کنسرٹ کے سلسلےمیں ہم پانچ دن تک مہاراشٹریہ گورنمنٹ کے مہمان رہے تھے ۔پاکستانی وفد کو جوہو کے ساحل سمندر پر واقع فائیواسٹار ہوٹل میں ٹھہرایاگیاتھا۔میرا کمرہ اداکارہ میرا اور معمر رانا کے ساتھ تھرڈ فلور پر تھا۔ایک شام اس ہوٹل میں لاہور سے ممبئی گئی ہوئی دولڑکیاں ملیں جنہیں وہاں دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ لاہور میں ان کی شہرت ٹھیک نہیں تھی ۔یہاں ان کے بارے میں یہی خیال کیاجاتاتھاکہ وہ اپنے آپ پر شوبز کا لیبل چسپاں کرکے تھوڑے بہت روپوں کے عوض ڈانس پارٹیز کرتی ہیں۔ ایک عرصہ سے پاکستان میں مجرے کی بجائے ڈانس پارٹی کی اصطلاح استعمال کی جارہی ہے اس کی وجہ غالباََ یہ ہے کہ اس طرح’’ثنا خوان ِتقدیس مشرق ‘‘کی تعلیمات کو زک نہیں پہنچتی۔میری حیرت اس وقت دوآتشتہ ہوگئی جب ان لڑکیوں نے بتایاکہ وہ ممبئی میں فلم پروڈیوسر اور ہدایتکار بونی کپور کی مہمان ہیں۔ میرے لئے یہ خبر ’’بریکنگ نیوز ‘‘ سے کہیں بڑھ کرتھی۔ انہوں نے مجھے بتایاکہ وہ بونی کپور کے ساتھ ایک پروجیکٹ ڈسکس کرنے آئی ہیں۔ چشم زدن میں بونی کپور کی فلمیں میرے دماغ کے سیلولائیڈ پر نمودار ہوئیں ’ وہ سات دن‘ ’ مسٹر انڈیا ‘ ’ رات ‘ ’روپ کی رانی چوروں کا راجہ ‘ ’ پریم ‘ ’ لوفر‘ ’جدائی ‘ ’پکار‘ ’ ہمارا دل آپ کے پاس ہے‘’ کمپنی ‘ وغیرہ ۔بونی کپور نے ہمیشہ سپراسٹارز کے ساتھ ہی کام کیاہے۔ان دولڑکیوں کی ’’باکس آفس پوزیشن‘‘ تو لاہور میں ایسی تھی کہ انہیں سودی بٹ یا سنگیتانے بھی کبھی اپنی فلم کیلئے کاسٹ نہیں کیاتھا ۔بالی وڈ والے پاکستان سے استاد نصرت فتح علی خاں ،شفقت امانت ،ماہرہ خان اورعاطف اسلم جیسے اسٹارز کو ہی بلواتے ہیں۔انہوں نے کبھی ایسے پاکستانی آرٹسٹوں کو ممبئی نہیں بلایا جو پہلے سے اسٹارز نہ ہوں۔اب تو پاکستانی فنکاروں کے لئے بالی وڈ کے دروازے بند کردئیے گئے ہیں۔مذکورہ ’’نااہل اداکاراؤ ں‘‘ کی طرف سے بونی کپور کے ریفرنس کی حقیقت کیاتھی؟اس بابت میں بونی کپور سے دریافت نہ کرسکا اور ویسے بھی بعد میں آنے والی فلموں میں وہ لاہور ی اسٹارز کہیں دکھائی نہیں دیں۔
بابرہ شریف اور کپور خاندان میں قریبی دوستانہ مراسم ہیں۔ بابرہ شریف بتاتی ہیں کہ بونی کپور ایسا مرد ہے جس کے بارے میں کہاجاسکتا ہے کہ وہ ’’ون ٹریک ‘‘ ہے ۔ایسے مرد کو صرف ایک عورت سے محبت ہوتی ہے۔ وہ بتاتی ہیں کہ انیل کپوراور بونی سمیت پورا کپور خاندان بڑا پیار کرنے والا ہے جن کے نزدیک انسانی رشتوں کی بڑی اہمیت ہے۔بونی اور سری دیوی کا عشق تو لیلیٰ مجنوں سے کسی طور بھی کم نہ تھا۔وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتیں کہ بونی سے سری دیوی کو کسی قسم کا نقصان پہنچ سکتاہے۔بونی کپور اور سری دیوی کے درمیان ظاہری طور پر کوئی اختلاف سامنے نہیں آیا۔متھن چکروتی کے بعد سری دیوی نے بھی بونی اور اپنے گھر کو اپنا سب کچھ جانا لیکن اس کے باوجود اس کی موت معمہ بن گئی۔ سپر اسٹارز طبعی موت بھی مرتے ہیں اور انہیں حادثات بھی اس دنیا سے لے جاتے ہیں۔پوسٹمارٹم رپورٹ جھوٹ نہیں بولتی مگر اس رپورٹ میں شاید وہ دکھ ،اداسی اور جمالیاتی کرب سامنے نہیں آتاجس بے خود ی سے وہ ہر لمحہ لذت آشنا بھی رہنا چاہتاہے
مے سے غرض نشاط ہے کس روسیاہ کو
اک گونہ بے خودی مجھے دن رات چاہئے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker