کراچی : پاکستان کے صوبہ پنجاب سے بازیاب کروائی جانے والی لڑکی دعا زہرہ کے کیس میں کراچی کی ایک عدالت نے تحریری حکم نامہ جاری کرتے ہوئے دعا زہرہ کو اپنی مرضی سے جانے کی اجازت دے دی ہے۔
عدالت کا تحریری حکم نامہ تین صفحات پر مشتمل ہے۔عدالت نے دعا زہرہ کو اپنی مرضی سے فیصلہ کرنے کی اجازت دیتے ہوئے کہا کہ بیان حلفی کی روشنی میں عدالت اس نتیجے پر پہنچی ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ ’دعا زہرہ اپنی مرضی سے جس کے ساتھ جانا چاہے یا رہنا چاہے رہ سکتی ہے۔‘عدالت نے فیصلہ میں مزید کہا کہ ’تمام شواہد کی روشنی میں اغواء کا مقدمہ نہیں بنتا ہے۔‘
عدالت نے کیس کے تفتیشی افسر کو کیس کا ضمنی چالان جمع کرانے کا حکم دے دیا۔
کیس کے تفتیشی افسر عمر کے تعین سے متعلق میڈیکل سرٹیفکیٹ اور سندھ ہائیکورٹ میں ریکارڈ کرایا گیا بیان بھی پیش کرنے کا حکم دیا۔عدالت نے مزید کہا کہ دعا زہرہ کو لاہور ہائیکورٹ میں پیش کرنا سندھ حکومت کی صوابدید ہے۔ ٹرائل کورٹ قانون کے مطابق کاروائی جاری رکھے۔
اس سے پہلے دعا زہرہ کی عمر کا تعین میڈیکل ٹیسٹ کے ذریعے کیے جانے کے بعد بدھ کو کراچی میں دعا اور اس کے شوہر کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔
اس پیشی کے دوران خاصے جذباتی مناظر دیکھنے کو ملے۔ عدالت نے دعا سے ان کے والدین کی ملاقات بھی کروائی جس کے بعد اس کیس پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔
کچھ عرصہ پہلے کراچی سے غائب ہونے والی دعا زہرہ کو سندھ ہائی کورٹ کی حکم پر عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ دعا زہرہ رواں سال اپریل میں کراچی سے لاپتہ ہوئی تھیں۔ بعد میں اُنھوں نے ایک ویڈیو پیغام میں دعویٰ کیا تھا کہ اُنھوں نے اپنی پسند سے شادی کر لی ہے۔
عدالت نے دعا کی بازیابی کے بعد ان کی عمر کے تعین کے لیے میڈیکل ٹیسٹ کرنے کا حکم دیا تھا۔ سول ہسپتال کراچی کے ریڈیولوجی ڈپارٹمنٹ کی میڈیکل رپورٹ کے مطابق دعا زہرا کی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ہے اور 17 سال کے قریب ہے۔دعا کے والد مہدی کاظمی کی جانب سے ان نتائج پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں اور بدھ کو بھی پیشی کے دوران انھوں نے روسٹرم پر آ کر ایک مرتبہ پھر کہا کہ ’میری شادی کو 16 سال ہوئے ہیں، میری بچی 17 برس کی کیسے ہو گئی۔‘
ان کا مؤقف ہے کہ ان کی بیٹی کی عمر 14 برس ہے اور کم عمری کی شادی کے لیے ان کا جعلی نکاح نامہ بنایا گیا ہے۔ دعا کے والد کا مطالبہ ہے کہ والدین کی موجودگی میں دوبارہ میڈیکل کرایا جائے اور عمر کی تصدیق کے لیے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔
بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق جب دعا زہرہ روسٹرم پر پیش ہوئیں تو عدالت نے دعا زہرہ سے کہا کہ کیا وہ اپنے والد سے ملاقات کرنا چاہیں گی؟ عدالت کے یہ ریمارکس سنتے ہی دعا نے رونا شروع کر دیا جس کے بعد عدالت نے دعا کو چیمبر میں والدین سے ملاقات کی ہدایت کی۔
یہ ملاقات دس منٹ تک جاری رہی جس دوران دعا کے والدین ان سے بات کرنے کی کوشش کرتے رہے۔
اس ملاقات کے بعد پولیس دعا زہرہ کو اپنے ساتھ لے گئی جبکہ دعا زہرہ کی والدہ نے کہا ہے کہ ’میری بچی نے کہا کہ وہ گھر چلنا چاہتی ہیں، میری بچی کو زبردستی یہاں سے لے گئے ہیں‘۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئے دعا کی والدہ روتی رہیں اور پھر بےہوش ہو گئیں۔
عدالت میں پیشی کے بعد دعا زہرہ کے والد نے بی بی سی اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’جب ہم نے بچی سے ملاقات کی تو اس نے کہا کہ میں گھر جانا چاہتی ہوں۔ وہ دباؤ کا شکار تھی۔ تاہم پولیس ہمارے سر پر کھڑی تھی۔ جس کے فوری بعد پولیس نے دعا کو پکڑا اور لے گئے۔ میں نے انھیں کہا کہ بچی بیان دینا چاہتی ہے لیکن انھوں نے میری بات نہیں سنی اور وہ دعا کو لے گئے۔ میں اس کے بعد جج صاحب کے پاس بھاگا لیکن انھوں نے بھی کہا کہ اب کوئی بیان نہیں ہو گا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے بتائیں کہ یہ کیسا بیان ہے۔ میرے پاس تمام تر دستاویزات ہیں۔ انھیں کوئی دیکھ نہیں رہا۔ میڈیکل رپورٹ پیش کی گئی۔ اس میں کوئی پینل نہیں بنا بس صرف ایک ڈاکٹر نے مرضی سے رپورٹ دے دی۔‘
دعا کے والد نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ ’عدالت نے دس منٹ دیے تھے لیکن پولیس نے پانچ منٹ میں ملاقات ختم کروا دی۔ میں اپیل کرتا ہوں کہ میری بچی بیان دینا چاہتی ہے اس کا بیان لیا جائے‘۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

