ادبرضی الدین رضیلکھاری

” شادی کے بعد ایک روز کے لئے بھی جدا نہیں ہوئے “۔۔ ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی کا رضی الدین رضی سے مکالمہ

ازدواجی زندگی کے حوالے سے پندرہ برس قبل شائع ہونے والاانٹرویو

ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی صاحبہ کا یہ انٹرویو یکم جولائی 2005 ء کو روزنامہ جنگ میں شائع ہوا تھا اس وقت ان کی شادی کو پانچ برس ہوئے تھے اور یہ پہلا اور آخری انٹرویو ہے جس میں دونوں نے اپنی ازدواجی زندگی کے حوالے سے کھل کر اظہار خیال کیا ۔ یہ مکالمہ میری زیر طبع کتاب میں شامل ہے ۔
ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی کا شمار ان قلمکاروں میں ہوتا ہے جو ملکی سطح پر اپنی شناخت رکھتے ہیں ۔ ڈاکٹر اسد اریب ماہر تعلیم ، نقاد اور محقق ہیں ۔ ان کی کئی کتابیں منظر عام پر آ ئیں ۔ ماہ طلعت زاہدی کی پہچان ان کی شاعری ہے ۔ 5 برس قبل ڈاکٹر اسد اریب اور ماہ طلعت زاہدی کی شادی کی خبر ادبی حلقوں میں حیرت کے ساتھ سنی گئی اور بقول ماہ طلعت زاہدی ایک طرح کا سناٹا طاری ہو گیا ۔ ہم نے ان کی نجی زندگی کے حوالے سے ان کے ساتھ تفصیلی انٹرویو کیا جو قارئین کی نذر ہے ۔ ( رضی الدین رضی )
۔۔۔۔۔
جنگ : آپ کی شادی لو میرج ہے یا ارینج ؟
اسد اریب : یقیناً لو میرج ہے ۔ ہمارے ہاں لو میرج اور ارینج میرج کا لفظ ایک فنی اصطلاح کے طور پر استعمال ہو رہا ہے ۔ یہ شادی ان معنوں میں تو ارینج ہے کہ اس میں رشتہ داروں کو مدعو کیا گیا اور سب شریک ہوئے لیکن اپنے باطن کے حوالے سے یہ لو میرج ہے ۔
جنگ : آپ دونوں کو ایک دوسرے کی کون کون سی خوبیوں نے ایک دوسرے کے قریب کیا ؟
اسد اریب : میں اور طلعت دونوں 26 ، 27 سال قبل استاد شاگرد رہے ہیں ۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو بھرپور تحسین کی نگاہ سے دیکھنے والے ہیں ۔ اس میں خیال کی آوارگی یا جذبات کی بے لگامی نہیں ہے ۔ میں تنقید کا استاد تھا ۔ تنقید کے لیکچر میں شعر کے ذریعے کسی تک پیغام پہنچانا بہت مشکل ہوتا ہے مگر میں لیکچر کے دوران خود کو ان تک Communicate کرتا رہا ۔ میرے نزدیک پسند کا سب سے بڑا معیار شائستگی اور نفاست ہے ۔ اور میں نے انہیں ان کی شائستگی کی وجہ سے پسند کیا ۔ دوسری بات جس نے مجھے ان کے بہت قریب کیا وہ ان کی شاعری ہے ۔ میں نے 1980 ءمیں ان کی شاعری پر ایک مضمون لکھا جو 1983 ءمیں شائع ہوا ۔ میں نے اس مضمون میں جو سچائیاں بیان کی تھیں آج حالات و واقعات نے ان کی تائید کر دی ہے ۔ اس وقت بھی مجھ میں وہ لہریں موجود تھیں کہ میں کس شخص کو کس نگاہ سے دیکھ رہا ہوں اور میرا تیر کب نشانے پر لگے گا ۔ سو ہماری پسند کی بڑی وجہ ادب ، شاعری اور شخصی شائستگی ہے۔
ماہ طلعت : آپ کے پہلے سوال کا جواب یہ ہے کہ دو میچور افراد جب مل کر کوئی فیصلہ کرتے ہیں تو ظاہر ہے یہ انہی دونوں کا فیصلہ ہوتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ مجھے ان کی کون سی بات سب سے زیادہ پسند آئی تو اس سلسلے میں میں یہ کہوں گی کہ میرے پاپا سید مقصود زاہدی میرے لیے آئیڈیل شخصیت تھے ۔ مجھے ان کے بعد جو دوسری بھرپور شخصیت نظر آتی ہے وہ ان کی ہے۔ ان کا لیکچر بہت بھرپور ہوا کرتا تھا ۔ ان کی گفتگو ، مسکراہٹ الفاظ کا دروبست ایک بہت خوشگوار رد عمل پیدا ہوتا تھا ۔ اچھا تاثر ہوتا تھا ان کی گفتگو کا ۔ ایسا تاثر چھوڑتے تھے کہ جینے کو دل چاہتا تھا ۔
جنگ : آپ دونوں کو شادی کے لیے طویل انتظار کرنا پڑا کیا آپ کو یقین تھا کہ آپ مل سکیں گے ؟
ماہ طلعت : مجھے تو قطعاً اندازہ نہیں تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے ۔ میرے لیے تو یہ دروازہ بند تھا ۔ میرے گھر والوں سے بات پوشیدہ نہیں تھی سب جانتے تھے کہ کسی ایک شخصیت کی اگر میں نے بہت تعریف کی ہے تو وہ شخصیت انہی کی تھی ۔ میں نے یہ کبھی سوچا ہی نہیں تھا کہ میں حالت انتظار میں ہوں ۔ میں نے کبھی یہ بھی نہیں سوچا تھا کہ ایسا کبھی ممکن ہو گا ۔ لیکن قدرت کے بھی کچھ فیصلے ہوتے ہیں ۔ اب لوگوں کو محسوس ہوتا ہو گا کہ جیسے میں انتظار کر رہی تھی مگر ایسا نہیں تھا ۔ یہ قدرت کی طرف سے ہوا کہ کہیں اور بات نہیں بنی ۔
جنگ : جی ڈاکٹر اسد اریب صاحب آپ نے کبھی یہ سوچا تھا کہ آپ مل پائیں گے ؟
اسد اریب : جی میں اقرار کرتا ہوں کہ میرے ذہن میں یہ ہیولہ موجود تھا اور اس کے بعد اس کی شکل بھی بنتی نظر آ رہی تھی اور امید اور یقین کے چراغ زیادہ سے زیادہ روشن ہو رہے تھے ۔ میں اس بات پر یقین رکھتا ہوں کہ بہت کام روحانی عمل کے ذریعے بھی تکمیل پاتے ہیں ۔ سو میں مرحلہ شوق کے ساتھ مرحلہ دعا میں بھی شامل ہو گیا ۔ قدرت نے ہر کام کے لیے موزوں اور مناسب وقت مقرر کر رکھا ہے ۔ اس واقعہ کے لیے ایک وقت مقرر تھا لیکن اس تمام وقت میں میرا ارادہ ، میری نیت اور میری خواہش برابر ساتھ ساتھ رہی ۔ اور یہاں میں یہ وضاحت بھی کر دوں کہ اس تمام عرصے میں میرا ان کے ساتھ کوئی ربطہ نہیں رہا ۔ میں نے ان 25 برسوں کے دوران انہیں صرف دو مرتبہ خط لکھا ۔ ایک جب ” فنون“ میں ان کی نظم احمد ندیم قاسمی کے فٹ نوٹ کے ساتھ شائع ہوئی ، تو میں نے ان سے دریافت کیا تھا کہ کیا یہ ماہ طلعت آپ ہی ہیں ؟ اور دوسرا خط میں نے انہیں ان کے والد کے انتقال پر تعزیت کا تحریر کیا تھا ۔ اس کے علاوہ اس تما م عرصے میں ہماری کوئی مراسلت ہوئی نہ ملاقات ۔
جنگ : آپ نے انہیں براہ راست پرپوز کیا تھا کہ کسی کے ذریعے پیغام بھیجا تھا ؟
اسد اریب : براہ راست
جنگ : ماہ طلعت آپ کا کیا رد عمل تھا ؟
ماہ طلعت : میرے تو خواب و خیال میں بھی نہیں تھا ۔ میں نے فوراً قبول کر لیا ۔ ایک سیکنڈ کے لیے بھی نہیں سوچا ۔ یہ ایسے ہی تھا جیسے خدا نے مجھے کوئی تحفہ دے دیا ہو ۔
جنگ : خاندان کی طرف سے کوئی مخالفت ہوئی ؟
اسد اریب : میں بڑا طاقتور آدمی ہوں ۔ میری کوئی آدمی اگر مخالفت کرے گا تو وہ اپنے لیے شکست کا سامان کرے گا ۔ ہاں پسند نا پسند ہوتی ہے ۔ معاشرے میں کچھ لوگوں نے اس فیصلے کو پسند نہیں کیا ہو گا اور ایسا طلعت کے ہاں بھی ہوا ہو گا ۔
ماہ طلعت : نہیں میرے گھر والوں نے تو میرے اس فیصلے میں میرے ساتھ تعاون کیا۔ مخالفت تو نہیں ہوئی مگر ایسا تھا کہ جیسے سناٹے کا عالم طاری ہو جاتا ہے اور وہ شاید اس لیے تھا کہ ہم برصغیر کے لوگ تھوڑا سا بھی نیا قدم نہیں اٹھاتے اور اگر کوئی اٹھائے تو پھر سناٹا ہی طاری ہوتا ہے ۔ بھارت میں توامرتا پریتم کی مثال سامنے ہے کہ وہ اپنے سے بہت جونیئر امروز کے ساتھ ایک عرصہ سے کامیاب زندگی گزار رہی ہے۔
جنگ : آپ دونوں کا تعلق ادب سے ہے ۔ ازدواجی زندگی میں آپ ایک دوسرے سے مشورہ کرتے ہیں ۔ اکٹھے ادبی سفر کیسا لگتا ہے ؟
ماہ طلعت : میرا کام ان کے سامنے ہے ۔ تنقید کا مرحلہ تو نہیں آتا ، بہر حال اچھا لگتا ہے یہ ادبی سفر ۔
اسد اریب : میں اب بھی وہی استاد ہوں ۔ لیکن اب جب میں ان کے کسی لفظ پر انگلی رکھ دیتا ہوں تو یہ سخت ناراض ہو تی ہیں اور میری بات تسلیم نہیں کرتیں ۔ پھر میں سوچتا ہوں کہ کاش ہم وہی استاد شاگرد ہوتے پہلے والے ۔
جنگ : آپ کو ایک دوسرے کی کون سی عادت ناپسند ہے ؟
اسد اریب : یہ خائف بہت ہوتی ہیں اور اس کا اظہار کرتی ہیں ۔ اس رجحان کا سخت مخالف ہوں ۔
ماہ طلعت : جب یہ مجھے مسکرا کر نہ دیکھیں تو وہ لمحہ مجھے بہت برا لگتا ہے ۔ کیونکہ میں نے انہیں ہمیشہ مسکراتے ہوئے پایا ہے ۔
جنگ : ماہ طلعت منہ دکھائی میں آپ کو کیا دیا تھا انہوں نے ؟
ماہ طلعت : کچھ بھی نہیں دیا تھا بس خود کو پیش کر دیا تھا ۔
اسد اریب : ہم رسم دنیا کے قائل نہیں ۔
ماہ طلعت : جب میری کتاب ” روپ ہزار“ شائع کرائی تو انہوں نے کہا تھا کہ یہ تمہارا تحفہ ہے ۔
جنگ : جب اسد اریب شہر سے باہر جاتے ہیں تو آپ کا کتنی بار رابطہ رہتا ہے ؟
ماہ طلعت : خدا نہ کرے کہ ایسا ہو ۔ یہ تو مجھے شہر میں بھی کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے ۔ ہم شادی کے بعد سے اب تک ایک دن کے لیے بھی ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوئے ۔ جہاں جاتے ہیں مجھے ساتھ لے کر جاتے ہیں ۔

( مطبوعہ : روزنامہ جنگ ملتان یکم جولائی 2005 ء)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker