2018 انتخاباتاختصارئےلکھاری

الیکشن کے نام پر سرمایہ داری نظام کا کھیل نا منظور ۔۔ این ایس ایف کا اعلان

نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ پاکستان کے زیرِ اہتمام نیشنل اسکول سسٹم رینالہ خورد، اوکاڑہ میں ضلعی اسٹڈی سرکل منعقد کیا گیا جِس کی صدارت این ایس ایف ۔ پاکستان ضلع اوکاڑہ کے ضلعی صدر پرویز سُلطانی نے کی۔ اسٹدی سرکل میں ’موجودہ انتخابی سیاست‘ کے حوالے سے این ایس ایف پاکستان کے سابِق مرکزی صدر صابِر علی حیدر نے لکچر دیا۔صابر علی حیدر نے اپنے لیکچر کے دوران کہا کہ این ایس ایف پاکستان پِچھلی کئی دہایئوں سے ملک میں جمہوریّت کے قیام کے لیئے جِدوجہد کر رہی ہے۔ اِس کی واضح مثال نہ صرف انیس سو ساٹھ کی دہائی میں این ایس ایف کی ایوب خان آمریت کے خِلاف جِدوجہد ہے جِسے طلبہ نے اپنے خون سے لِکھا اور ایوب خان جیسے جابر حکمران کو اِس تحریک کے نتیجہ میں عنانِ اقتدار چھوڑ کر بھاگنا پڑا مگر اِس جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ اقتدار پرسندھ کا ایک ایسا جاگیردار جمہوریت کے نام پر قابِض ہو گیا جو ایوب خان کو ڈیڈی کیا کرتا تھا۔ صابِر علی حیدر نے کہا کہ اِسی طرح جب ۵ جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے ایک مرتبہ پھِر مارشل لا لگا دیا تو این ایس ایف پاکستان نے ہی اِس مارشل لا کے خِلاف ایک وسیع تر اتحاد بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ضیائی مارشل لا کے خِلاف، کیا تاریخ بابر اسد اور این ایس ایف کے دیگر کارکنان کی قربانیوں کو تاریخ فراموش کر سکتی ہے؟کیا این ایس ایف پاکستان کی صد روزہ تحریک کو فراموش کیا جا سکتا ہے؟ ۹ فروری 1984 کو جب جنرل ضیا الحق نے ایک غیر آئینی آرڈیننس کے ذریعے طلبہ یونین پر پابندی لگا دی تواآس وقت ڈاؤ میڈکل کالج سے این ایس ایف پاکستان کا پورا پینل منتخب ہو چکا تھا اور خالِد انور یونین کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ اِسی طرح سندھ میڈیکل کالج سے رضوان نعیم کے زیرِصدارت این ایس ایف پاکستان کا پورا پینل جیتا ہوا تھا۔ داؤد اینجنئرنگ کالج سے این ایس ایف کے راؤ جمیل حامد پورے پینل سمیت صدر بنے تھے۔
جونہی، ساتھیوں کو آمر کی اِس گھناؤنی حرکت کا پتہ چلا تو انہوں نے ضیا آمریت کے خِلاف طلبہ یونین بحالی کے لیئے صد روزہ تحریک کا آغاز کر دیا۔ اِس کے نتیجے میں درسگاہوں کو عقوبت خانوں میں تبدیل کیا گیامگر این ایس ایف پاکستان کا ایک مؤقف یہ بھی تھا کہ ملک میں جمہوریت کے قیام کے لیئے ہمیں کِسی سرمایہ دار سیاسی جماعت کا دُم چھلہ بننے کی ضرورت نہیں۔ مگر سرمایہ دار سیاسی جماعتوں کے ترمیم پسند موقع پرستوں نے تب بھی ایم آر ڈی کے نام سے ایک اتحاد بنایا تو مگر اِس شرط پر کہ اگر ان کی تحریک کامیاب ہوتی ہے تو امریکہ بہادر حکومت کے قیام میں ان کی سپورٹ کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دوستو، این ایس ایف سرمایہ داروں کے اِس گھناؤنے کھیل کو جمہوریت تسلیم نہیں کرتی۔ یہ حکومتیں بنائیں گے، آئی ایم ایف سے قرض لیں گے، جِسے ہمارے ٹیکسوں سے چکایا جائے گا اور یہ صِرف ملک سے باہِر اپنی اپنی جائدادوں میں اضافے کے سِوا کُچھ نہیں کریں گے۔
اِس لیئے، آج ہم الیکشن کے نام پر سرمایہ داری کے فروغ کے اِس ناپاک کھیل کا بائیکاٹ کرتے ہیں۔ کِسی وڈیرے، کسی چوہدری اور کِسی پراڈو والے کو اپنے علاقے میں گھسنے نہ دو۔ اُن سے نظریاتی سوال کرو۔ ان کو اپنے علاقوں سے نکال باہر کرو۔ اگر آج نوجون یہ کریں گے تو ہی کل کو مزدور اور کِسان ان کو جواب دینا سیکھیں گے۔
آخِر میں شرکا نے سوالات کیئے۔ ایک سوال کے جواب میں صابر علی حیدر نے کہا کہ این ایس ایف پاکستان ابھی تک ڈاکٹر رشید حسن خان کی فِکری قیادت سے محروم نہیں ہوئی۔ ہم آج بھی ان کے بتائے ہوئے رستے پر چلتے ہوئے اندرونِ ملک جمہوریت کے قیام کے لیئے اور سامراجی تسلط کے خِلاف مزاحمت کے لیئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ہمیں ڈاکٹر رشید حسن خان نے ہی امریکی سرمایہ دار سامراج اور روسی سوشل سامراج کے خِلاف لڑنا سِکھایا اور آج ہم چین کے سی پیک سامراج کے خِلاف اُسی حوصلے ساتھ کے نبرد آزما ہیں۔ ڈاکٹر صاحب آج اِس دنیا میں نہیں، مگر ان کی بنائی ہوئی طلبہ قیادت آج بھی میدانِ عمل میں سرگرم ہے۔

رپورٹ : فہیم عامر

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker