جمہوریت دشمن سازشوں کا جال بچھانے والی مخلوق کا کوئی ایک نام اور روپ نہیں ہوتا۔ یہ کردارکبھی جنرل فیض حمید کا روپ دھار لیتا ہے تو کبھی جنرل حمید گل کا۔ عوام دشمن کرداروں کے سرغنہ کبھی جنرل پاشا، کبھی جنرل ظہیرالاسلام اور کبھی برگیڈئر امتیاز بلا کی مکروہ صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔
ریاستی اقتدار اعلیٰ پر قبضہ مقصود ہو تو یہ کردار آمر جنرل ایوب خان بن جاتا ہے۔ جنرل یحیی خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل مشرف اسی قماش کے عوام دشمن کرداروں کے مکروہ چہرے ہیں۔ انہوں نے قومی سلامتی کے بہانے، سول نوکرشاہی اور اعلیٰ عدلیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے جمہوری عمل کی راہ میں شعوری رکاوٹیں کھڑی کیں۔ یہ ہی ہاتھ تھےجنہوں نے ملک کو آئین سے محروم رکھا اور مارشل لا کو آئین کا درجہ دیتے رہے۔ ملک کو متفقہ آئین دینے والے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل بھی انہی درندہ صفت آئین شکنوں کی بد خصلتی کیا دھرا ہے۔پاکستان کی بد قسمتی کہ عسکری قیادت اور اعلیٰ عدلیہ کے ناپاک گٹھ جوڑ کے ذریعے آئین و قانون، پارلیمانی جمہوریت اور سولین بالادستی کی جانب بڑھتے قدم پسپا کئے جاتے رہے۔
قیام پاکستان کے بعد جمہوریت مخالف کرداروں کی آبیاری بڑے اہتمام سے کی جاتی رہی۔ گزشتہ صدی میں پچاس کی دہائی سے عسکری قیادت، سول افسر شاہی اور اعلیٰ عدلیہ کی ملی بھگت نے نو زائیدہ مملکت کے اقتدار اعلیٰ پر شکنجے گاڑھنا شروع کر دئے تھے۔ ملک کو جمہوریت اور جمہوری عمل سے دور رکھا گیا تھا۔ بلآخر ۱۹۵۸ میں جنرل ایوب خان کی آمریت ملک اورعوام کا مقدر ٹھری۔
جمہوریت دشمن ذہن سازی اور کرداروں کی پرورش کا تسلسل کبھی رکا نہیں۔ جمہور دشمن کرداروں کی پرورش مختلف حیلوں بہانوں سے ریاستی نگرانی میں آج بھی جاری و ساری ہے۔ غیر جمہوری ذہن سازی کرنے والی فیکٹری کو خام مال کی فراہمی تسلسل سے جاری ہے۔ اس لئے فیض حمید جیسے جمہوریت دشمن سازشی کردار ریاست کی گود میں شان و شوکت سے پلتےرہتےہیں۔ مقتدرہ اپنے عزائم کی تکمیل کے لئے ہمہ وقت ایسے کرداروں کو تخلیق کرتی رہتی ہے۔
آئین و قانون کی دھجیاں اڑانا ان کرداروں کا پسندیدہ مشغلہ ہوتا ہے۔ سول منتخب حکومتوں کے معاملات میں غیر آئینی دراندازی کرنا، پارلیمانی جماعتوں اور اراکین پارلیمنٹ کو ڈرا دھمکا کر مقتدرہ کے ایجنڈے پر عملدرآمد کرانا، ان کرداروں کے غیر آئینی فرائض کا حصہ بن جاتا ہے۔
سیاسی جماعتوں کے بخیے ادھیڑنا اور راتوں رات نئی سیاسی جماعت تخلیق کر دینا انکی جادوئی چھڑی کا کمال ٹھرتا ہے۔ پاکستان کی خالق سیاسی جماعت مسلم لیگ سے ایوب خانی کنونشن مسلم لیگ برآمد کرنا، ان کے تخیل کا کارنامہ تھا۔ جنرل فیض حمید جیسے ہتھیاروں کے موثر استعمال سے مسلم لیگ جونیجو سے مسلم لیگ نواز کا وجود عمل میں لایا گیا۔ پیپلز پارٹی کی توڑ پھوڑ کرکے پی پی پی پارلیمنٹیرین نام کی نئی جماعت معرض وجود میں لائی گئی۔ نواز لیگ سے ق لیگ کا نکالنا بھی ان کا مرہون منت تھا۔ پی ٹی آئی کی شکل میں نام نہاد تیسرا سیاسی متبادل تخلیق کرنا ، پی ٹی آئی کے بطن سے استحکام پارٹی اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرین کا جنم بھی صاحب کرامت مقتدرہ کی جھولی میں پرورش پانے والے سازشی ذہنوں کے کارناموں سے عبارت ہے۔ نت نئے ناموں سے سیاسی میدان سجاتے مذہبی اثاثے بھی انہیں کرداروں کی تخلیقات قرار پاتی ہیں۔
کہتے ہیں پاکستان میں آزادانہ اور دھاندلی سے پاک انتخابات دیوانے کا خواب لگتا ہے۔ انتخابات کے من مرضی کے مطابق نتائج مرتب کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کام ہے۔ ملک کے انتظامی سربراہ وزیر اعظم کو کٹھ پتلی بناکر سیاسی تماشہ گری کرنا بھی انہی کرداروں کے سنہری کارناموں میں شمار ہوتا ہے۔ منتخب حکومتوں کو درہم برہم کرنا اور وزرائے اعظم کے نیچے سے کرسی کھینچنا محلاتی سازشوں کے ماہر میکاولین کرداروں کے غیر آئینی سبق کا پہلا باب ہوتا ہے۔ ان کے سامنے آئینی و قانونی طاقت کی سر چشمہ پارلیمان اور منتخب وزیر اعظم کی حثیت کسی کھلونے سے زیادہ نہیں رہ جاتی۔ آئین میں متعین پیشہ ورانہ فرائض سے ہٹ کر حکومتی اور سیاسی معاملات میں مداخلت کا سبق بھی ان کے سازشی نصاب کا اہم جزو ہوتا ہے۔ اہم آئینی و سیاسی مقدمات میں عدلیہ کے ججوں پر اثر و رسوخ اور دباو کے ہتھکنڈے استعمال کرکے پسند کے فیصلے کروانا بھی ان کی دسترس میں ہوتا ہے۔ میڈیا کنٹرول کرنا تو ان کے ایک ٹیلی فون کال کا مرہون منت ہوتا ہے۔
ایسے کردارکسی جمہوری نظام حکومت اور معاشرے میں پروان نہیں چڑھ سکتے۔ پاکستان میں طاقتور مقتدرہ کے غیر آئینی مفادات و عزائم کو پایہ تکمیل تک پہچانے کے لئے ایسے کرداروں نے آئین سے ماورا غیر جمہوری سازشوں کے جال بچھائے۔ جمہوریت کو بوٹوں تلے روندا، جمہوری عمل پامال کیا، منتخب وزرائے اعظم کو اقتدار سے محروم کیا اور منتخب حکومتوں کی آزادانہ ورکنگ میں بےجا رکاوٹیں کھڑی کیں۔ سیاست میں خرید و فروخت کے دھندے کا آغاز بھی انہیں کرداروں سےمنسوب کیا جاتا ہے۔
کیا جنرل فیض حمید کا کورٹ مارشل اس جیسے کرداروں کے مزید پرورش پر روک لگا سکتا ہے۔ آج کی صورت حال میں ایسا ہوتا ممکن نہیں لگتا، کیونکہ مقتدرہ کا سیاسی و حکومتی معاملات سے پرہیز اختیار کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آتا۔ ملکی حالات کو دیکھیں تو یہ کہنا مشکل نہیں کہ مقتدرہ اپنا کردار آئینی دائرے میں محدود نہیں رکھنا چاہتی۔ اس پر حیران ہونےکی قطعاً ضرورت نہیں کہ فیض حمید کے دوران ملازمت آئین شکن جرائم پرکوئی جواب طلبی یا احتساب کیوں نہیں کیا جا رہا۔ فیض حمید کی بعد از ملازمت سرگرمیوں کے خلاف کارروائی کے معنیٰ دوران ملازمت غیر آئینی سرگرمیوں کی توثیق کرنا ہے۔ یہ نواز شریف حکومت کے خلاف سازشوں اور اعلیٰ عدلیہ کے ججوں پر دباؤ ڈالنے، پارلیمانی معاملات میں بے جا مداخلت کرنے، میڈیا پر کنٹرول اور غیر قانونی دباو ڈالنے کے الزامات سے بریت کے مترادف ہے۔ اعلیٰ عسکری عہدہ پر فائز ہوتے ہوئے فیض حمید کا عمران حکومت کی غیر مناسب حمایت اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف ناجائز کاروائیوں کی داستانیں تو زبان زد عام ہیں۔ مگر مقتدرہ نے اس جانب نظر ڈالنے کا تکلف گوارہ نہیں کیا۔
یاد رہے کہ جنرل فیض حمید پاکستانی تاریخ کا پہلا اور آخری جمہوریت دشمن اور آئین شکن کردار نہیں ہے۔ جب تک مقتدرہ سیاسی معاملات سے لا تعلق ہو کر آئین میں متعین کردہ کردار ادا کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی، جنرل فیض حمید جیسے سازشی کرداروں کی آبیاری ہوتی رہے گی۔
فیس بک کمینٹ

