فیضان عارفکالملکھاری

فیضان عارف کا کالم : برطانیہ میں اردو کی ترویج کے لئے محمود ہاشمی کی خدمات

بہت پہلے کی بات ہے کہ میرپور آزاد کشمیر کا ایک خاندان بلوچستان کی ریاست قلات جا کر آباد ہوا جہاں مستونگ کے علاقے میں خان آف قلات کے گھوڑوں کا بہت بڑا شیڈ تھا۔ اس خاندان کے سربراہ محمد ہاشم کو اس شیڈ کا انچارج مقرر کیا گیا جو اپنے زمانے کے بہت قابل وٹرنری ڈاکٹر تھے۔
20اگست 1910 کو اس گھرانے میں ایک ایسے بچے نے جنم لیا جس کی روشن روشن آنکھیں اس کے تابناک مستقبل کا پتہ دے رہی تھیں۔ دس برس تک اس بچے کی پرورش بہت ناز و نعم میں ہوئی مگر 13دسمبر 1920 کو والد کی وفات کے بعد اس بچے کے دل سے گھڑ سواری اور شہسوار بننے کا شوق بھی معدوم ہو گیا مگر کون جانتا تھا کہ یہ معصوم بچہ آنے والے وقتوں میں ادبی دنیا کے شہسواروں میں شمار کیا جائے گا۔ والد کی وفات کے بعد اسے تعلیم و تربیت کے لئے ایک عزیز کے پاس گوجرہ منڈی لائل پور بھیج دیا گیا جہاں سے 1937 میں میٹرک کرنے کے بعد اس کشمیری بچے نے اپنے آبائی وطن کا رخ کیا جس کے ہر گوشے سے اسے محبت تھی۔ اس بچے کو سیر و تفریح کا بہت شوق تھا۔ جب وہ اپنے والد کے ساتھ گھوڑوں کے قافلے کے ہمراہ قلات سے سبی جاتا تو اس کی خوشی کا عالم دیدنی ہوتا تھا۔
اسی طرح جب وہ لائل پور سے ریل گاڑی میں سوار ہو کر اپنے آبائی گاؤں کے سفر پر روانہ ہوتا تو اسے کئی ویران سٹیشنوں پر گاڑی تبدیل کرنے کے لئے طویل انتظار کرنا پڑتا۔ ریلوے سٹیشنوں پر چہل قدمی پلیٹ فارم پر لگے اشتہار پڑھنا، کینٹین سے کیک لے کر کھانا اور فطرت کی خوبصورتیوں پر غور کرنا اسے بہت اچھا لگتا۔ لکھنے لکھانے کی عادت اسے آٹھویں جماعت سے ہی ہو چکی تھی جو رفتہ رفتہ شوق اور پھر جنوں کی شکل اختیار کر گئی۔ لکھنا پڑھنا اس کا اوڑھنا بچھونا بن گئے۔ لفظوں کے گھنے سایہ دار درختوں کے سائے اسے سکون دینے لگے۔ قدرت نے اسے علم و دانش کے ان راستوں پر گامزن کر دیا جو اس کے لئے منتخب کر دیے گئے تھے۔
یہ بچہ جس کا نام اس کے والد نے محمود ہاشم رکھا تھا بڑا ہو کر ادبی دنیا میں محمود ہاشمی کے نام سے پہچانا جانے لگا۔ طویل رپورتاژ ”کشمیر اداس ہے“ اس کی تخلیقی کاوشوں کا حوالہ بن گئی جس کے اب تک درجنوں ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ محمود ہاشمی 1953 میں برطانیہ آئے تھے۔ برطانیہ آنے سے پہلے وہ مظفر آباد میں اورینٹل کالج کے پرنسپل تھے۔ یہاں آ کر انہوں نے برمنگھم یونیورسٹی سے ایم اے ایجوکیشن کیا جس کے بعد انہیں اسی شہر میں ایک استاد کی حیثیت سے ملازمت مل گئی۔ بعد ازاں انہوں نے 1961 میں برطانیہ سے پہلے باقاعدہ اردو ہفت روزہ مشرق کا اجرا کیا جو کئی برس تک کامیابی سے شائع ہوتا رہا۔ یہ اخبار یونائیٹڈ کنگڈم میں اردو صحافت کا سنگ میل تھا۔ محمود ہاشمی نے برطانیہ میں اردو زبان کی تدریس کے لئے بھی بہت اہم کام کیا۔ انہوں نے پاکستانی اور کشمیری تارکین وطن کے بچوں کو اردو سکھانے کے لئے بہت آسان اور شاندار قاعدے لکھے جسے بریڈ فورڈ کے ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے بڑے اہتمام سے شائع کیا۔ ان قاعدوں میں اردو اساتذہ کی رہنمائی کے لئے بھی خصوصی باب شامل کئے گئے۔ محمود ہاشمی 94برس کی عمر میں 30جنوری 2014 کو برمنگھم میں انتقال کر گئے۔
90 کی دہائی میں محمود ہاشمی سے میری کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ وہ ایک ذہین ملنسار اور لکھنے پڑھنے میں منہمک رہنے والی شخصیت تھے۔ آخری ملاقات میں انہوں نے مجھے ہفت روزہ مشرق کے کچھ خاص شمارے عنایت کئے جن میں اردو کے اس اولین برطانوی اخبار کا پہلا شمارہ بھی شامل تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے ناولٹ ’موت کا جنم‘ کی ایک جلد بھی مجھے دی۔ انہوں نے ایک دلچسپ کتاب ”ہم یہاں کیسے پہنچے“ بھی تحریر کی جو تارکین وطن کے بارے میں اہم معلومات اور واقعات پر مبنی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کے ”یہ شاعر وافسانہ نویس“ بھی ان کی اہم تصنیف ہے۔ محمود ہاشمی نے اپنی ساری زندگی تدریس، تحقیق اور تخلیق کے کام میں گزاری۔ انہوں نے جو جو کچھ لکھا دل سے لکھا۔ اسی لئے ان کی تحریریں پر تاثیر اور شاندار ہیں۔ وہ برطانیہ میں اردو صحافت اور اردو زبان کی تدریس کے بانی تھے۔ انہوں نے اردو زبان و ادب کے چراغ کو اس وقت روشن کیا جب برطانیہ میں تارکین وطن کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا۔ ہجرتی ادب کے حوالے سے محمود ہاشمی کے کام کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بریڈ فورڈ میں مقیم نامور ادیب اور محقق یعقوب نظامی نے محمود ہاشمی کی نگارشات کو یکجا کیا ہے۔ انہیں ہاشمی صاحب کی قربت بھی میسر رہی اور وہ میری طرح ان کے مداح بھی ہیں۔ میں نے ایک بار پہلے بھی نشاندہی کی تھی کہ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ بیرونی دنیا میں اردو زبان و ادب اور صحافت کے علمبرداروں کی خدمات کا اعتراف کرے اور انہیں قومی اعزازات دینے کا سلسلہ شروع کرے۔ محمود ہاشمی، ساقی فاروقی کے علاوہ رضا علی عابدی، علی جعفر زیدی، یعقوب نظامی، صفدر ہمدانی، باصر کاظمی، آصف جیلانی اور سید راشد اشرف جیسے ادیبوں کو قومی اعزازات ملنے سے پرائیڈ آف پرفارمنس، ہلال امتیاز اور ستارہ امتیاز جیسے ایوارڈز کی اپنی توقیر میں اضافہ ہوگا۔ مذکورہ بالا نام ایسے لوگوں کے ہیں جن کے کام اور تخلیقات(کتابوں) سے اردو ادب کا ہر سنجیدہ قاری آگاہ ہے۔ پچھلے دنوں یوکے پریس کلب آف پاکستان اور راچڈیل بارو کونسل نے محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ کا اجرا کیا۔ اپنے اکابرین کو یاد کرنے اور ان کے کارہائے نمایاں کے اعتراف کے لئے یہ بہت ہی مستحسن فیصلہ ہے۔ جن صحافی اور ادیب دوستوں یعنی ظفر تنویر، طاہر انعام شیخ، تنویر زمان، یعقوب نظامی اور عباس ملک کے علاوہ کمیونٹی کی خدمت کرنے والے افراد کو پہلا محمود ہاشمی میموریل ایوارڈ دیا گیا۔ انہیں بہت مبارکباد۔
درحقیقت برطانیہ میں اردو کے جو ادیب، صحافی، شاعر اور براڈ کاسٹر آباد ہیں وہ کسی قسم کی سفارش پر یقین نہیں رکھتے اور نہ ہی وہ حکومت پاکستان سے کسی قسم کے قومی ایوارڈ کے حصول کے لئے کسی طرح کی لابی کے سہارے کو جائز سمجھتے ہیں۔ لندن کے پاکستان ہائی کمیشن اور برطانیہ کے مختلف شہروں میں پاکستانی قونصلیٹس کو چاہئے کہ وہ اوورسیز پاکستانیوں میں سے ان افراد کے نام حکومت پاکستان کو قومی اعزازات تفویض کرنے کے لئے بھجوائے جنہوں نے مختلف شعبوں میں واقعی قابل قدر خدمات سرانجام دی ہیں۔ خیال تھا کہ عمران خان کے دور حکومت میں اس معاملے کی طرف توجہ دی جائے گی کیونکہ پاکستانی تارکین وطن کی اکثریت پی ٹی آئی کی حامی اور خیر خواہ ہے۔ لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے بھی اوورسیز پاکستانیوں کو اسی طرح مایوس کیا جس طرح ان سے پہلے کی حکومتیں کرتی چلی آئی ہیں۔
پاکستانی حکومتوں کو تارکین وطن کی یاد صرف زرمبادلہ بلکہ زیادہ سے زیادہ زرمبادلہ کے حصول کے لئے آتی ہے وگرنہ ان کی دوہری شہریت کو بھی دوہری ولدیت کے مترادف قرار دے کر ان کی وطن کی مٹی سے محبت کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker