چند روز یا چند ہفتوں کی سیاحت سے کسی شہر یا کسی ملک کے بارے میں کوئی معتبر رائے قائم نہیں کی جا سکتی اور نہ ہی اس معاشرے کے لوگوں کے رویے اور طرز زندگی سے متعلق کوئی ”فتویٰ” دیا جا سکتا ہے۔ ہمارے بہت سے پاکستانی جب کسی یورپی ملک یا برطانیہ کی سیاحت کے لیے آتے ہیں تو چند روزہ سیر سپاٹے کے بعد وہ جس طرح ان غیر ممالک کے بارے میں اپنی ”ماہرانہ رائے” دیتے ہیں تو اسے سن اور پڑھ کر ہم جیسے تارکین وطن بھی حیران ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ ایک کالم نگار نے تو جرمنی کے دورے کے بعد یہ انکشاف بھی کیا کہ اس ملک کے لوگ اتنے محنتی ہیں کہ رات کے وقت وہ دفتروں اور فیکٹریوں میں بلا معاوضہ کام کرتے ہیں حالانکہ اس بات کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ میں جب نیا نیا لندن آیا تھا تو چند ہفتے اس شہر کی سیر و سیاحت کے بعد میں نے بھی ایک سفر نامہ تحریر کیا تھا۔ درجنوں صفحات پر مشتمل اس سفر نامے کو جب میں نے کئی برس بعد دوبارہ پڑھا تو مجھے اپنی یہ تحریر پڑھ کر بہت خجالت محسوس ہوئی۔ سیاح کے طور پر لندن شہر کے بارے میں میرے مشاہدات اور تاثرات بہت ہی سرسری اور مغالطے پر مبنی تھے۔
30 برس لندن شہر میں رہنے اور ہر طرح کے لوگوں سے ملنے جلنے کے بعد اب مجھے احساس ہوتا ہے کہ یہ شہر اور اس کا طرز زندگی ویسا نہیں ہے جیسا کہ میں نے ایک سیاح کے طور پر دیکھا تھا۔ ابتدا میں اس شہر کی جن چیزوں کو دیکھ کر میں حیران ہوتا تھا اب وہ میرے لیے معمول کا حصہ بن چکی ہیں۔ مثلاًپورے یونائیٹڈ کنگڈم اور خاص طور پر لندن میں حاملہ عورتیں اور لڑکیاں بچے کی پیدائش سے دو تین دن پہلے تک بسوں اور ٹرینز میں سفر کرتی اور شاپنگ سینٹرز میں خریداری میں مصروف دکھائی دیتی ہیں۔ 9 ماہ کی حاملہ عورتوں کا یوں سرعام گھومنا پھرنا اور گاہے گاہے اپنے بڑھے ہوئے پیٹ کو سہلانا ہم جیسے ترقی پذیر ممالک کے تارکین وطن کو بے حیائی کا پرچار لگتا ہے لیکن برطانوی معاشرے میں کسی لڑکی یا عورت کا حاملہ ہونا یا ماں بننا کوئی ایسی خفیہ بات نہیں سمجھی جاتی کہ اسے پوشیدہ رکھا جائے۔ وطن عزیز میں اگر کسی گھر کی بہو حاملہ ہو جائے تواسے حاملہ کہنے کی بجائے کہا جاتا ہے کہ بہو امید سے ہے،یا بہو کا پیر بھاری ہو گیا ہے، یا اس کی گود ہری ہونے والی ہے، وہ ماں بننے والی ہے، اس کے گھر کوئی خوشخبری آنے والی ہے۔ گھر کے افراد کو بتایا جاتا ہے کہ آپ چاچا یا تایا بننے والے ہیں یا لڑکیوں کو اطلاع دی جاتی ہے کہ تم خالہ یا پھپو بننے والی ہو۔ برطانیہ میں ڈاکٹرز یا طبی عملہ حاملہ خواتین کو بچے کی پیدائش سے چند ہفتے پہلے اس کی جنس کے بارے میں بتا دیتے ہیں تاکہ ماں باپ اس کے مطابق بچے کے کپڑوں یا دیگر سامان کی خریداری کر سکیں۔
اگر بچہ پہلا نہیں ہے تو حاملہ ماں اپنے دیگر بچوں کو اپنے پیٹ میں پرورش پانے والے بچے کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہے۔ ننھے بچے کا سر اپنے پیٹ سے لگا کر اسے اپنے نازائیدہ بچے کی دل کی دھڑکن سنوانے کی کوشش کرتی ہے۔
برطانیہ میں بچوں کی اکثریت نارمل ڈلیوریز کے ذریعے دنیا میں آتی ہے۔ سیزیرین ڈلیوریز کی شرح بہت کم ہے اور وہ بھی ایمرجنسی یا کسی میڈیکل پرابلم کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ بچے کی پیدائش کے چند روز بعد ہی برطانوی مائیں اپنے نوزائیدہ کو ”پش چیئر” میں لے کر یا ایک ”ہینگر” کے ذریعے سینے سے لگائے شاپنگ سینٹرز میں گھومتی پھرتی دکھائی دیتی ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم کی سفید فام آبادی (انگریزوں) میں شرح پیدائش تقریبا گیارہ فیصد ہے اور جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہر سال کم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ انگریزوں اور خاص طور پر پڑھے لکھے گوروں کا خیال ہے کہ بچے کم ہی اچھے۔ان کی رائے میں آبادی پر کنٹرول سے ہم اپنے کرہ ارض کو زیادہ محفوظ بنا سکتے ہیں۔ یعنی آبادی میں بے تحاشہ اضافے سے ماحولیاتی آلودگی میں بھی بے تحاشہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ (SAVE THE PLANET) سیو دی پلینٹ۔ انگریزوں کا خیال ہے کہ بچے کم ہوں تو ان کی دیکھ بھال اور تعلیم و تربیت پر زیادہ دھیان دیا جا سکتا ہے۔ حالانکہ یہاں وسائل کی کمی نہیں پھر بھی انگریزوں کی اکثریت اپنی اور اپنی آئندہ نسلوں کی زندگی آسان بنانے کے لیے آبادی کو کنٹرول کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ مگر برطانیہ میں آباد تارکین وطن اور خاص طور پر صومالیہ، بنگلہ دیش اور ایسٹرن یورپ اور افریقہ کے کچھ ممالک کے لوگوں نے اس کسر کو پورا کر دیا ہے جس کی تفصیل کے لیے الگ سے کئی کالمز لکھنے کی ضرورت ہے۔ برطانیہ میں حاملہ عورتوں کی دیکھ بھال، چیک اپ اور ٹیسٹس وغیرہ سے لے کر بچے کی پیدائش (ڈلیوری) تک کا خصوصی خیال رکھنے میں نیشنل ہیلتھ سروس (NHS) کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتی اور بچے کے اس دنیا میں آنے کے بعد بھی اس کے طبی معائنے اور نگہداشت میں بھی کسی قسم کی کوئی غفلت نہیں برتی جاتی اور یہ سب کچھ مفت اور بلا معاوضہ ہوتا ہے۔ یعنی ہر قسم کی طبی سہولت جس میں ہر طرح کا علاج اور دوائیں بھی شامل ہیں حکومت کی طرف سے فراہم کی جاتی ہیں یہاں پر ہر طرح کے علاج معالجے، آپریشنز، ٹیسٹس، دواؤں اور مریضوں کی دیکھ بھال پر برطانوی حکومت 182 بلین پاؤنڈ سالانہ خرچ کرتی ہے جو کہ پاکستان کے کل سالانہ بجٹ سے بھی کئی گنا زیادہ ہے حالانکہ یونائیٹڈ کنگڈم کی آبادی پاکستان سے تین گنا سے بھی کم یعنی صرف پونے سات کروڑ ہے۔ یو کے میں حکومت اپنے وسائل کا سب سے بڑا حصہ تعلیم اور صحت کے شعبے پر خرچ کرتی ہے۔ تعلیم اور علاج معالجہ ہر برطانوی شہری کے لیے مفت ہے۔ اس ملک کے ارباب اختیار کا خیال ہے کہ صحت مند اور تعلیم یافتہ لوگ ہی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کے ضامن ہوتے ہیں۔ یونائیٹڈ کنگڈم اور یورپ کے اور کئی ترقی یافتہ ملکوں میں بچے کی پیدائش سے پہلے ہی حاملہ ماؤں اور پیدائش کے بعد زچہ و بچہ کا جس طرح خصوصی طور پر خیال رکھا اور ان کی ہر ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ صرف قابل ستائش ہی نہیں بلکہ دیگر ایسے ممالک کے لیے ایک مثال بھی ہے جنہوں نے اپنی غلط ترجیحات کے سبب قومی وسائل کو ضائع کرنے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور جن ملکوں کے ارباب اختیار نے کرپشن کی ایسی انتہا کر دی ہے کہ اب وہاں کے عوام کے لیے مفت معیاری تعلیم اور علاج معالجہ ناممکن ہو گیا ہے۔ جس ملک میں حاملہ مائیں دولت کی پجاری گائناکالوجسٹ ڈاکٹرز کے رحم و کرم پر ہوں وہاں ماؤں اور بچوں کی صحت کا کون ضامن ہوگا؟ پاکستان سمیت بہت سے ترقی پذیر اور پسماندہ ممالک میں ہر سال ہزاروں مائیں اور ان کے نوزائیدہ بچے مناسب طبی امداد اور سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں آج حاملہ عورتوں کو بچوں کی پیدائش سے چند ماہ پہلے ہی ایک کمرے یا ان کے بستر تک محدود کر دیا جاتا ہے اور بچے کی پیدائش کے بعد وہ 40 دن تک نہانے تک کی سہولت سے بھی محروم رہتی ہیں۔ ترقی یافتہ ملکوں میں حاملہ عورتیں بچے کی پیدائش سے پہلے سپیشل ایکسرسائز کلاسز میں جاتی ہیں اور بچے کو جنم دینے کے بعد اپنی فٹنس کے لیے خصوصی ایکسرسائز کورسز اٹینڈ کرتی ہیں۔
حاملہ عورتوں کو سات پردوں میں چھپا کر رکھنا یا ان کی نقل و حرکت ایک کمرے تک محدود کر دینا معلوم نہیں شرم و حیا کا تقاضا ہے یا کچھ اور! لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ وطن عزیز میں حاملہ عورتوں کو ان کی جسمانی تبدیلیوں اور ان کی کوکھ میں پلنے والے بچوں کے بارے میں وہ معلومات اور آگاہی نہیں دی جاتی جو ترقی یافتہ ملکوں میں طبی نقطہ نظر سے ضروری اور لازمی تصور کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں تو چھوٹے بہن بھائیوں کو بھی اس وقت گھر کے ایک فرد میں اضافے کی خوشخبری ملتی ہے جب بیمار والدہ کے کمرے سے ننھے بچے کی رونے کی آواز آتی ہے۔ بچے کی پیدائش پر ساس سسر کو بھی بہو سے زیادہ بچے کی صحت کی فکر لاحق رہتی ہے اور شوہر کے رویے سے ایسا لگتا ہے جیسے وہ کہہ رہا ہو:
جنت کا نشاں بنا دیا ہے
میں نے تجھے ماں بنا دیا ہے
فیس بک کمینٹ

