تجزیےفیضان عارفلکھاری

برطانیہ کی ترقی اور پاکستان کی پسماندگی کی وجوہات ۔۔فیضان عارف

لندن سے ایک خط

برطانیہ میں کاروبار کرنا انتہائی آسان ہے لیکن اس ملک میں کوئی بھی شخص ٹیکس نیٹ ورک کا حصہ بنے بغیر کاروبار جاری نہیں رکھ سکتا۔ کاروبار چھوٹا ہو یا بڑا سب سے پہلے مقامی کونسل اس پر کمرشل ریٹس یعنی کونسل ٹیکس کا تعین کرتی ہے اسی طرح یہاں ہونے والا ہر کاروبار کمپنیز ہاؤس (Companies House) میں رجسٹر ہوتا ہے اور جو کاروبار کمپنیز ہاؤس میں رجسٹر ہو اُسے ہر سال اپنی آمدن کا گوشوارہ ایچ ایم آر سی یعنی ہرمیجسٹی ریونیو اینڈ کسٹمز کو بھیجنا پڑتا ہے۔ تمام کاروباری ادارے اپنی آمدنی اخراجات اور وی اے ٹی (Value Added Tax) کے گوشوارے عموماً پروفیشنل چارٹرڈ اکاونٹینٹس یا اکاونٹینسی فرم کے ذریعے ٹیکس آفس کو بھیجتے ہیں جو ان گوشواروں میں دیئے گئے اعداد و شمار کے مطابق وصول کئے جانے والے ٹیکس کا تعین کرتا ہے۔ برطانیہ میں ٹیکس کی وصولی کے لئے طریقہ کار اور ڈاکیومینٹیشن بہت موثر اور سادہ ہے ہر کاروبار برطانوی ٹیکس نیٹ ورک میں شامل ہے اور اس سلسلے میں جعل سازی کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔ ویسے تو دنیا میں تاجروں کی اکثریت ٹیکس نہیں دینا چاہتی یا ایسے طریقوں کی تلاش میں رہتی ہے جن کے ذریعے ٹیکس کی ادائیگی سے بچا جا سکے یا پھر کم سے کم ٹیکس دیا جائے لیکن برطانیہ میں چونکہ ہر طرح کی ادائیگی اور وصولی کی رسید اور انوائس جاری کی جاتی ہے اس لئے آمدنی اور اخراجات کی تفصیل ایچ ایم آر سی یعنی ٹیکس آفس کو فراہم کرنا ہر تاجر کی کاروباری مجبوری ہے اور اس ملک میں جعلی یا دو نمبر رسید یا انوائس بنانا یا بنوانا بہت سنگین اور قابل گرفت جرم ہے ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ برطانیہ میں جتنے چارٹرڈ اکانٹینٹس ، ٹیکس ایڈوائزریا اکاونٹینسی فرمز کام کر رہی ہیں وہ بہت کوالیفائیڈ اور یہاں کے ٹیکس سسٹم کی ماہر ہیں وہ ٹیکس نہ دینے کے طریقے نہیں بتاتے بلکہ ٹیکس کی ادائیگی کو آسان بنانے میں معاونت کرتے ہیں یا کسی حد تک ٹیکس میں کمی کے لئے مشورے دیتے ہیں۔
برطانیہ بنیادی طور پر نہ تو ایک زرعی ملک ہے اور نہ ہی یہاں افرادی قوت کی فراوانی ہے مگر اس کے باوجود برطانیہ کا جی ڈی پی 2.21 ٹریلین پونڈ ہے اور یہ ملک دنیا کا پانچواں بڑا ایکسپورٹر ہے جس کی ایکسپورٹ کا حجم سالانہ 691 بلین پونڈ ہے (جس میں 14 بلین ڈالر کے جدید اسلحے کی ایکسپورٹ بھی شامل ہے) جبکہ امپورٹ بھی لگ بھگ اتنی ہی مالیت کی ہیں۔ برطانیہ کی مستحکم معیشت کا انحصار مختلف طرح کی سروسز کی فراہمی اور ٹیکس کے نظام پر ہے یہی وجہ ہے دنیا کی ایک سے ایک بڑی ملٹی نیشنل کمپنی یونائیٹڈ کنگڈم میں اپنا دفتر بنانا اور کاروبار کرنا چاہتی ہے۔ 2017 میں برطانیہ میں 80.61 بلین پونڈ کی فارن انوسٹمنٹ یعنی غیر ملکی سرمایہ کاری ہوئی جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ اس ملک میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لئے حالات بہت سازگار ہیں۔ ٹیکس کے معاملے میں بھی حکومت سرمایہ کاروں کو کئی طرح کی سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرتی ہے ۔ غیر ملکی سرمایہ کاری کے سبب برطانیہ میں معیشت کا پہیہ کامیابی سے چلتا رہتا ہے اور روزگار کی نئی گنجائش بھی پیدا ہوتی رہتی ہے۔
برطانیہ میں بے روزگاری کا تناسب صرف 3.7 فیصد ہے اور جو لوگ کام نہیں کرتے حکومت انہیں رہائش اور اخراجات کے لئے نقد رقم کی ادائیگی کی ذمہ داری لیتی ہے اس ملک میں سوشل ویلفیئر کا نظام بہت مربوط اور موثر ہے یونائیٹڈ کنگڈم میں چونکہ ٹیکس کی وصولی کا نظام بہت عمدہ اور کسی حد تک کرپشن فری ہے اس لئے یہ ملک ویلفیئر سٹیٹ بھی ہے۔ برطانیہ میں سیاست ایک کل وقتی کام ہے برطانوی پارلیمنٹ کے اراکین کی اکثریت اپنے سیاسی امور نبٹانے میں اس قدر مصروف رہتی ہے کہ اُسے تجارت یا کاروبار کرنے کی فرصت ہی میسر نہیں آتی۔ ویسے بھی برطانیہ میں تجارت اور سیاست دو مختلف شعبے ہیں اسی تسلسل میں ہم اگر پاکستان کے سیاسی اور اقتصادی معاملات کا موازنہ اور تجزیہ کریں تو یہ افسوس ناک حقیقت بہت واضح ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے کہ وطن عزیز کے بیشتر سیاستدان بنیادی طور پر تاجر اور کاروباری ہیں۔ ہر تاجر سیاستدان نے اپنے اپنے دور حکومت میں خوب مال بنایا معمولی دکاندار شوگر ملز اور ٹیکسٹائل انڈسٹریز کے مالک بن گئے۔ وہ سیاستدان جن کے پاس اپنی انتخابی مہم چلانے کے لئے وسائل نہیں ہوتے تھے اب وہ کروڑوں روپے اپنی انتخابی مہم پر خرچ کرتے ہیں۔ تجارت پیشہ سیاستدانوں نے پاکستان کی سیاست کو انتہائی مہنگا کر دیا ہے اسی لئے اب کوئی سفید پوش سیاستدان انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔ جب کسی ملک کی سیاست پر تجارت پیشہ یا کاروباری ذہنیت رکھنے والے لوگوں کا تسلط قائم ہو جاتا ہے تو وہ سب سے پہلے ٹیکس کے نظام کو اپنی کٹھ پتلی بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور جس ملک میں ٹیکس کی وصولی کا نظام غیر موثر ہو جائے یا ٹیکس کے نظام کی بنیادوں میں دیمک لگ جائے تو وہاں صرف غیر ملکی قرضوں اور امداد سے ہی ملکی اور قومی امور کو چلانا پڑتا ہے اور غیر ملکی قرضے ایسی دلدل ہیں جس میں ملکوں اور قوموں کی خودمختاری اور وقار ایک بار دھنسنا شروع ہو جائے تو پھر اس سے نکلنا اگر ناممکن نہ ہو تو بہت مشکل ضرور ہو جاتا ہے۔
ایک تو پاکستان میں ٹیکس وصولی کا نظام بہت فرسودہ ہے اور وہ بھی کرپشن کی وجہ سے غیر موثر ہو چکا ہے دوسرا ہمارے ملک میں ٹیکس دینے کا کلچر رواج نہیں پا سکا۔ اربوں روپے کا کاروبار کرنے والے تاجر لاکھوں روپے کا ٹیکس نہیں دیتے لیکن کروڑوں روپے کا بھتہ دینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کراچی کے بہت سے ارب پتی سیٹھ ایسے بھی ہیں جنہوں نے زندگی بھر کبھی ایک کروڑکا ٹیکس ادا نہیں کیا لیکن بھتہ خور مافیا کو کئی بار کروڑوں کی ادائیگی کرتے رہے ہیں۔ جب تک اسلامی جمہوریہ پاکستان کی سیاست تاجروں اور کاروباری ذہنیت رکھنے والے سیاستدانوں کے غلبے سے نہیں نکلے گی وطن عزیز میں ٹیکس کا نظام مفید اور موثر نہیں بن سکتا کیونکہ سیاستدانوں کے بھیس میں ہمارا تاجر طبقہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اُن کے کاروبار سے ٹیکس کا پیسہ لے کر ملک و قوم کی فلاح و بہبود یا حکومتی امور پر خرچ کیا جائے۔ اُن کو سب سے آسان کام یہ لگتا ہے کہ اپنے دور حکومت میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے بھاری سود پر قرضے لے کر ملکی امور کو چلایا جائے ۔ میگا پراجیکٹس بنا کر کمیشن او کک بیک وصول کئے جائیں اور ان قرضوں کی سود سمیت ادائیگی کو اپنے بعد آنے والی حکومت کے لئے چھوڑ کر اپنی راہ لی جائے اور اگر ان سیاستدانوں کو پھر سے حکومت میں آنے کا موقع ملے تو مزید قرض لے کر کام چلایا جائے چاہے اس کے لئے انہیں ملک و قوم کا کسی بھی طرح کا مفاد اور خودمختاری گروی رکھنی پڑے۔
کس قدر عجیب بات ہے کہ جن سیاستدانوں نے ٹیکس کی وصولی کے نظام کا ستیاناس کیا اور جو ملک و قوم کی تباہی اور بربادی کے ذمہ دار ہیں ہم اُن سے ہی توقع لگائے ہوئے ہیں کہ وہ پاکستان کے عوام کو مصیبتوں، مشکلات اور مسائل سے نجات دلائیں گے۔ یہ تو بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی کے جسم میں سانپ کاٹنے سے زہر پھیل گیا ہو اور ہم اس کو علاج کے لئے پھر سے سانپ کے پاس لے جائیں۔ کس قدر تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے تاجر پیشہ سیاستدانوں کے اپنے کاروباری ادارے نجی کمپنیاں اور ایئر لائنز تو دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی ہیں لیکن پاکستان سٹیل ملز، پی آئی اے، پاکستان ریلویز اور درجنوں سرکاری ادارے مسلسل خسارے کا شکار ہیں جس کا مطلب صرف اور صرف یہ ہے کہ ہمارے سیاستدان اپنے ذاتی اور کاروباری مفاد کو اپنی پہلی ترجیح سمجھتے ہیں اور اُن کے نزدیک ملک و قوم یا قومی اداروں کا مفاد کسی بھی اعتبار سے اُن کی ترجیحات کی فہرست میں شامل نہیں۔ اگر پاکستان بھی برطانیہ کی طرح اپنی معیشت کا استحکام چاہتا ہے تو وہ ’’قوتیں‘‘ جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ملک کی اصل حکمران ہیں انہیں چاہیئے کہ و ہ تاجروں کو سیاست سے الگ کر کے ملک میں ٹیکس کے نظام کو موثر اور کرپشن سے پاک کریں ۔ ایک بار ملک میں ٹیکس کلچر کی راہ ہموار ہو گئی تو معاشی استحکام کا آغاز ہو جائے گا۔ پاکستان میں جو جتنا زیادہ امیر، طاقتور اور اختیار والا ہے وہ قانون کی گرفت سے اتنا ہی بالاتر ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو نہ صرف پاکستان کے ہر طرح کے وسائل پر قابض ہیں بلکہ اس نے غریب طبقے کو ملنے والی آکسیجن کے پائپ پر بھی پاؤں رکھا ہوا ہے۔ برطانیہ میں رہنے والے پاکستانیوں کی سمجھ دار اکثریت کا خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے پاس سنہری موقع تھا کہ وہ اپنے ساڑھے آٹھ سالہ با اختیار دور حکومت میں کالا باغ ڈیم بنا جاتے، اداروں کو مستحکم کرنے کے لئے کرپٹ عناصر کو نشان عبرت بنا دیتے، ملک میں انصاف کی بالادستی کے لئے عدالتی اصلاحات کر جاتے، ہر ایک کے لئے بنیادی پرائمری تعلیم اور صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لئے کوئی نظام وضع کر دیتے، ٹیکس کے نظام کو موثر کرنے کے لئے ٹھوس حکمت عملی ترتیب دلوا دیتے تو آج کا پاکستان بہت مختلف پاکستان ہوتا لیکن انہوں نے بھی وہی کیا جو اُن سے پہلے فوجی حکمرانوں نے کیا ، وہ بھی مفاد پرست سیاستدانوں کے چنگل میں پھنس گئے…
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم
نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے رہے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker