فاروق عادلکالملکھاری

فاروق عادل کا کالم:کیا دسمبر تک نواز شریف کی واپسی ہو جائے گی؟

مسلم لیگ ن کے رہنما اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار ایوان اقتدار سے نکلے تھے تو جلاوطنی ان کا مقدر بنی تھی۔ یہ جلاوطن اسی شان کے ساتھ دوبارہ اپنے منصب پر ’بحال‘ ہو چکا ہے۔ مگر ان کی وطن واپسی اور وزیر خزانہ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد بعض حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ ان کے بعد کیا اب نواز شریف کی واپسی متوقع ہے؟
لیکن بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار اسحاق ڈار کی بطور وزیر خزانہ کارکردگی پر ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کی سوچ اور ارادے اس سلسلے میں کیا ہیں؟ اس کا اظہار اس جماعت کے نظریاتی کارکن اور وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کی ایک ٹویٹ سے ہوتا ہے۔
خواجہ سعد رفیق نے اسحاق ڈار کی جانب سے سینیٹ کی رکنیت کا حلف اٹھانے کے بعد ان کے ساتھ مسلم لیگی رہنماؤں کا ایک گروپ فوٹو ٹویٹ کیا جس کا عنوان تھا: ’ہوتا ہے جادہ پیما پھر کارواں ہمارا۔‘
سینیٹر اسحاق ڈار کی وطن واپسی کے بعد مسلم لیگ ن جس دور میں داخل ہوئی ہے، اس کے اظہار کے لیے لیگی رہنما کے خیال میں اس سے بہتر عنوان کوئی ہو نہیں سکتا۔
یہ مصرعہ علامہ اقبال کی معروف نظم ترانہ ملی سے لیا گیا ہے جس میں اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار کا ذکر کرنے کے بعد کارواں کی جانب منزل روانگی کی بات اس پس منظر میں کہی گئی ہے کہ یہ قافلہ ایک ایسے رہنما کی قیادت میں جانب منزل روانہ ہوا ہے جس کا کوئی متبادل نہیں۔
مسلم لیگ ن میں سینیٹر اسحاق ڈار کی پوزیشن بہرحال ایسی نہیں ہے کہ انھیں اس جماعت کا ایسا قائد قرار دیا جا سکے جس کے سامنے تمام چراغ بجھ جائیں۔ اس کے باوجود ان کی واپسی کو ایک عظیم عزم سفر سے تشبیہ دی گئی ہے تو اس کا کوئی تو مطلب ہے۔
لندن میں موجود قیادت سے براہ راست رابطہ رکھنے والے مسلم لیگی رہنما اس سلسلے میں نہایت اعتماد کے ساتھ اشارے دیتے ہیں کہ سینیٹر اسحاق ڈار کی پاکستان آمد دراصل میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی جانب پہلا قدم ہے اور زیادہ سے زیادہ اوائل دسمبر میں وہ پاکستان میں ہوں گے۔
کیا واقعی یہ تاثر درست ہے کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی بارش کا پہلا قطرہ ہے اور اب میاں صاحب آئے کہ آئے؟
اس سوال پر سابق گورنر سندھ اور نواز شریف و مریم نواز کے ترجمان محمد زبیر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ’بالکل۔ کچھ عرصہ پہلے تک صورت حال ایسی تھی جس کے تحت ہم مسائل کا شکار تھے اور ظلم برداشت کر رہے تھے لیکن حالات ایک سے کہاں رہتے ہیں۔ وقت بدلتا ہے اور تبدیلی بالآخر آتی ہے۔‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’اسحاق ڈار کی واپسی اس تبدیلی کا نکتہ آغاز ہے۔ اس کے بعد میاں صاحب نے وہاں کیا کرنا ہے؟ انھیں بھی واپس آنا ہے اور وہ آ رہے ہیں۔ ویسے بھی ڈار صاحب کی عدم موجودگی میں انھیں وہاں بور ہی ہونا تھا، وہ بور کیوں ہوں، انھیں واپس آنا ہے اور وہ آ رہے ہیں اور بہت جلد آ رہے ہیں۔‘
یوں گویا انھوں نے تصدیق کر دی کہ اسحاق ڈار کی واپسی دراصل میاں نواز شریف پاکستان واپسی کا پہلا قدم ہے۔
میاں نواز شریف پاکستان کی جانب دوسرا قدم کب اٹھائیں گے؟ اس سوال کا حتمی جواب اس منصوبے کی کامیابی میں ہے جس کے ساتھ اسحاق ڈار کی واپسی ہوئی ہے۔
سابق وزیر اعظم تک براہ راست رسائی رکھنے والے ممتاز صحافی اور تجزیہ کار سلمان غنی کا کہنا ہے کہ بجلی کی بڑھی ہوئی قیمتیں، پیٹرول و اشیائے صرف کے نرخوں میں ہوش ربا اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری اسحاق ڈار کے لیے سب سے بڑے چیلنج ہیں۔
کیا اسحاق ڈار ان چیلنجز سے کامیابی کے ساتھ نمٹنے میں کامیاب ہو جائیں گے؟ اس کا انحصار دو باتوں پر ہے۔
ان میں سے ایک پر بات کرتے ہوئے سلمان غنی کا کہنا تھا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ حکومتی سطح پر ایک مؤثر لابی اسحاق ڈار کی واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے پر پریشان تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے بعد انھیں حکومتی فیصلوں میں زیادہ آزادی نہیں رہے گی۔‘
وہ مزید کہتے ہیں کہ ’یہی سبب تھا کہ وہ مفتاح اسماعیل کی کامیابی کی خواہش مند رہی اور ماضی قریب میں ایک بار جب اسحاق ڈار کی واپسی کی خبریں سامنے آئیں تو اس موقع پر مسلم لیگ کا یہ حلقہ کھل کر سامنے آ گیا جس سے یہ تاثر قوی ہوا کہ خود پارٹی کے اندر ایک مؤثر لابی اسحاق ڈار کی واپسی نہیں چاہتی۔‘
البتہ محمد زبیر اس تاثر کو معمول کا اختلاف رائے قرار دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی اور وزارت خزانہ سنبھالنے کے فیصلے پر پوری جماعت مکمل طور پر متفق ہے۔
مسلم لیگ ن کے سندھ کے ایک رہنما نام ظاہر کرنے کی شرط پر کسی قدر مختلف بات کہتے ہیں۔ ان کی بات کو مختلف نکات میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔
وہ محمد زبیر کے اس تاثر کی تائید کرتے ہیں کہ اسحاق ڈار کی واپسی کے معاملے میں پارٹی میں اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ’یہ فیصلہ مرکزی قیادت نے کیا ہے جسے مفتاح اسماعیل نے ملک اور جماعت دونوں کے مفاد میں خوش دلی کے ساتھ تسلیم کیا ہے۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’مفتاح اب بھی معاشی ٹیم کا حصہ ہیں اور وہ اسحاق ڈار کی کامیابی کے لیے ان کی معاونت کریں گے۔‘
تاہم یہ ذریعہ سلمان غنی کی اس اطلاع کی بھی تصدیق کرتا ہے کہ پارٹی کا ایک مؤثر حصہ مفتاح اسماعیل کی کامیابی کے لیے سرگرم عمل رہا ہے۔
ان کے مطابق اس کا ایک خاص پس منظر ہے۔ پس منظر یہ تھا کہ اس سال کے اوائل میں جب تحریک عدم اعتماد کی تیاری پر کام جاری تھا، اس وقت لندن میں موجود قیادت اس کے حق میں نہیں تھی۔ اس کا خیال تھا کہ عمران خان کی حکومت اپنے ہی بوجھ تلے دب کر خود بخود ختم ہو جائے گی۔ اس لیے ان کی حکومت کی ناکامیوں کا بوجھ مسلم لیگ کو نہیں اٹھانا چاہیے۔
اس موقع پر تحریک عدم اعتماد کے حامی رہنماؤں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ انھیں یہ کام کر لینے دیا جائے۔ حکومت سنبھالنے کے بعد وہ نہ صرف معیشت کو سنبھالنے میں کامیاب ہو جائیں گے بلکہ عوام کو چند بڑی سہولتیں دے کر آئندہ انتخابات میں کامیابی کے لیے مسلم لیگ کے لیے آسانی پیدا کرنے میں بھی کامیاب ہو جائیں گے۔
اس موقع پر میاں نواز شریف نے تحریک عدم اعتماد کے حامی رہنماؤں کو آزادی دی کہ اگر وہ ایسا کر سکتے ہیں تو کر کے دیکھ لیں، انھیں کوئی اعتراض نہیں۔
حکومت میں آنے کے بعد دو میں سے ایک کام ہو گیا۔ مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف کے ساتھ کامیاب ڈیل کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچا لیا لیکن وہ عوام کو کوئی خاطر خواہ ریلیف دینے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
جس پر میاں نواز شریف نے فیصلوں کا اختیار واپس اپنے ہاتھ میں لے لیا اور اسحاق ڈار کو پاکستان بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔ میاں نواز شریف کے قریب اس کا بنیادی سبب یہ تھا کہ سخت اقتصادی فیصلوں کی وجہ سے پارٹی کی مقبولیت میں کمی ہو رہی تھی۔
مسلم لیگ ن کے سندھ سے رہنما تحریک عدم اعتماد کی حامی قیادت کو تو اسحاق ڈار کی راہ میں مزاحم نہیں دیکھتے البتہ ان کے خیال میں اسحاق ڈار اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ماضی کی تلخی ضرور رکاوٹ بن سکتی ہے۔
سابق گورنر محمد زبیر اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ ’اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کے ضمن ہمارا پی ٹی آئی اور عمران خان جیسا ایک صفحے والا کوئی دعویٰ نہیں ہے‘ اور نہ ان کی جماعت اس قسم کے دعوؤں پر یقین رکھتی ہے لیکن ان کے خیال میں یہ کہنے میں کوئی ہرج نہیں کہ قومی مفاد میں اداروں کے درمیان خوش گوار تعلق برقرار رہنا چاہیے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’آپ دیکھیں گے کہ ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان اسی قسم کی ہم آہنگی موجود ہے۔‘
محمد زبیر کا یہ دعویٰ کس بنیاد پر ہے؟ اس سلسلے میں دو اطلاعات دستیاب ہیں۔ ایک اطلاع مسلم لیگ کی اعلیٰ قیادت تک رسائی رکھنے والے صحافی طارق عزیز کی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ اس سلسلے میں مسلم لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے اہم کردار ادا کیا ہے جس کی بدولت اسحاق ڈار کے راستے کی یہ بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہے۔ اس اطلاع کی تائید مریم نواز کی ایک ویڈیو بھی کرتی ہے جس میں وہ کہتی ہیں کہ اسحاق ڈار کے لیے انھیں سخت محنت کرنی پڑی۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے خاموشی کے ساتھ میدان ہموار کیا گیا بلکہ انھیں سٹیج سیٹ کر کے دے دیا گیا لہذا اب مسلم لیگ ن کی تمام تر امیدیں اسحاق ڈار سے وابستہ ہیں۔
سلمان غنی کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار اس دعوے کے ساتھ پاکستان لوٹے ہیں کہ وہ ڈالر کو 185 روپے تک لانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔
وہ کہتے ہیں کہ اسحاق ڈار اگر ایسا نہیں بھی کر پاتے اور ڈالر دو سو روپے پر بھی آجاتا ہے تو انھیں سونے کا تاج پہنا دیا جائے گا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسحاق ڈار کی واپسی جن مقاصد کے لیے ہوئی ہے، اس میں قابل ذکر کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ اس کامیابی کے پس پشت مفتاح اسماعیل کی محنت بھی شامل ہو گی جس کی وجہ سے آئی ایم ایف سے تازہ مذاکرات کے نتیجے کچھ نئی رعایتوں کی یقین دہانی ہوئی ہے۔
اس کے علاوہ آٹھ ارب ڈالر کے قریب زرمبادلہ کے بڑھ جانے کا بھی امکان ہے۔ مسلم لیگ کو عالمی منڈی میں پیٹرول کی قیمتوں میں کمی نے بھی اس سلسلے میں اعتماد دیا ہے۔ مسلم لیگ کے نزدیک یہ ایسی ٹھوس بنیادیں ہیں جن کی مدد سے حکومت عوام کو نمایاں سہولتیں دینے میں کامیاب ہو جائے گی۔
توقع کی جارہی تھی کہ ان سہولتوں کی ابتدا فوری طور پر پیٹرول کے نرخوں میں نمایاں کمی سے ہو گی اور جمعے کی رات ایسا ہی ہوا جب وفاقی حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 12 روپے سے زائد کی کمی کا اعلان کیا۔
مسلم لیگ کا یہی منصوبہ ہے جو توقع کے مطابق کامیاب ہو جاتا ہے تو دسمبر کا مہینہ نواز شریف کی واپسی کا مہینہ بن سکتا ہے اور وہ وطن واپس آ کر اپنی جماعت کی انتخابی مہم کی قیادت کر سکتے ہیں۔
یوں آئندہ عام انتخابات وقت سے کسی قدر پہلے یعنی مارچ میں کروائے جانے کا امکان پیدا ہو سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق لندن میں یہی فیصلہ ہوا ہے کہ عوام کو نمایاں ریلیف دے کر انتخابات کی طرف بڑھا جائے۔ محمد زبیر کی گفتگو سے اس حکمت عملی کی بالواسطہ تصدیق ہوتی ہے۔
وہ کہتے ہیں کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس وقت تک معیشت کو مضبوط بنایا جائے اور عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولت دی جائے۔ اس کے بعد یعنی مارچ کے بعد بھی عوام کو اگر مزید سہولیات بھی فراہم کر دی جائیں اور معیشت کو بھی مزید مضبوط بنا دیا جائے تو اس میں کیا ہرج ہے۔‘
محمد زبیر مارچ میں انتخابات کی دو ٹوک بات نہیں کرتے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ عمران خان فوری انتخابات کے لیے حکومت کر مجبور کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں لیکن ان کے جواب میں اس جانب اشارہ ضرور ملتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی دو ٹوک بات کہہ کر وزیر اعظم شہباز شریف کے موقف کی تردید مناسب نہیں سمجھتے جنھوں نے بیرونی دورے کے بعد پرس کانفرنس میں اعلان کیا ہے کہ انتخابات اپنے شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
اس قسم کے اعلانات حکومت کی سیاسی ضرورت ہوتے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اسحاق ڈار اس وقت مسلم لیگ ن کی امیدوں کا واحد مرکز ہیں اور آنے والے دنوں میں جو سیاسی منظر نامہ تشکیل پانا ہے، اس کا تمام تر انحصار اسحاق ڈار کی کارکردگی پر ہے۔
(بشکریہ: آوازہ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker